🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

102. قِصَّةُ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَمَسْخِهِمْ قِرَدَةً
بنی اسرائیل کا بندر بنا دیے جانے کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3293
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا الرَّبيع بن سليمان، أخبرنا الشافعي، أخبرني يحيى بن سُلَيم، حدثنا ابن جُرَيج، عن عِكْرمة قال: دخلتُ على ابن عبَّاس وهو يقرأ في المُصحَف قبل أن يذهب بصرُه وهو يبكي، فقلت: ما يبكيكَ يا أبا عبَّاس جعلني اللهُ فداكَ؟ قال: فقال: هل تعرفُ أَيْلةَ؟ قلت: وما أَيلةُ؟ قال: قريةٌ كان بها ناس من اليهود فحَرَّم الله عليهم الحيتان يوم السبت، فكانت حِيتانُهم تأتيهم يومَ سَبتِهم، شُرَّعًا بِيضًا سِمانًا كأمثال المَخَاض بأفنِياتِهم وأبنِياتِهم (1) ، فإذا كان في غير يوم السبت لم يَجِدُوها، ولم يُدرِكوها إلَّا في مَشَقَّة ومُؤْنة شديدة، فقال بعضهم لبعض، أو من قال ذلك منهم: لعلَّنا لو أخذناها يومَ السبت وأكلناها في غير يوم السبت، ففعل ذلك أهلُ بيتٍ منهم فأَخذوا فشَوَوْا فوَجَدَ جيرانُهم ريحَ الشِّواء، فقالوا: واللهِ -ما نُرَى أصاب (2) بني فلان شيءٌ، فأخذها آخرون، حتى فَشَا ذلك فيهم وكَثُر، فافترقوا فِرَقًا ثلاثًا: فِرقةً أكَلَت، وفرقةً نَهَتْ، وفرقةً قالت: ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا﴾ [الأعراف: 164] فقالت الفرقة التي نهت: إنّا نُحذِّركم غضبَ الله وعقابه، أن يصيبكم بخَسْفٍ أو قَذفٍ أو ببعضِ ما عندَه من العذاب، والله لا نُبايِتُكم في مكان وأنتم فيه، وخرجوا من السُّور. فغَدَوْا عليه من الغد، فضربوا بابَ السُّور فلم يُجِبْهم أحد، فأتَوْا بسَبَبٍ (3) فأَسنَدوه إلى السور، ثم رَقِيَ منهم راقٍ على السور، فقال: يا عبادَ الله، قِرَدةٌ واللهِ لها أذنابٌ تَعَاوَى، ثلاث مرات، ثم نزل من السور ففَتَح السور، فدخل الناس عليهم، فَعَرَفَت القردةُ أنسابها من الإنس ولم تعرف الإنسُ أنسابَها من القردة، قال: فيأتي القردُ إلى نَسيبِه وقريبِه من الإنس فيَحتَكُّ به ويَلصَقُ، ويقول الإنسان: أنتَ فلان؟ فيشير برأسه؛ أي: نَعَم، ويبكي، وتأتي القردةُ إلى نسيبها وقريبها من الإنس فيقول لها: أنتِ فلانة؟ فتشير برأسها؛ أي: نَعَم، وتبكي، فيقول لهم الإنس: أمَا إنَّا حذَّرناكم غضبَ الله وعقابَه أن يصيبَكم بخَسْف أو مَسْخ أو ببعضِ ما عندَه من العذاب، قال ابن عبَّاس: فاسمَع الله يقول: ﴿أَنْجَيْنَا الَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوءِ وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا بِعَذَابٍ بَئِيسٍ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ﴾ [الأعراف: 165] ، فلا أدري ما فَعَلَت الفِرقةُ الثالثةُ. قال ابن عبَّاس: فكم قد رأَينا من مُنكَرٍ، فلم نَنْه عنه! قال عكرمةُ: فقلت: ما ترى -جعلني اللهُ فداكَ- أنهم قد أَنكروا وكَرِهوا حين قالوا: ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا﴾؟ فأَعجبه قولي ذلك، وأَمَرَ لي ببُردينِ غليظين فكَسانِيهِما (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3254 - صحيح
سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں ایک دفعہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا، اس وقت وہ قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے اور رو رہے تھے۔ یہ ان کی بینائی ختم ہو جانے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ میں نے ان سے کہا: میری جان آپ پر فدا ہو جائے، آپ رو کیوں رہے ہیں؟ انہوں نے جواباً کہا: کیا تم ایلہ کے بارے میں جانتے ہو؟ میں نے پوچھا: ایلہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ ایک بستی ہے، جس میں یہودی آباد تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر ہفتہ کے دن مچھلیوں کا شکار حرام کیا تھا لیکن ہفتہ کے دن سفید رنگ کی موٹی تازی مچھلیاں جو بچھڑے کے برابر ہوتیں، بہت وافر مقدار میں امنڈ امنڈ کر آتیں اور جب ہفتہ کا دن گزر جاتا تو ایک آدھ مچھلی وہ بھی بہت محنت اور مشقت کے بعد ہاتھ لگتی۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اگر ہم ہفتہ کے دن مچھلیاں صرف پکڑ لیں اور یہ دن گزار کر کھا لیا کریں (تو حکمِ الٰہی کی نافرمانی سے بھی بچ جائیں اور مچھلیاں بھی ہاتھ سے نہ جائیں) چنانچہ ان میں سے ایک گھر نے اس پر عمل کر لیا۔ انہوں نے اسی طریقہ سے مچھلیاں پکڑ لیں اور ان کو بھون لیا، جب بھوننے کی خوشبو ان کے پڑوسیوں تک پہنچی تو وہ بولے: خدا کی قسم! فلاں قبیلے کے لوگ تو اس معاملہ میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ پھر دوسروں نے بھی اسی عمل کو اپنا لیا اور (آہستہ آہستہ) ان میں یہ عمل بہت کثرت سے پھیل گیا (اس کے نتیجے میں) ان کے تین گروپ بن گئے۔ ایک جماعت تو مچھلیاں کھاتی تھی اور ایک جماعت اس کی سخت مخالف تھی اور ایک جماعت ایسی تھی جو کہتی تھی: تم اس قوم کو نصیحت کیوں کر رہے ہو جن کو خود اللہ تعالیٰ نے ہلاک کیا یا جن کو سخت عذاب دے گا۔ روکنے والی جماعت نے کہا: ہم تمہیں اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب سے ڈراتے ہیں کہ کہیں تم زمین میں دھنسا دیئے جاؤ یا اللہ تعالیٰ کا کوئی اور عذاب تم تک پہنچے۔ خدا کی قسم ہم تمہیں خبردار کرتے ہیں کہ تم جس مکان میں ہو (یہیں تم پر عذاب آئے گا۔ یہ کہہ کر) وہ لوگ دیواروں سے باہر نکل آئے، اور اگلے دن صبح سویرے ان کے دروازوں پر دستک دی لیکن ان میں سے کسی نے بھی جواب نہ دیا وہ سیڑھی لگا کر دیوار سے چڑھے اور جھانک کر دیکھا تو بولے: اے اللہ تعالیٰ کے بندو! (یہاں پر تو) بندر ہیں، خدا کی قسم ان کی دُمیں ہیں، وہ تین مرتبہ بھونکے، پھر وہ لوگ دیواروں سے نیچے اُترے اور دروازہ کھولا اور لوگ مکان کے اندر داخل ہو گئے تو ان بندروں نے انسانوں میں سے اپنے رشتہ داروں کو پہچان لیا لیکن انسان ان بندروں میں اپنے رشتہ داروں کو نہ پہچان سکے (آپ فرماتے ہیں) بندر اپنے انسان رشتہ دار کے پاس آتا اور اس کے ساتھ لپٹتا، وہ انسان اس سے پوچھتا: تو فلاں ہے؟ تو وہ اپنے سر کے اشارے سے کہتا: ہاں، اور رونے لگ جاتا اور بندریا، اپنے انسان رشتہ دار کے پاس آتی، انسان اس سے پوچھتا: تو فلاں عورت ہے؟ وہ اپنے سر کے اشارے سے کہتی: ہاں، اور رو پڑتی، تو انسان اس کو کہتا: کیا ہم تمہیں اس بات سے ڈراتے نہیں تھے کہ کہیں تم دھنسا دیئے جاؤ یا تمہاری شکلیں بگاڑ دی جائیں یا کوئی اور عذاب تم پر آ جائے؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: تو اللہ تعالیٰ نے سنایا کہ وہ یہ کہے: فانْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْھَوْنَ عَنِ السُّوْٓئِ وَ اَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍ بَئِیْسٍ بِمَا کَانُوْا یَفْسُقُوْنَ (الاعراف: 165) ہم نے بچا لئے وہ جو برائی سے منع کرتے تھے اور ظالموں کو برے عذاب میں پکڑا بدلہ ان کی نافرمانی کا ۔ اور تیسری جماعت کے ساتھ کیا ہوا؟ مجھے یہ معلوم نہیں ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم کتنے ہی لوگوں کو گناہوں میں مبتلا دیکھتے ہیں لیکن انہیں منع نہیں کرتے۔ سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کر دے، انہوں نے جب نافرمانوں کو اتنا کہہ دیا تم ایسی قوم کو کیوں نصیحت کرتے ہو اللہ تعالیٰ خود جن کو ہلاک کرنے والا ہے یا ان کو شدید عذاب دینے والا ہے تو گویا کہ انہوں نے ان کو اس گناہ سے روکا ہی ہے اور اس سے نفرت کی ہے تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو میری یہ بات بہت اچھی لگی، آپ نے (اس کے انعام میں) مجھے دو قیمتی جبے پہنائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3293]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں