🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

130. عِلَّةُ ذِهَابِ بَصَرِ يَعْقُوبَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَمُصَابِهِ
سیدنا یعقوب علیہ السلام کی بینائی جانے اور ان کے غم کی وجہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3368
حدثنا الشيخ أبو الوليد الفقيه، حدثنا خُشْنام (1) بن بِشْر، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا يحيى بن عبد الملك بن أبي غَنِيَّة، عن حفص بن عمر بن الزُّبير، عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ:"كان ليعقوبَ النبيِّ ﵇ أخٌ مُؤاخِيًا في الله، فقال ذاتَ يوم: يا يعقوبُ، ما الذي أذهَبَ بصرَك؟ وما الذي قوَّسَ ظَهرَك؟ قال: فقال: أمَّا الذي أذهَبَ بصري فالبكاءُ على يوسف، وأما الذي قوَّسَ ظَهري فالحزنُ على ابني يامين، قال: فأتاه جبريلُ ﵇ فقال: يا يعقوبُ، إِنَّ الله يُقرِئك السلامَ ويقول: أما تستحيي تَشكُوني إلى غيري، قال: فقال يعقوب: ﴿إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ﴾ [يوسف: 86] فقال جبريل: أعلم ما تَشكُو يا يعقوب، قال: ثم قال يعقوب: أيْ ربِّ، أما تَرحمُ الشيخَ الكبير، أذهبتَ بصري وقوَّستَ ظهري، فاردُدْ عليَّ رَيْحانتي أشَمَّه شمًّا قبل الموت، ثم اصنَعْ بي ما أردتَ، قال: فأتاه جبريل فقال: إِنَّ الله يُقرِئُك السلامَ ويقول لك: أبشِرْ وليَفرَحْ قلبُك، فوَعِزَّتي لو كانا ميتين لنَشَرتُهما، فاصنَعْ طعامًا للمساكين، فإنَّ أحبَّ عبادي إليَّ الأنبياءُ والمساكينُ، وتدري لِمَ أذهبتُ بصرَك، وقوَّستُ ظهرَك وصَنَعَ إخوةُ يوسفَ به ما صنعوا؟ إنكم ذبحتُم شاةً فأتاكم مسكينٌ يتيمٌ وهو صائم، فلم تُطعِموه منه شيئًا، قال: فكان يعقوب بعدُ إذا أراد الغَداءَ أَمر مناديًا فنادى: ألَا من أراد الغداءَ من المساكين فليتَغدَّ مع يعقوب، وإذا كان صائمًا أَمر مناديًا فنادى: ألا من كان صائمًا من المساكين فليُفطِرْ مع يعقوب (2) . قال الحاكم: هكذا في سماعي بخطِّ يدي: حفص بن عمر بن الزُّبير، وأظنُّ الزبيرَ وهمًا من الراوي، فإنه حفصُ بن عمر بن عبد الله بن أبي طَلْحة الأنصاري ابنُ أخي أنس بن مالك، فإن كان كذلك فالحديثُ صحيح! وقد أخرج الإمام أبو يعقوب إسحاقُ بن إبراهيم الحَنظَلي هذا الحديثَ في التفسير مرسَلًا:
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نبی سیدنا یعقوب علیہ السلام کے ایک منہ بولے بھائی تھے، ایک دن انہوں نے پوچھا: اے یعقوب علیہ السلام! آپ کی بینائی کیوں زائل ہو گئی ہے؟ اور آپ کی کمر کیوں جھک گئی ہے؟ یعقوب علیہ السلام نے فرمایا: میری بینائی زائل ہونے کی وجہ یوسف علیہ السلام کے فراق میں رونا ہے اور میرے بیٹے یامین کے غم میں میری کمر خم ہو گئی ہے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے یعقوب علیہ السلام! اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے: تمہیں اس بات سے حیاء نہیں آتی، تم میرے غیر کے پاس میرا شکوہ کر رہے ہو (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: پھر سیدنا یعقوب علیہ السلام نے کہا: میں تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ تعالیٰ ہی سے کرتا ہوں۔ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: اے یعقوب علیہ السلام! میں جانتا ہوں جو آپ شکایت کر رہے ہیں۔ پھر سیدنا یعقوب علیہ السلام نے کہا: اے میرے رب! کیا تو اس بوڑھے ضعیف پر رحم نہیں کرتا تو نے میری بینائی زائل کر دی ہے اور مجھے کج پشت کر دیا ہے تو میری خوشبو مجھے لوٹا دے، میں مرنے سے پہلے اس کو سونگھ لوں پھر تو جو چاہے میرے ساتھ معاملہ کر لے۔ پھر سیدنا جبرائیل علیہ السلام ان کے پاس آئے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہہ رہا ہے اور آپ سے فرما رہا ہے: تو خوش ہو جا اور تیرا دل شادمان ہو جائے، مجھے میری عزت کی قسم ہے اگر وہ (تیرے بیٹے) مر بھی گئے ہوتے تب بھی ہم ان کو زندہ کر کے آپ سے ملا دیتے۔ آپ مسکینوں کے لیے کھانا تیار کریں (اور ان کو کھلائیں) کیونکہ میرے بندوں میں سے انبیاء کرام اور مساکین مجھے سب سے زیادہ پیارے ہیں۔ کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے تمہاری بینائی کیوں زائل کی اور تمہاری پشت ٹیڑھی کیوں کی؟ اور یوسف علیہ السلام کے ساتھ اس کے بھائیوں نے جو رویہ اختیار کیا تھا وہ کیوں ہوا؟ (اس کی وجہ یہ تھی کہ) ایک دفعہ تم نے بکری ذبح کی تھی تمہارے پاس ایک یتیم مسکین آیا تھا اور وہ روزہ دار تھا لیکن تم نے اس کو کچھ بھی نہ کھلایا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا اس کے بعد یعقوب علیہ السلام نے یہ عادت بنا لی تھی کہ جب ناشتہ کرنے لگتے تو منادی کو حکم دیتے وہ ندا دیتا کہ جو کوئی ناشتہ کرنا چاہتا ہے، وہ یعقوب علیہ السلام کے ہمراہ ناشتہ کر لے اور جب آپ روزہ رکھتے (اور افطار کرنے لگتے) تو منادی کو حکم دیتے، وہ یہ اعلان کرتا جو کوئی مسکین روزہ دار ہو، وہ یعقوب علیہ السلام کے ہمراہ روزہ افطار کرے۔ ٭٭ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: حفص بن عمر بن الزبیر کے ہاتھ کی تحریر کے بارے میں میری اطلاع یہی ہے اور میرا خیال ہے کہ الزبیر راوی کی غلطی ہے کیونکہ یہ حفص بن عمر بن عبداللہ بن ابی طلحہ انصاری ہیں جو کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بھتیجے ہیں اور اگر حقیقت یہی ہے تو یہ حدیث صحیح ہے۔ اور امام ابویعقوب اسحاق بن ابراہیم الحنظلی نے اس حدیث کو تفسیر میں مرسلاً درج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3368]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3369
أخبرَناه أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا عمرو بن محمد، حدثنا زافرُ بن سليمان، عن يحيى بن عبد الملك، عن أنس بن مالك، عن رسول الله ﷺ قال:"كان ليعقوبَ أخٌ مُؤاخِيًا" فذكر الحديث بنحوه (1) .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سیدنا یعقوب علیہ السلام کا ایک منہ بولا بھائی تھا۔ پھر اس کے بعد گزشتہ حدیث جیسی حدیث بیان کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3369]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں