المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
129. تَفْسِيرُ: (لَوْلَا أَنْ رَأَىَ بُرْهَانَ رَبِّهِ)
آیت“اگر وہ اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لیتا”کی تفسیر
حدیث نمبر: 3362
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفَّان العامري، حدثنا يحيى بن آدم، حدثنا إسرائيل، عن أبي حَصِين، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله تعالى: ﴿لَوْلَا أَنْ رَأَى بُرْهَانَ رَبِّهِ﴾ [يوسف: 24] ، قال: مُثِّل له يعقوبُ، فضرب صدرَه فخرجت شهوتُه من أناملِه (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3322 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3322 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿لَوْلَا أَنْ رَأَى بُرْهَانَ رَبِّهِ﴾ [سورة يوسف: 24] ”اگر وہ اپنے رب کی نشانی نہ دیکھ لیتے“ کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: (اس وقت) ان کے سامنے سیدنا یعقوب علیہ السلام کی تمثیل ظاہر ہوئی، انہوں نے یوسف علیہ السلام کے سینے پر مارا تو ان کی شہوت ان کے پوروں سے نکل گئی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3362]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3362]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وهو موقوف. أبو حصين: هو عثمان بن عاصم الأسدي.» [ترقيم الرساله 3362] [ترقيم الشركة 3342] [ترقيم العلميه 3322]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3363
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مِهْران الأصبهاني، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا إسرائيل، عن خُصَيف، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: عَثَرَ يوسفُ ثلاثَ عَثَراتٍ: حين هَمَّ بها، فسُجِن، وقوله للرجل: اذْكُرْني عند ربك، فلَبِثَ في السجن بِضعَ سنين فأنساه الشيطانُ ذِكرَ ربِّه، وقوله لهم: إنكم لَسارقون (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3323 - هو خبر منكر
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3323 - هو خبر منكر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: سیدنا یوسف علیہ السلام سے تین لغزشیں ہوئیں: ایک جب ان کا میلان اس عورت کی طرف ہوا تو وہ قید کر دیے گئے، دوسرا ان کا اس شخص سے یہ کہنا کہ: ”اپنے رب (بادشاہ) کے پاس میرا ذکر کرنا“، تو وہ کئی سال قید میں رہے کیونکہ شیطان نے اسے اپنے رب کا ذکر بھلا دیا تھا، اور تیسرا ان کا (اپنے بھائیوں سے) یہ کہنا کہ: ”بیشک تم چور ہو“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3363]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3363]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، خصيف - وهو ابن عبد الرحمن الجزري - سيئ الحفظ، وقد تفرَّد به، وبه أعلَّه الذهبي في "تلخيصه" وقال: هو خبر منكر. وأخرجه البيهقي في "الزهد" (362) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 3363] [ترقيم الشركة 3343] [ترقيم العلميه 3323]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 3364
أخبرني الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا موسى بن مسعود، حدثنا سفيان، عن عُمَارة بن القَعقاع الضَّبِّي، عن إبراهيم، عن الأسوَد، عن عبد الله: ﴿قُضِيَ الْأَمْرُ الَّذِي فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ﴾ [يوسف: 41] ، قال: لمَّا حَكَيا ما رأياه وعَبَرَ يوسفُ ﵇، قال أحدهما: ما رأَيْنا شيئًا، فقال: قُضِيَ الأمرُ الذي فيه تَستَفْتِيان (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿قُضِيَ الْأَمْرُ الَّذِي فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ﴾ [سورة يوسف: 41] ”اس بات کا فیصلہ کر دیا گیا ہے جس کے بارے میں تم پوچھ رہے تھے“ کے بارے میں مروی ہے کہ جب ان دونوں قیدیوں نے وہ خواب بیان کیے جو انہوں نے دیکھے تھے اور سیدنا یوسف علیہ السلام نے ان کی تعبیر بیان فرما دی، تو ان میں سے ایک نے (خوفزدہ ہو کر) کہا: ہم نے تو کچھ نہیں دیکھا تھا، اس پر یوسف علیہ السلام نے فرمایا: ”اس معاملے کا فیصلہ ہو چکا جس کے بارے میں تم دریافت کر رہے تھے“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3364]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3364]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل موسى بن مسعود: وهو أبو حذيفة النهدي. سفيان: هو الثوري، وإبراهيم: هو ابن يزيد النخعي، والأسود: هو ابن يزيد النخعي خال إبراهيم.» [ترقيم الرساله 3364] [ترقيم الشركة 3344]
الحكم على الحديث: خبر صحيح
حدیث نمبر: 3365
حدثنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا الحسن بن مُكرَم، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ الكريمَ ابنَ الكريمِ ابنِ الكريمِ ابن الكريم، يوسفُ بن يعقوبَ ابن إسحاقَ بنِ إبراهيمَ خليلِ الرَّحمن. ولو لَبِثْتُ ما لَبِثَ يوسفُ ثم جاءني الداعي لأجبتُ، إذ جاءه الرسولُ فقال: ﴿ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ﴾ [يوسف: 50] " (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتَّفقا على حديث الزُّهْري عن سعيد وأبي عُبيد عن أبي هريرة:"لو لبثتُ في السجن ما لَبِثَ يوسف" فقط (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3325 - وقد اتفقا على حديث سعيد وابن عبيد عن أبي هريرة
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتَّفقا على حديث الزُّهْري عن سعيد وأبي عُبيد عن أبي هريرة:"لو لبثتُ في السجن ما لَبِثَ يوسف" فقط (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3325 - وقد اتفقا على حديث سعيد وابن عبيد عن أبي هريرة
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک معزز، معزز کے بیٹے، معزز کے پوتے اور معزز کے پڑپوتے یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم خلیل الرحمن علیہم السلام ہیں۔ اور اگر میں قید خانے میں اتنی مدت رہتا جتنی یوسف علیہ السلام رہے اور پھر میرے پاس بلانے والا آتا تو میں اسے فوراً قبول کر لیتا، جبکہ ان کے پاس جب بادشاہ کا قاصد آیا تو انہوں نے (رہائی کے بجائے) فرمایا: ﴿ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ﴾ [سورة يوسف: 50] ”اپنے رب (بادشاہ) کے پاس واپس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ تھا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے؟ بیشک میرا رب ان کے مکر سے خوب واقف ہے“۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اس مکمل سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، البتہ انہوں نے زہری کی روایت جو سعید اور ابوعبید سے ہے، اس میں صرف یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”اگر میں قید خانے میں اتنی مدت رہتا جتنی یوسف (علیہ السلام) رہے“۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3365]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اس مکمل سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، البتہ انہوں نے زہری کی روایت جو سعید اور ابوعبید سے ہے، اس میں صرف یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”اگر میں قید خانے میں اتنی مدت رہتا جتنی یوسف (علیہ السلام) رہے“۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3365]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذ إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة بن وقاص الليثي.» [ترقيم الرساله 3365] [ترقيم الشركة 3345] [ترقيم العلميه 3325]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3366
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سِنَان القزَّاز، حدثنا أبو عامر العَقَدي، حدثنا موسى بن عُليِّ بن رَبَاح، عن أبيه قال: استَأذنَ رجلٌ على عمر فقال: استأذِنوا لابن الأخيار، فقال عمر: ائذَنوا لابن الأخيار، فلما دخل قال له عمر: من أنت؟ قال: أنا فلانُ بنُ فلان بنِ فلان، قال: فجعل يَعُدُّ رجالًا من أشراف الجاهلية، فقال له عمر: أنت يوسفُ بنُ يعقوبَ بن إسحاقَ بنِ إبراهيم؟ قال: لا، قال: ذاك ابنُ الأخيارِ، وأنت ابنُ الأشرار، إنما تعدُّ عليَّ رجالَ أهل النار (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وعُليُّ بن رباح تابعيٌّ كبير.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3326 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وعُليُّ بن رباح تابعيٌّ كبير.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3326 - على شرط مسلم
موسی بن علی بن رباح اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ایک شخص نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کی اجازت مانگی اور (دربان سے) کہا: ”بہترین لوگوں کے بیٹے کے لیے اجازت طلب کرو۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس بہترین لوگوں کے بیٹے کو اندر آنے کی اجازت دے دو۔“ جب وہ اندر آیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: ”تم کون ہو؟“ اس نے جواب دیا: ”میں فلاں بن فلاں بن فلاں ہوں۔“ وہ دور جاہلیت کے معزز لوگوں میں سے اپنے آباؤ اجداد گننے لگا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”کیا تم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ہو؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ آپ نے فرمایا: ”وہ (سیدنا یوسف علیہ السلام) ہیں بہترین لوگوں کے بیٹے، جبکہ تم تو بدترین لوگوں کے بیٹے ہو، تم میرے سامنے جہنمیوں کے نام گنوا رہے ہو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور علی بن رباح کبار تابعین میں سے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3366]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور علی بن رباح کبار تابعین میں سے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3366]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، محمد بن سنان القزاز مختلف فيه وقد تفرَّد به، وعُلي بن رباح لم يدرك السماع من عمر بن الخطاب وُلد بالمغرب في آخر خلافة عمر أو صدر خلافة عثمان. أبو عامر العقدي: هو عبد الملك بن عمرو.» [ترقيم الرساله 3366] [ترقيم الشركة 3346] [ترقيم العلميه 3326]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 3367
أخبرني أبو بكر محمد بن أحمد المزكِّي بمَرْو، حدثنا عبد الله بن رَوْح المَدائِني، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا هشام بن حسان، عن محمد بن سِيرين، عن أبي هريرة قال: قال لي عمر: يا عدوَّ الله وعدوَّ الإسلام، خُنْتَ مالَ الله، قال: قلت: لستُ عدوَّ الله، ولا عدوَّ الإسلام، ولكني عدوُّ من عاداهما، ولم أَخُنْ مالَ الله، ولكنها أثمانُ إبلي وسهامٌ اجتمَعَت، قال: فأعادها عليَّ وأعدتُ عليه هذا الكلام، قال: فغرَّمني اثني عشر ألفًا، قال: فقمتُ في صلاة الغَدَاة فقلت: اللهمَّ اغفِرْ لأمير المؤمنين. فلما كان بعدَ ذلك أرادني على العمل، فأَبيتُ عليه، فقال: لِمَ وقد سأل يوسفُ العملَ وكان خيرًا منك؟ فقلت: إنَّ يوسف نبيٌّ ابنُ نبيٍّ ابنِ نبيٍّ ابنِ نبيّ، وأنا ابن أُمَيْمةٍ، وأنا أخاف ثلاثًا واثنتين، قال: أوَلا (1) تقول: خمسًا؟ قلت: لا، قال: فآتِهنَّ، قلت: أخاف أن أقولَ بغير علم، وأن أُفتيَ بغير علم، وأن يُضَرَبَ ظَهْري، ويُشتَمَ عِرْضي، وأن يُؤخَذَ مالي بالضرب (2) .
هذا حديث بإسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3327 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث بإسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3327 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: ”اے اللہ کے دشمن اور اسلام کے دشمن! تم نے اللہ کے مال میں خیانت کی ہے۔“ میں نے عرض کیا: ”میں نہ تو اللہ کا دشمن ہوں اور نہ اسلام کا دشمن ہوں، بلکہ میں تو ان کا دشمن ہوں جو ان دونوں سے دشمنی رکھے۔ اور میں نے اللہ کے مال میں کوئی خیانت نہیں کی، بلکہ یہ تو میرے اونٹوں کی قیمتیں اور وہ حصے ہیں جو جمع ہو گئے تھے۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ پر دوبارہ یہی بات دہرائی اور میں نے بھی وہی جواب دہرایا۔ انہوں نے مجھ پر بارہ ہزار کا جرمانہ عائد کر دیا۔ پھر میں صبح کی نماز میں کھڑا ہوا تو میں نے دعا کی: «اللهمَّ اغفِرْ لأمير المؤمنين» ”اے اللہ! امیر المومنین کی مغفرت فرما۔“ پھر اس واقعے کے کچھ عرصہ بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے دوبارہ ایک عہدے کی پیشکش کی تو میں نے انکار کر دیا۔ انہوں نے پوچھا: ”تم کیوں انکار کر رہے ہو جبکہ سیدنا یوسف علیہ السلام نے خود عہدہ مانگا تھا اور وہ تم سے بہت بہتر تھے؟“ میں نے جواب دیا: ”بے شک سیدنا یوسف علیہ السلام نبی، ابن نبی، ابن نبی، ابن نبی تھے، اور میں تو امیمہ کا بیٹا ہوں، اور مجھے تین اور دو (یعنی پانچ) باتوں کا ڈر ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تم سیدھا پانچ نہیں کہہ سکتے؟“ میں نے کہا: ”نہیں۔“ انہوں نے پوچھا: ”بتاؤ وہ کیا ہیں؟“ میں نے کہا: ”مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ میں علم کے بغیر کوئی بات کہوں، علم کے بغیر فتویٰ دوں، میری پیٹھ پر کوڑے مارے جائیں، میری عزت اچھالی جائے اور مجھے مار پیٹ کر میرا مال چھین لیا جائے۔“
اس حدیث کی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3367]
اس حدیث کی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3367]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 3367] [ترقيم الشركة 3347] [ترقيم العلميه 3327]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح