🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

129. تَفْسِيرُ: (لَوْلَا أَنْ رَأَىَ بُرْهَانَ رَبِّهِ)
آیت“اگر وہ اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لیتا”کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3362
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفَّان العامري، حدثنا يحيى بن آدم، حدثنا إسرائيل، عن أبي حَصِين، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله تعالى: ﴿لَوْلَا أَنْ رَأَى بُرْهَانَ رَبِّهِ﴾ [يوسف: 24] ، قال: مُثِّل له يعقوبُ، فضرب صدرَه فخرجت شهوتُه من أناملِه (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3322 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، اللہ تعالیٰ کے ارشاد: لَوْلَآ اَنْ رَّاٰی بُرْھَانَ رَبِّہٖ (یوسف: 24) اگر اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لیتا کے متعلق فرماتے ہیں۔ ان کے سامنے سیدنا یعقوب علیہ السلام کی شخصیت لائی گئی، انہوں نے ان کے سینے پر مارا جس سے ان کی تمام شہوت ان کی انگلیوں کے پوروں کے راستے خارج ہو گئی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3362]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3363
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مِهْران الأصبهاني، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا إسرائيل، عن خُصَيف، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: عَثَرَ يوسفُ ثلاثَ عَثَراتٍ: حين هَمَّ بها، فسُجِن، وقوله للرجل: اذْكُرْني عند ربك، فلَبِثَ في السجن بِضعَ سنين فأنساه الشيطانُ ذِكرَ ربِّه، وقوله لهم: إنكم لَسارقون (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3323 - هو خبر منكر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا یوسف علیہ السلام تین مرتبہ پھسلے: (1) جب انہوں نے زلیخا کا ارادہ کیا تو قید کر دیئے گئے۔ (2) جب آپ نے (رہائی پانے والے قیدی) آدمی سے کہا تھا: اپنے بادشاہ کے پاس میرا ذکر کرنا، پھر وہ کئی سال جیل میں رہے کیونکہ شیطان نے اس کو یہ بات بھلا دی تھی۔ جب یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کے متعلق کہا تھا۔ اِنَّکُمْ لَسٰرِقُوْنَ (یوسف: 70) بیشک تم چور ہو ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3363]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3364
أخبرني الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا موسى بن مسعود، حدثنا سفيان، عن عُمَارة بن القَعقاع الضَّبِّي، عن إبراهيم، عن الأسوَد، عن عبد الله: ﴿قُضِيَ الْأَمْرُ الَّذِي فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ﴾ [يوسف: 41] ، قال: لمَّا حَكَيا ما رأياه وعَبَرَ يوسفُ ﵇، قال أحدهما: ما رأَيْنا شيئًا، فقال: قُضِيَ الأمرُ الذي فيه تَستَفْتِيان (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس آیت: قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْہِ تَسْتَفْتِیٰنِ (یوسف: 41) حکم ہو چکا اس بات کا جس کا تم سوال کرتے تھے (کے بارے میں) فرماتے ہیں: جب سیدنا یوسف علیہ السلام نے ان دونوں کی (بیان کردہ) خوابوں کی تعبیر بیان کر دی تو ان میں سے ایک نے کہا: ہم نے تو کچھ دیکھا ہی نہیں (بلکہ ہم نے تو سراسر جھوٹ بولا تھا) تو سیدنا یوسف علیہ السلام نے فرمایا: تم لوگوں نے جو پوچھا تھا اس کے متعلق فیصلہ کر دیا گیا ہے (خواب تم نے دیکھا تھا یا نہیں) ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3364]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3365
حدثنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا الحسن بن مُكرَم، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ الكريمَ ابنَ الكريمِ ابنِ الكريمِ ابن الكريم، يوسفُ بن يعقوبَ ابن إسحاقَ بنِ إبراهيمَ خليلِ الرَّحمن. ولو لَبِثْتُ ما لَبِثَ يوسفُ ثم جاءني الداعي لأجبتُ، إذ جاءه الرسولُ فقال: ﴿ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ﴾ [يوسف: 50] " (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتَّفقا على حديث الزُّهْري عن سعيد وأبي عُبيد عن أبي هريرة:"لو لبثتُ في السجن ما لَبِثَ يوسف" فقط (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3325 - وقد اتفقا على حديث سعيد وابن عبيد عن أبي هريرة
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک کریم کے کریم بیٹے کے اکرم بیٹے کا کریم بیٹا، سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے بیٹے اسحاق علیہ السلام کے بیٹے یعقوب علیہ السلام کا بیٹا یوسف علیہ السلام ہے۔ یوسف علیہ السلام جس قدر جیل میں رہے، اگر اتنا عرصہ میں جیل میں رہتا اور پھر میرے پاس رہائی کا پروانہ آتا تو میں قبول کر لیتا (لیکن کمال حوصلہ ہے یوسف علیہ السلام کا) کہ جب ان کے پاس قاصد آیا تو آپ نے فرمایا: اپنے رب (بادشاہ) کے پاس پلٹ جا، پھر اس سے پوچھا: ان عورتوں کا کیا حال ہے، جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے بے شک میرا رب ان کا فریب جانتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ تاہم شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے سعید رضی اللہ عنہ اور ابوعبید رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اتنی حدیث نقل کی ہے اگر میں اتنا عرصہ جیل میں رہتا جتنا عرصہ یوسف علیہ السلام رہے ۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3365]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3366
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سِنَان القزَّاز، حدثنا أبو عامر العَقَدي، حدثنا موسى بن عُليِّ بن رَبَاح، عن أبيه قال: استَأذنَ رجلٌ على عمر فقال: استأذِنوا لابن الأخيار، فقال عمر: ائذَنوا لابن الأخيار، فلما دخل قال له عمر: من أنت؟ قال: أنا فلانُ بنُ فلان بنِ فلان، قال: فجعل يَعُدُّ رجالًا من أشراف الجاهلية، فقال له عمر: أنت يوسفُ بنُ يعقوبَ بن إسحاقَ بنِ إبراهيم؟ قال: لا، قال: ذاك ابنُ الأخيارِ، وأنت ابنُ الأشرار، إنما تعدُّ عليَّ رجالَ أهل النار (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وعُليُّ بن رباح تابعيٌّ كبير.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3326 - على شرط مسلم
سیدنا علی بن رباح رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک آدمی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کی اجازت مانگی اور یوں کہا: بہترین لوگوں کے بیٹے کو اجازت دیجئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کو اجازت دے دو، جب وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ نے پوچھا: تم کون ہو؟ اس نے جواباً کہا: میں فلاں بن فلاں بن فلاں ہوں (راوی) کہتے ہیں: اپنا تعارف کراتے ہوئے، اس نے زمانہ جاہلیت کے صاحب منصب لوگوں کے نام گنوانا شروع کر دیئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے سیدنا اسحاق علیہ السلام کے بیٹے سیدنا یعقوب علیہ السلام کے بیٹے سیدنا یوسف علیہ السلام ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: بہترین لوگوں کا بیٹا تو وہ تھا۔ اور تو شریر لوگوں کا بیٹا ہے تو ہمارے سامنے جہنمی لوگوں کا ذکر کر رہا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ اور سیدنا علی بن رباح رحمۃ اللہ علیہ کبیر تابعی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3366]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3367
أخبرني أبو بكر محمد بن أحمد المزكِّي بمَرْو، حدثنا عبد الله بن رَوْح المَدائِني، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا هشام بن حسان، عن محمد بن سِيرين، عن أبي هريرة قال: قال لي عمر: يا عدوَّ الله وعدوَّ الإسلام، خُنْتَ مالَ الله، قال: قلت: لستُ عدوَّ الله، ولا عدوَّ الإسلام، ولكني عدوُّ من عاداهما، ولم أَخُنْ مالَ الله، ولكنها أثمانُ إبلي وسهامٌ اجتمَعَت، قال: فأعادها عليَّ وأعدتُ عليه هذا الكلام، قال: فغرَّمني اثني عشر ألفًا، قال: فقمتُ في صلاة الغَدَاة فقلت: اللهمَّ اغفِرْ لأمير المؤمنين. فلما كان بعدَ ذلك أرادني على العمل، فأَبيتُ عليه، فقال: لِمَ وقد سأل يوسفُ العملَ وكان خيرًا منك؟ فقلت: إنَّ يوسف نبيٌّ ابنُ نبيٍّ ابنِ نبيٍّ ابنِ نبيّ، وأنا ابن أُمَيْمةٍ، وأنا أخاف ثلاثًا واثنتين، قال: أوَلا (1) تقول: خمسًا؟ قلت: لا، قال: فآتِهنَّ، قلت: أخاف أن أقولَ بغير علم، وأن أُفتيَ بغير علم، وأن يُضَرَبَ ظَهْري، ويُشتَمَ عِرْضي، وأن يُؤخَذَ مالي بالضرب (2) .
هذا حديث بإسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3327 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھ سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ تعالیٰ کے دشمن، اے اسلام کے دشمن تو نے اللہ تعالیٰ کے مال میں خیانت کی ہے۔ میں نے کہا: میں نہ تو اللہ تعالیٰ کا دشمن ہوں اور نہ ہی اسلام کا دشمن ہوں البتہ میں ان (اللہ تعالیٰ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے دشمنوں کا دشمن ہوں اور نہ ہی میں نے اللہ تعالیٰ کے مال میں کوئی خیانت کی ہے۔ تاہم میرے اونٹوں کے حصے اور دیگر حصے اکٹھے ہیں۔ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دوبارہ وہی باتیں میرے ساتھ کیں اور میں نے بھی دوبارہ یہی جواب دیا۔ انہوں نے مجھے 12 ہزار ہرجانہ ادا کرنے کا کہا۔ میں جب نماز فجر کے لیے کھڑا ہوا تو یوں دعا مانگی: اے اللہ! امیرالمومنین کی مغفرت فرما۔ اس کے بعد ایک دفعہ انہوں نے مجھے حکومتی ذمہ داری سونپنا چاہی، تو میں نے انکار کر دیا۔ انہوں نے وجہ پوچھی (اور ساتھ ہی یہ بھی کہا) یوسف علیہ السلام نے تو حکومتی ذمہ داری خود مانگ کر لی تھی حالانکہ وہ آپ سے بہتر تھے۔ میں نے کہا: یوسف علیہ السلام تو نبی بن نبی بن نبی بن نبی تھے جبکہ میں امیمہ کا بیٹا ہوں اور میں دو تین باتوں سے خوف رکھتا ہوں، انہوں نے کہا: آپ پانچ باتیں نہیں کہتے؟ میں نے کہا نہیں، انہوں نے پوچھا وہ تین باتیں کیا ہیں؟ میں نے کہا: مجھے اس بات کا خدشہ ہے کہ میں کبھی لاعلمی کی وجہ سے کوئی بات کہہ دوں اور یہ کہ میں بے علم فتویٰ جاری کر دوں۔ اور یہ کہ میری پیٹھ ماری جائے اور یہ کہ میری عزت پر گالیاں دی جائیں اور یہ کہ میرا مال ہتھیا لیا جائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3367]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں