🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

149. أُمُّ جَمِيلٍ بِنْتُ حَرْبٍ عَمِيَتْ عَنْ رُؤْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
امِ جمیل بنتِ حرب نبی ﷺ کو دیکھنے سے اندھی ہو گئیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3416
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان، حدثنا الوليد بن كَثير، عن ابن تَدرُسَ، عن أسماء بنت أبي بكر قالت: لمّا نَزَلَت ﴿تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ﴾، أَقبَلَت العَوراءُ أمُّ جَميل بنت حَرْب ولها وَلْوَلةٌ وفي يدها فِهْرٌ، وهي تقول: مُذمَّمًا أَبَيْنا ودِينَهُ قَلَيْنا وأمرَه عَصَيْنا والنبيُّ ﷺ جالسٌ في المسجد ومعه أبو بكر، فلما رآها أبو بكر قال: يا رسول الله، قد أقبَلَت وأنا أخافُ أن تراكَ، فقال رسول الله ﷺ:"إنَّها لن تَرَاني" وقرأ قرآنًا فاعتَصَمَ به كما قال، وقرأَ: ﴿وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ حِجَابًا مَسْتُورًا﴾ [الإسراء: 45] ، فوَقَفَت على أبي بكر ولم تَرَ رسولَ الله ﷺ، فقالت: يا أبا بكر، إني أُخبِرتُ أنَّ صاحبَك هَجَاني، فقال: لا وربِّ هذا البيتِ ما هَجَاكِ، قال: فوَلَّت وهي تقول: قد عَلِمَت قريشٌ أنِّي بنتُ سيِّدِها (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3376 - صحيح
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب یہ سورت ﴿تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ﴾ [سورة المسد: 1] نازل ہوئی تو ام جمیل بنت حرب (ابولہب کی بیوی، جو کانی تھی) چیختی چلاتی ہوئی آئی، اس کے ہاتھ میں ایک پتھر تھا اور وہ یہ (گستاخانہ اشعار) کہہ رہی تھی: مذمما أبينا، ودينه قلينا، وأمره عصينا (ہم نے مذمم یعنی محمد کا انکار کیا، اس کے دین کو چھوڑا، اور اس کے حکم کی نافرمانی کی)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے اور آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا تو عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ آ گئی ہے اور مجھے ڈر ہے کہ وہ آپ کو دیکھ لے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی کچھ آیات پڑھیں تو وہ (اللہ کی حفاظت میں آ کر) اس سے بچ گئے جیسا کہ آپ نے فرمایا تھا، اور آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ حِجَابًا مَسْتُورًا﴾ اور جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو ہم آپ کے اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے، ایک چھپا ہوا پردہ حائل کر دیتے ہیں۔ [سورة الإسراء: 45] وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی لیکن اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نظر نہ آئے۔ اس نے کہا: اے ابوبکر! مجھے خبر ملی ہے کہ تمہارے ساتھی نے میری ہجو (برائی) کی ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس گھر (کعبہ) کے رب کی قسم! انہوں نے تمہاری کوئی ہجو نہیں کی۔ راوی کہتے ہیں: تو وہ یہ کہتی ہوئی واپس چلی گئی کہ قریش جانتے ہیں کہ میں ان کے سردار کی بیٹی ہوں۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3416]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات معروفون غير ابن تدرس، وهو فيما يغلب على ظننا أبو الزبير محمد بن مسلم بن تدرس المكي، فإن كان هو فالإسناد صحيح، والله تعالى أعلم. الحميدي: هو أبو بكر عبد الله بن الزبير، وسفيان: هو ابن عيينة، والوليد بن كثير: هو المخزومي أبو محمد المدني ثم الكوفي.» [ترقيم الرساله 3416] [ترقيم الشركة 3396] [ترقيم العلميه 3376]

الحكم على الحديث: رجاله ثقات معروفون غير ابن تدرس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3417
أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، أخبرنا محمد بن عبد الوهاب، حدثنا يَعلَى بن عُبيد، عن محمد بن إسحاق قال: حدثني عبد الله بن أبي نَجِيح، عن مجاهد، عن ابن عبَّاس؛ قال (1) : سأَلْناه عن قول الله ﷿: ﴿أَوْ خَلْقًا مِمَّا يَكْبُرُ فِي صُدُورِكُمْ﴾ [الإسراء: 51] ما الَّذي أراد به؟ قال: الموتُ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3377 - على شرط مسلم
مجاہد سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿أَوْ خَلْقًا مِمَّا يَكْبُرُ فِي صُدُورِكُمْ﴾ یا کوئی ایسی مخلوق بن جاؤ جو تمہارے سینوں (خیال) میں بہت بڑی ہو۔ [سورة الإسراء: 51] کے بارے میں پوچھا کہ اس سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: موت۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3417]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق. والخبر في "سيرة ابن هشام" 1/ 317.» [ترقيم الرساله 3417] [ترقيم الشركة 3397] [ترقيم العلميه 3377]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں