المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
149. أُمُّ جَمِيلٍ بِنْتُ حَرْبٍ عَمِيَتْ عَنْ رُؤْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
امِ جمیل بنتِ حرب نبی ﷺ کو دیکھنے سے اندھی ہو گئیں
حدیث نمبر: 3416
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان، حدثنا الوليد بن كَثير، عن ابن تَدرُسَ، عن أسماء بنت أبي بكر قالت: لمّا نَزَلَت ﴿تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ﴾، أَقبَلَت العَوراءُ أمُّ جَميل بنت حَرْب ولها وَلْوَلةٌ وفي يدها فِهْرٌ، وهي تقول: مُذمَّمًا أَبَيْنا ودِينَهُ قَلَيْنا وأمرَه عَصَيْنا والنبيُّ ﷺ جالسٌ في المسجد ومعه أبو بكر، فلما رآها أبو بكر قال: يا رسول الله، قد أقبَلَت وأنا أخافُ أن تراكَ، فقال رسول الله ﷺ:"إنَّها لن تَرَاني" وقرأ قرآنًا فاعتَصَمَ به كما قال، وقرأَ: ﴿وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ حِجَابًا مَسْتُورًا﴾ [الإسراء: 45] ، فوَقَفَت على أبي بكر ولم تَرَ رسولَ الله ﷺ، فقالت: يا أبا بكر، إني أُخبِرتُ أنَّ صاحبَك هَجَاني، فقال: لا وربِّ هذا البيتِ ما هَجَاكِ، قال: فوَلَّت وهي تقول: قد عَلِمَت قريشٌ أنِّي بنتُ سيِّدِها (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3376 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3376 - صحيح
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عویمر رضی اللہ عنہ، عاصم رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا: ”ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی دوسرے مرد کو پاتا ہے اور وہ اسے قتل کر دے، پھر کیا تم اسے بھی قصاص کے طور پر قتل کر دو گے؟ لہٰذا وہ آدمی کیا کرے؟ عاصم! میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال پوچھ دو۔“ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسند جانا اور ناگواری کا اظہار فرمایا۔ عاصم رضی اللہ عنہ، عویمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسئلے کو ناپسند جانا اور ناگواری کا اظہار بھی کیا، تو عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا۔“ وہ آئے تو عاصم رضی اللہ عنہ کے جانے کے بعد قرآن نازل ہو چکا تھا، انہوں نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے بارے میں قرآن نازل ہوا ہے“، پھر وہ دونوں (میاں بیوی) آئے اور انہوں نے لعان کیا۔ پھر عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اگر میں اب بھی اسے اپنے نکاح میں رکھوں تو اس کا مطلب ہے کہ میں جھوٹا ہوں“، چنانچہ انہوں نے اسے علیحدہ کر دیا (یعنی طلاق دے دی) جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم نہیں دیا تھا، پھر یہی طریقہ لعان کرنے والوں میں رائج ہو گیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھو! اگر اس (عورت) نے سرخ، پست قد والا، چھپکلی کی مانند بچہ جنا تو میں سمجھوں گا کہ اس کے شوہر نے اس پر تہمت لگائی ہے اور اگر اس نے سیاہ رنگ کا، بڑی آنکھوں والا اور بڑی سرینوں والا بچہ جنا تو میں سمجھوں گا کہ اس کے شوہر نے اس کے متعلق سچ کہا ہے۔“ جب بچہ پیدا ہوا تو وہ ناپسندیدہ صفت کا تھا (یعنی زنا سے تھا)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3416]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات معروفون غير ابن تدرس، وهو فيما يغلب على ظننا أبو الزبير محمد بن مسلم بن تدرس المكي، فإن كان هو فالإسناد صحيح، والله تعالى أعلم. الحميدي: هو أبو بكر عبد الله بن الزبير، وسفيان: هو ابن عيينة، والوليد بن كثير: هو المخزومي أبو محمد المدني ثم الكوفي.» [ترقيم الرساله 3416] [ترقيم الشركة 3396] [ترقيم العلميه 3376]
الحكم على الحديث: رجاله ثقات معروفون غير ابن تدرس
حدیث نمبر: 3417
أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، أخبرنا محمد بن عبد الوهاب، حدثنا يَعلَى بن عُبيد، عن محمد بن إسحاق قال: حدثني عبد الله بن أبي نَجِيح، عن مجاهد، عن ابن عبَّاس؛ قال (1) : سأَلْناه عن قول الله ﷿: ﴿أَوْ خَلْقًا مِمَّا يَكْبُرُ فِي صُدُورِكُمْ﴾ [الإسراء: 51] ما الَّذي أراد به؟ قال: الموتُ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3377 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3377 - على شرط مسلم
سعید بن مسیب رحمہ اللہ اور عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ سرخ اور سیدھے بالوں والا بچہ جنے تو وہ اس کے خاوند کا ہے، اور اگر یہ کالا سیاہ بچہ جنے تو وہ اس کا ہے جس کے بارے میں تہمت لگی ہے۔“ فرمایا: پھر اس نے کالا سیاہ بچہ جنا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3417]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق. والخبر في "سيرة ابن هشام" 1/ 317.» [ترقيم الرساله 3417] [ترقيم الشركة 3397] [ترقيم العلميه 3377]
الحكم على الحديث: إسناده حسن