المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
149. أم جميل بنت حرب عميت عن رؤية رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم
امِ جمیل بنتِ حرب نبی ﷺ کو دیکھنے سے اندھی ہو گئیں
حدیث نمبر: 3417
أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، أخبرنا محمد بن عبد الوهاب، حدثنا يَعلَى بن عُبيد، عن محمد بن إسحاق قال: حدثني عبد الله بن أبي نَجِيح، عن مجاهد، عن ابن عبَّاس؛ قال (1) : سأَلْناه عن قول الله ﷿: ﴿أَوْ خَلْقًا مِمَّا يَكْبُرُ فِي صُدُورِكُمْ﴾ [الإسراء: 51] ما الَّذي أراد به؟ قال: الموتُ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3377 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3377 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد: اَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَکْبُرُ فِیْ صُدُوْرِکُمْ (الاسراء: 51) ” یا کوئی اور مخلوق جو تمہارے خیال میں بڑی ہو “۔ کے بارے میں پوچھا: اس سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: موت۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3417]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3417 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) القائل هو مجاهد.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (1) یہاں قائل (بات کرنے والے) "مجاہد" رحمہ اللہ ہیں۔
(2) إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق. والخبر في "سيرة ابن هشام" 1/ 317.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند محمد بن اسحاق کی وجہ سے "حسن" ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اور یہ روایت "سیرت ابن ہشام" (جلد 1، صفحہ 317) میں موجود ہے۔