🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
149. أم جميل بنت حرب عميت عن رؤية رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم
امِ جمیل بنتِ حرب نبی ﷺ کو دیکھنے سے اندھی ہو گئیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3417
أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، أخبرنا محمد بن عبد الوهاب، حدثنا يَعلَى بن عُبيد، عن محمد بن إسحاق قال: حدثني عبد الله بن أبي نَجِيح، عن مجاهد، عن ابن عبَّاس؛ قال (1) : سأَلْناه عن قول الله ﷿: ﴿أَوْ خَلْقًا مِمَّا يَكْبُرُ فِي صُدُورِكُمْ﴾ [الإسراء: 51] ما الَّذي أراد به؟ قال: الموتُ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3377 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد: اَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَکْبُرُ فِیْ صُدُوْرِکُمْ (الاسراء: 51) یا کوئی اور مخلوق جو تمہارے خیال میں بڑی ہو ۔ کے بارے میں پوچھا: اس سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: موت۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3417]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3417 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) القائل هو مجاهد.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (1) یہاں قائل (بات کرنے والے) "مجاہد" رحمہ اللہ ہیں۔
(2) إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق. والخبر في "سيرة ابن هشام" 1/ 317.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند محمد بن اسحاق کی وجہ سے "حسن" ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اور یہ روایت "سیرت ابن ہشام" (جلد 1، صفحہ 317) میں موجود ہے۔