المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
151. سَأَلَ أَهْلُ مَكَّةَ أَنْ تُنَحَّى عَنْهُمُ الْجِبَالُ فَيَزْرَعُوا فِيهَا
اہلِ مکہ نے سوال کیا کہ پہاڑ ہٹا دیے جائیں تاکہ وہ کاشت کاری کریں
حدیث نمبر: 3419
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جَرِير عن الأعمش، عن جعفر بن إياس، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبَّاس قال: سَألَ أهل مكة رسولَ الله ﷺ أن يجعلَ لهم الصَّفَا ذهبًا، وأن تُنحَّى عنهم الجبالُ فيَزرَعُوا فيها، فقال الله ﷿: إن شئتَ آتيناهم ما سَأَلوا، فإن كَفَروا أُهلِكوا كما أَهلكتُ مَن قَبلَهم، وإن شئتَ أن أستَأْنيَ بهم لعلَّنا نَستَحْيي منهم، فأنزل الله هذه: ﴿وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً﴾ [الإسراء: 59] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3379 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3379 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اہل مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ ان کے لیے صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دیا جائے، اور ان کے اردگرد سے پہاڑوں کو ہٹا دیا جائے تاکہ وہ وہاں کھیتی باڑی کر سکیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اگر آپ چاہیں تو ہم انہیں وہ دے دیں جو وہ مانگتے ہیں، لیکن اگر پھر بھی انہوں نے کفر کیا تو انہیں اسی طرح ہلاک کر دیا جائے گا جس طرح میں نے ان سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا، اور اگر آپ چاہیں تو میں انہیں مہلت دوں، شاید ہم ان سے (عذاب میں) حیا کریں۔“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً﴾ ”اور ہمیں نشانیاں بھیجنے سے صرف اس بات نے روکا کہ پہلوں نے انہیں جھٹلا دیا تھا، اور ہم نے ثمود کو اونٹنی دی جو ایک کھلی نشانی تھی۔“ [سورة الإسراء: 59]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3419]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3419]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،إسحاق بن إبراهيم: هو ابن راهويه، وجرير: هو ابن عبد الحميد.» [ترقيم الرساله 3419] [ترقيم الشركة 3399] [ترقيم العلميه 3379]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3420
أخبرنا محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبَّاد، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا ابن عُيَينة، عن عَمْرو بن دِينار، عن عِكْرمة عن ابن عبَّاس في قوله: ﴿وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ﴾ [الإسراء: 60] ، قال: هي رُؤْيا عينٍ رَأى ليلةَ أُسرِيَ به (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3380 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3380 - على شرط البخاري
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ﴾ ”اور ہم نے وہ خواب جو آپ کو دکھایا تھا، لوگوں کے لیے صرف ایک آزمائش بنا دیا تھا۔“ [سورة الإسراء: 60] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”یہ آنکھوں کا دیکھنا تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات دیکھا جس رات آپ کو معراج کرائی گئی تھی۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا! [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3420]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا! [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3420]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،إسحاق بن إبراهيم بن عباد: هو الدَّبَري.» [ترقيم الرساله 3420] [ترقيم الشركة 3400] [ترقيم العلميه 3380]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3421
وأخبرنا محمد بن علي، حدثنا إسحاق، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا ابن عُيَينة، عن عَمرو بن دِينار، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس: ﴿وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي الْقُرْآنِ﴾ [الإسراء: 60] ، قال: هي الزَّقُوم (2) .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي الْقُرْآنِ﴾ ”اور اس درخت کے متعلق (جو ہم نے آپ کو دکھایا اور) جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے۔“ [سورة الإسراء: 60] کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”یہ زقوم کا درخت ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3421]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح كسابقه،» [ترقيم الرساله 3421] [ترقيم الشركة 3401]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح كسابقه