🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
151. سأل أهل مكة أن تنحى عنهم الجبال فيزرعوا فيها
اہلِ مکہ نے سوال کیا کہ پہاڑ ہٹا دیے جائیں تاکہ وہ کاشت کاری کریں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3419
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جَرِير عن الأعمش، عن جعفر بن إياس، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبَّاس قال: سَألَ أهل مكة رسولَ الله ﷺ أن يجعلَ لهم الصَّفَا ذهبًا، وأن تُنحَّى عنهم الجبالُ فيَزرَعُوا فيها، فقال الله ﷿: إن شئتَ آتيناهم ما سَأَلوا، فإن كَفَروا أُهلِكوا كما أَهلكتُ مَن قَبلَهم، وإن شئتَ أن أستَأْنيَ بهم لعلَّنا نَستَحْيي منهم، فأنزل الله هذه: ﴿وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً﴾ [الإسراء: 59] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3379 - صحيح
سیدنا (عبداللہ) بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اہل مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ ان کے لیے کوہ صفا کو سونا بنا دیا جائے اور یہ کہ پہاڑ وہاں سے ہٹا دیئے جائیں تاکہ ہم کھیتی باڑی کر سکیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں تمہارا یہ مطالبہ پورا کر سکتا ہوں لیکن اگر اس کے بعد کسی نے انکار کیا تو تمہیں اسی طرح ہلاک کر دیا جائے گا جیسے سابقہ قوموں کو ہلاک کیا گیا اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو میں ان کو مہلت دے دیتا ہوں۔ شاید کہ ہم اس سے حیا کریں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: وَمَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیٰتِ اِلَّاآ اَنْ کَذَّبَ بِھَا الْاَوَّلُوْنَ وَٰاتَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَۃَ مُبْصِرَۃً (الاسراء: 59) اور ہم ایسی نشانیاں بھیجنے سے یوں ہی باز رہے کہ انہیں اگلوں نے جھٹلایا اور ہم نے ثمود کو ناقہ دیا آنکھیں کھولنے کو تو انہوں نے اس پر ظلم کیا ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3419]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3419 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. إسحاق بن إبراهيم: هو ابن راهويه، وجرير: هو ابن عبد الحميد.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "صحیح" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اسحاق بن ابراہیم سے مراد "ابن راہویہ" ہیں اور جریر سے مراد "ابن عبد الحمید" ہیں۔
وأخرجه النسائي (11226) عن زكريا بن يحيى، عن إسحاق بن راهويه، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اور اس کی تخریج نسائی نے (11226) میں زکریا بن یحییٰ سے، انہوں نے اسحاق بن راہویہ سے، اسی سند کے ساتھ کی ہے۔
وأخرجه أحمد 4/ (2333) عن عثمان بن محمد بن أبي شيبة، عن جرير، به.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے احمد نے (جلد 4، نمبر 2333) میں عثمان بن محمد بن ابی شیبہ سے، انہوں نے جریر سے اسی سند و متن کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وانظر ما سلف برقم (175).
📝 نوٹ / توضیح: اور گزشتہ روایت نمبر (175) دیکھیں۔
قوله: "أن أستأني" أي: أن أنتظر وأُمهِل.
📝 نوٹ / توضیح: ان کے قول "أن أستأني" کا مطلب ہے: "کہ میں انتظار کروں اور مہلت دوں"۔
نستحيي منهم أي: نُبقي منهم أحياءً.
📝 نوٹ / توضیح: "نستحيي منهم" کا مطلب ہے: "ہم ان میں سے (بعض کو) زندہ باقی رکھیں"۔