🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

153. ذِكْرُ الْمَقَامِ الْمَحْمُودِ
مقامِ محمود کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3423
أخبرني أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارِمي، حدثنا يزيد بن عبد ربِّه الجُرْجُسِي وسليمان بن عبد الرحمن الدمشقي قالا: حدثنا محمد بن حَرْب، عن الزُّبَيدي، عن الزُّهْري، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن كَعْب بن مالك، عن كَعْب بن مالك، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"يُبعَثُ الناسُ يومَ القيامة، فأكونُ أنا وأُمَّتي على تَلٍّ، ويَكسُوني ربِّي حُلَّةً خضراءَ، ثم يُؤذَنُ لي فأقولُ ما شاءَ اللهُ أن أقول، فذلك المَقامُ المحمودُ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3383 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں کو اٹھایا جائے گا تو میں اور میری امت ایک ٹیلے پر ہوں گے، اور میرا رب مجھے سبز رنگ کا جوڑا پہنائے گا، پھر مجھے (شفاعت کی) اجازت دی جائے گی تو میں وہ کہوں گا جو اللہ چاہے گا کہ میں کہوں، پس یہی مقام محمود ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3423]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،الزبيدي: هو محمد بن الوليد.» [ترقيم الرساله 3423] [ترقيم الشركة 3403] [ترقيم العلميه 3383]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3424
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المَحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، حدثنا أبو إسحاق، عن صِلَةَ بن زُفَرَ، عن حُذَيفة بن اليَمَان؛ سمعتُه يقول في قوله ﷿: ﴿عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا﴾ [الإسراء: 79] ، قال: يُجمَعُ الناسُ في صعيدٍ واحدٍ، يُسمِعُهم الدَّاعي ويُنفِذُهم البَصرُ، حُفاةً عُرَاةً كما خُلِقوا، سُكوتًا لا تتكلَّمُ نفسٌ إِلَّا بإذنِه، قال: فيُنادَى محمدٌ، فيقول:"لبَّيكَ وسَعدَيك، والخيرُ في يديك، والشرُّ ليس إليك، المَهْدِيُّ مَن هَدَيتَ، وعَبدُك بين يديك، ولك وإليك، لا مَلْجأَ ولا مَنْجى إلَّا إليك، تباركتَ وتعالَيتَ، سبحانَ ربِّ البيت"؛ فذلك المَقامُ المحمودُ الذي قال اللهُ: ﴿عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا﴾ [الإسراء: 79] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما أَخرج مسلمٌ حديث أبي مالك الأشجَعيِّ عن رِبْعِي بن حِرَاش عن حُذَيفة:"ليَخرُجنَّ من النار" فقط (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3384 - على شرط البخاري ومسلم
صلہ بن زفر سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا﴾ امید ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر فائز کرے گا۔ [سورة الإسراء: 79] کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا: لوگوں کو ایک ہی میدان میں جمع کیا جائے گا، پکارنے والے کی آواز سب کو سنائی دے گی اور نگاہ سب تک پہنچے گی، سب ننگے پاؤں اور ننگے بدن ہوں گے جیسے پیدا کیے گئے تھے، سب خاموش ہوں گے اور کوئی جان اس کی اجازت کے بغیر کلام نہیں کرے گی۔ انہوں نے فرمایا: پھر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو پکارا جائے گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے: «لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، الْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ، وَعَبْدُكَ بَيْنَ يَدَيْكَ، وَلَكَ وَإِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَى إِلَّا إِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، سُبْحَانَ رَبِّ الْبَيْتِ» میں حاضر ہوں اور تیری اطاعت کے لیے تیار ہوں، اور بھلائی تیرے ہی ہاتھوں میں ہے، اور برائی کی نسبت تیری طرف نہیں کی جا سکتی، ہدایت یافتہ وہی ہے جسے تو نے ہدایت دی، اور تیرا بندہ تیرے سامنے کھڑا ہے، میرا سب کچھ تیرے لیے اور تیری ہی طرف ہے، تیرے سوا نہ کوئی پناہ گاہ ہے اور نہ کوئی جائے نجات، تو بابرکت اور بہت بلند ہے، پاک ہے اس گھر (کعبہ) کا رب۔ پس یہی وہ مقام محمود ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا﴾ [سورة الإسراء: 79] ۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، البتہ امام مسلم نے ابو مالک اشجعی کی حدیث بطریق ربعی بن حراش عن حذیفہ سے صرف وہ ضرور جہنم سے نکالے جائیں گے کے الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3424]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعي.» [ترقيم الرساله 3424] [ترقيم الشركة 3404] [ترقيم العلميه 3384]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں