🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

182. تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحَجِّ
سورۂ حج کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3491
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا الحسن بن موسى الأَشيَب، حدثنا شَيْبان بن عبد الرحمن، عن قَتَادة. قال الصَّغَاني: وحدثنا رَوْح بن عُبَادة، حدثنا سعيد بن أبي عَرُوبة، عن قَتادة، عن الحسن، عن عِمران بن حُصَين: أنَّ رسول الله ﷺ قال وهو في بعض أسفاره، قد فاوَتَ بين أصحابه السَّيرُ، فرَفَعَ بهاتَين الآيتين صوتَه ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ (1) يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ﴾، فلما سمع ذلك أصحابُه حَثُّوا المَطِيَّ وعرفوا أنه عندَ قولٍ يقولُه، فلما تأشَّبُوا حولَه قال:"هل تدرونَ أيُّ يومٍ ذاكم؟" قالوا: الله ورسوله أعلمُ، قال:"ذاك يومَ يُنادَى آدمُ فيناديهِ ربُّه فيقول: يا آدمُ، ابعَثْ بَعْثَ النارِ، فيقول: يا ربِّ، وما بعثُ النار؟ فيقول: من كلِّ ألفٍ تسعُ مئةٍ وتسعة وتسعون في النار وواحدٌ في الجنة"، قالوا: فأُبلِسُوا حتى ما أَوضَحُوا بضاحكةٍ، فلما رأى رسولُ الله ﷺ ذلك قال:"اعْمَلُوا وأَبشِروا، والذي نفسُ محمدٍ بيده إنكم لمعَ خَلِيقَتينِ ما كانتا مع شيءٍ إلَّا كَثَّرتاه: يأجوجَ ومأجوجَ، ومَن هَلَكَ من بني آدمَ وبني إبليسَ"، قال: فسَرَّى ذلك عن القوم، فقال:"اعمَلوا وأَبشِروا، فوالذي نفسُ محمدٍ بيده، ما أنتم في الناس إلَّا كالرَّقْمةِ في ذراع الدابَّة، أو كالشَّامةِ في جَنْب البعير" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وأكثرُ أئمَّة البصرة على أنَّ الحسن قد سمع من عِمران، غير أنَّ الشيخين لم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3450 - قد مر تصحيحه
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے کہ شرکائے قافلہ ایک دوسرے سے بہت دور رہ گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دو آیتیں بلند آواز سے پڑھیں: یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمْ اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْئٌ عَظِیْمٌ (الحج: 1) اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو بے شک قیامت کا زلزلہ بڑی سخت چیز ہے ۔ یَوْمَ تَرَوْنَھَا تَذْھَلُ کُلُّ مُرْضِعَۃٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَھَا وَ تَرَی النَّاسَ سُکٰرٰی وَمَا ھُمْ بِسُکٰرٰی وَٰلکِنَّ عَذَابَ اللّٰہِ شَدِیْدٌ) (الحج: 2) جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے کو بھول جائے گی اور ہر گابھنی اپنا گابھ ڈال دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشہ میں ہوں اور نشہ میں نہ ہوں گے مگر یہ ہے کہ اللہ کی مار کڑی ہے ۔ جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ کی آواز میں یہ آیات سنیں تو سواریاں تیز کر لیں اور وہ یہ سمجھے کہ شاید آپ کے پاس کوئی بات ہے جو آپ کہنا چاہ رہے ہیں۔ جب تمام لوگ آپ کے گرد جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ (ان آیات میں جس دن کا ذکر ہے) یہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ دن ہے جس میں آدم علیہ السلام دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام سے فرمائے گا: اے آدم! دوزخیوں کو دوزخ میں بھیج دو۔ آدم علیہ السلام عرض کریں گے۔ دوزخی کون ہیں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ہر ہزار میں سے 999 لوگ جہنم میں اور ایک جنت میں بھیج دو (یہ بات سن کر) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شدید پریشان ہو گئے حتیٰ کہ کسی کے چہرے پر کچھ بھی مسکراہٹ نہ رہی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی یہ حالت دیکھی تو فرمایا: تم اعمال صالحہ کرتے رہو اور خوش ہو جاؤ، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تمہیں یاجوج اور ماجوج ایسی دو مخلوقوں کی معیت حاصل ہے کہ یہ جن کے ساتھ ہوں، ان کو زیادہ کر دیں گی اور یہ جتنے انسان اور شیاطین ہلاک ہو چکے ہیں (سب سے زیادہ ہیں) (یہ بات سن کر) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین خوش ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اعمال صالحہ اپناؤ اور خوش ہو جاؤ۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تمام لوگوں میں تمہاری تعداد صرف اتنی ہی ہو گی جتنی کسی جانور کے پہلو میں تل کا نشان، یا کسی اونٹ کے پہلو میں سفید نشان۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ اور اکثر بصرہ کے اَئمہ رحمۃ اللہ علیہم کا موقف ہے کہ حسن نے عمران سے سماع کیا ہے تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی روایات نقل نہیں کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3491]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3492
أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا الحسن بن بِشْر، حدثنا الحَكَم بن عبد الملك، عن قَتَادة، عن الحسن، عن عِمران بن حُصَين قال: كان رسول الله ﷺ يقرأ: ﴿وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ﴾ [الحج: 2] (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ آیت تلاوت کیا کرتے تھے: وَتَرَی النَّاسَ سُکٰرٰی وَمَا ھُمْ بِسُکٰرٰی وَٰلکِنَّ عَذَابَ اللّٰہِ شَدِیْدٌ (الحج: 2) اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشہ میں ہوں حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے بلکہ اللہ تعالیٰ کا عذاب بہت سخت ہو گا ۔۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3492]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3493
حدثنا أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّيِّ، حدثنا سعيد بن يزيد التَّيْمي، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله الدَّشتَكي، حدثنا عمرو بن أبي قيس، عن سِمَاك، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: ﴿مُخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ﴾ [الحج: 5] ، قال: المخلَّقة: ما كان حيًّا، وغيرُ مخلَّقةٍ: ما كان من سِقْطٍ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3452 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: مُّخَلَّقَۃٍ وَّ غَیْرِ مُخَلَّقَۃٍ (الحج: 5) نقشہ بنی اور بے بنی ۔ مخلقہ وغیر مخلقہ (کے بارے میں) فرماتے ہیں: مخلقۃ سے مراد وہ ہے جو زندہ پیدا ہو اور غیرمخلقہ سے مراد وہ ہے جو کچہ بچہ گر جائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3493]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3494
أخبرنا أبو بكر الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن، حدثنا أبو حذيفة، حدثنا سفيان، عن أبي إسحاق، عن التَّميمي (2) ، عن ابن عبَّاس في قوله: ﴿مَنْ كَانَ يَظُنُّ أَنْ لَنْ يَنْصُرَهُ﴾ [الحج: 15] قال: مَن كان يظنُّ أن لن ينصرَ اللهُ محمدًا ﷺ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3453 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد: مَنْ کَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَہُ اللّٰہُ (الحج: 15) جو یہ خیال کرتا ہو کہ اللہ اپنے نبی کی مدد فرمائے گا ۔ کے متعلق فرماتے ہیں: یعنی جو شخص یہ گمان کرتا ہو کہ اللہ تعالیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد نہ فرمائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3494]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں