المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
182. تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحَجِّ
سورۂ حج کی تفسیر
حدیث نمبر: 3491
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا الحسن بن موسى الأَشيَب، حدثنا شَيْبان بن عبد الرحمن، عن قَتَادة. قال الصَّغَاني: وحدثنا رَوْح بن عُبَادة، حدثنا سعيد بن أبي عَرُوبة، عن قَتادة، عن الحسن، عن عِمران بن حُصَين: أنَّ رسول الله ﷺ قال وهو في بعض أسفاره، قد فاوَتَ بين أصحابه السَّيرُ، فرَفَعَ بهاتَين الآيتين صوتَه ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ (1) يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ﴾، فلما سمع ذلك أصحابُه حَثُّوا المَطِيَّ وعرفوا أنه عندَ قولٍ يقولُه، فلما تأشَّبُوا حولَه قال:"هل تدرونَ أيُّ يومٍ ذاكم؟" قالوا: الله ورسوله أعلمُ، قال:"ذاك يومَ يُنادَى آدمُ فيناديهِ ربُّه فيقول: يا آدمُ، ابعَثْ بَعْثَ النارِ، فيقول: يا ربِّ، وما بعثُ النار؟ فيقول: من كلِّ ألفٍ تسعُ مئةٍ وتسعة وتسعون في النار وواحدٌ في الجنة"، قالوا: فأُبلِسُوا حتى ما أَوضَحُوا بضاحكةٍ، فلما رأى رسولُ الله ﷺ ذلك قال:"اعْمَلُوا وأَبشِروا، والذي نفسُ محمدٍ بيده إنكم لمعَ خَلِيقَتينِ ما كانتا مع شيءٍ إلَّا كَثَّرتاه: يأجوجَ ومأجوجَ، ومَن هَلَكَ من بني آدمَ وبني إبليسَ"، قال: فسَرَّى ذلك عن القوم، فقال:"اعمَلوا وأَبشِروا، فوالذي نفسُ محمدٍ بيده، ما أنتم في الناس إلَّا كالرَّقْمةِ في ذراع الدابَّة، أو كالشَّامةِ في جَنْب البعير" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وأكثرُ أئمَّة البصرة على أنَّ الحسن قد سمع من عِمران، غير أنَّ الشيخين لم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3450 - قد مر تصحيحه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وأكثرُ أئمَّة البصرة على أنَّ الحسن قد سمع من عِمران، غير أنَّ الشيخين لم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3450 - قد مر تصحيحه
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی سفر میں تھے اور آپ کے صحابہ کے درمیان چلنے کی رفتار میں فرق (یعنی وہ آگے پیچھے بکھرے ہوئے) تھے، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو آیات کے ساتھ اپنی آواز بلند فرمائی: ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ (1) يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ﴾ [سورة الحج: 1-2] ”اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، بے شک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔ جس دن تم اسے دیکھو گے، ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی، اور ہر حاملہ اپنا حمل گرا دے گی، اور تم لوگوں کو مدہوش دیکھو گے حالانکہ وہ نشے میں نہ ہوں گے، لیکن اللہ کا عذاب بہت سخت ہوگا۔“ جب آپ کے صحابہ نے یہ سنا تو انہوں نے اپنی سواریوں کو تیز کیا اور سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی اہم بات ارشاد فرمانے والے ہیں، پھر جب وہ آپ کے گرد جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو کہ وہ کون سا دن ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہے جب آدم علیہ السلام کو پکارا جائے گا، پس ان کا رب انہیں پکارے گا اور فرمائے گا: اے آدم! جہنم کا لشکر (الگ) نکال دو، وہ عرض کریں گے: اے رب! جہنم کا لشکر کیا ہے؟ اللہ فرمائے گا: ہر ایک ہزار میں سے 999 جہنم میں اور 1 جنت میں۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ یہ سن کر صحابہ اتنے غمزدہ اور خاموش ہو گئے کہ کسی کی ہنسی (مسکراہٹ) تک واضح نہ رہی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیفیت دیکھی تو فرمایا: ”نیک عمل کیے جاؤ اور خوش ہو جاؤ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! تم ایسی دو مخلوقوں کے ساتھ ہو کہ وہ جس گروہ میں بھی شامل ہوتی ہیں اسے کثرت میں بدل دیتی ہیں: یاجوج اور ماجوج، اور تمہارے ساتھ وہ بھی ہیں جو بنی آدم اور ابلیس کی اولاد میں سے ہلاک ہو چکے ہیں۔“ راوی کہتے ہیں: اس بات سے لوگوں کا غم دور ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیک عمل کرو اور خوش ہو جاؤ، پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! تم لوگوں کے درمیان ایسے ہو جیسے کسی جانور کے بازو پر ایک نشان یا اونٹ کے پہلو پر ایک تل ہوتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور بصرہ کے اکثر ائمہ اس بات پر ہیں کہ حسن بصری نے عمران بن حصین سے سماع کیا ہے، تاہم شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3491]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور بصرہ کے اکثر ائمہ اس بات پر ہیں کہ حسن بصری نے عمران بن حصین سے سماع کیا ہے، تاہم شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3491]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، رجاله ثقات، وقد سلف عند المصنف برقم (78) من طريقين عن الحسن الأشيب، وانظر تمام تخريجه والكلام عليه هناك.» [ترقيم الرساله 3491] [ترقيم الشركة 3470] [ترقيم العلميه 3450]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3492
أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا الحسن بن بِشْر، حدثنا الحَكَم بن عبد الملك، عن قَتَادة، عن الحسن، عن عِمران بن حُصَين قال: كان رسول الله ﷺ يقرأ: ﴿وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ﴾ [الحج: 2] (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آیت تلاوت فرمایا کرتے تھے: ﴿وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ﴾ [سورة الحج: 2] ”اور تم لوگوں کو مدہوش دیکھو گے حالانکہ وہ نشے میں نہ ہوں گے، لیکن اللہ کا عذاب بہت سخت ہوگا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3492]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3492]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف الحكم بن عبد الملك، وقد سلف برقم (2953).» [ترقيم الرساله 3492] [ترقيم الشركة 3471]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف الحكم بن عبد الملك
حدیث نمبر: 3493
حدثنا أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّيِّ، حدثنا سعيد بن يزيد التَّيْمي، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله الدَّشتَكي، حدثنا عمرو بن أبي قيس، عن سِمَاك، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: ﴿مُخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ﴾ [الحج: 5] ، قال: المخلَّقة: ما كان حيًّا، وغيرُ مخلَّقةٍ: ما كان من سِقْطٍ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3452 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3452 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿مُخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ﴾ [سورة الحج: 5] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: «المخلَّقة» سے مراد وہ (جنین) ہے جو جاندار صورت اختیار کر لے، اور «غير مخلَّقة» سے مراد وہ ہے جو (تکمیل سے پہلے ہی) ادھورا ساقط ہو جائے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3493]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3493]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، سعيد بن يزيد التيمي مجهول، لم يرو عنه غير إسماعيل بن محمد الرازي، وذكره الذهبي في "تاريخ الإسلام" 6/ 92 ولم يأثر فيه جرحًا ولا تعديلًا، وسماك - وهو ابن حرب - في بعض رواياته عن عكرمة اضطراب.» [ترقيم الرساله 3493] [ترقيم الشركة 3472] [ترقيم العلميه 3452]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 3494
أخبرنا أبو بكر الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن، حدثنا أبو حذيفة، حدثنا سفيان، عن أبي إسحاق، عن التَّميمي (2) ، عن ابن عبَّاس في قوله: ﴿مَنْ كَانَ يَظُنُّ أَنْ لَنْ يَنْصُرَهُ﴾ [الحج: 15] قال: مَن كان يظنُّ أن لن ينصرَ اللهُ محمدًا ﷺ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3453 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3453 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿مَنْ كَانَ يَظُنُّ أَنْ لَنْ يَنْصُرَهُ﴾ [سورة الحج: 15] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: (اس کا مفہوم یہ ہے کہ) جو شخص یہ گمان رکھتا ہو کہ اللہ تعالیٰ (دنیا و آخرت میں) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد نہیں فرمائے گا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3494]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3494]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين من أجل أربدة التميمي، وقد سلف بيان حاله عند الحديث (925). أبو حذيفة: هو موسى بن مسعود النهدي، وسفيان: هو الثوري.» [ترقيم الرساله 3494] [ترقيم الشركة 3473] [ترقيم العلميه 3453]
الحكم على الحديث: إسناده محتمل للتحسين من أجل أربدة التميمي