🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

188. إِنَّمَا سَمَّى اللَّهُ الْبَيْتَ الْعَتِيقَ لِأَنَّهُ أَعْتَقَهُ مِنَ الْجَبَابِرَةِ
اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کو ”بیتِ عتیق“ اس لیے نام دیا کہ اسے جابر حکمرانوں سے آزاد رکھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3506
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعْراني، حدثنا جدِّي، حدثنا عبد الله بن صالح حدثنا الليث بن سعد، عن عبد الرحمن بن خالد بن مُسافِر، عن الزُّهْري، عن محمد بن عُروة بن الزُّبير، عن عمِّه عبد الله بن الزُّبير، قال: قال رسول الله ﷺ:"إنما سمَّى اللهُ البيتَ العتيقَ، لأنه أعتَقَه من الجبابرة، فلم يَظهَرْ عليه جبَّارٌ قطُّ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3465 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کا نام عتیق اس لیے رکھا ہے کہ اس کو جابرین سے آزاد کیا ہے چنانچہ کبھی بھی کوئی جابر اس پر قابض نہیں ہو سکتا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3506]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3507
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا جَرير، عن الأعمش، ومنصور، عن أبي ظَبْيان، عن ابن عبَّاس قال: قلت له: قولُه ﷿: ﴿وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُمْ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ﴾ [الحج: 36] ، قال: إذا (1) أردتَ أن تَنحَرَ البَدَنَةَ فأَقِمْها ثم قل: الله أكبر، الله أكبر، منكَ ولك، ثم سَمِّ، ثم انحَرْها، قال: قلت: وأقول ذلك في الأُضْحيَّة؟ قال: والأُضحيَّةُ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3466 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رحمۃ اللہ علیہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد: وَالْبُدْنَ جَعَلْنٰھَا لَکُمْ مِّنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ لَکُمْ فِیْھَا خَیْرٌ فَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْھَا صَوَآفَّ (الحج: 36) اور قربانی کے ذیل دار جانور اونٹ اور گائے ہم نے تمہارے لیے اللہ کی نشانیوں سے کیے تمہارے لیے ان میں بھلائی ہے ۔ کے متعلق فرماتے ہیں: جب تم بدنہ کو ذبح کرنا چاہو تو اس کو کھڑا کر لو پھر پڑھو اللہ اکبر اللہ اکبر منک ولک پھر اللہ کا نام لے کر اس کو ذبح کر دو۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے پوچھا: کیا میں قربانی میں بھی ایسا کر سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: (جی ہاں) اور قربانی میں بھی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3507]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3508
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله البزَّاز ببغداد، حدثنا محمد بن مَسلَمة الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا سلَّام بن مِسْكين، عن عائذ الله بن عبد الله المُجاشِعي، عن أبي داود السَّبيعي، عن زيد بن أرقَمَ قال: قلنا: يا رسول الله، ما هذه الأضاحيُّ؟ قال:"سُنَّةُ أبيكم إبراهيمَ"، قال: قلنا: فما لنا منها؟ قال:"بكلِّ شَعرةٍ حَسَنةٌ"، قال: قلنا: يا رسول الله، فالصُّوفُ؟ قال:"بكلِّ شَعرةٍ من الصُّوف حَسَنةٌ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3467 - عائذ الله قال أبو حاتم منكر الحديث
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے باپ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ ہم نے پوچھا: ان میں ہمارے لیے کیا ثواب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بال کے بدلے تمہارے لیے نیکی ہے۔ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اون میں کیا ثواب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اون کے ہر بال کے بدلے بھی تمہارے لیے نیکی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3508]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں