المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
187. قِصَّةُ خُرُوجِ تُبَّعٍ عَلَى الْكَعْبَةِ ثُمَّ انْفِعَالِهِ وَحَجِّهِ الْبَيْتَ
تبع کے کعبہ کی طرف نکلنے، پھر اس کے متاثر ہونے اور بیت اللہ کا حج کرنے کا واقعہ
حدیث نمبر: 3504
حدثنا أبو العبَّاس قاسم بن القاسم السَّيّاري، حدثنا عبد الله بن علي الغزّال، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، أخبرنا عبد الله بن المبارَك، أخبرنا عُمر بن سعيد بن أبي حُسين، أخبرني ابن أبي مُلَيكة، عن عُبَيد بن عُمير، عن ابن عبَّاس قال: أقبلَ تُبَّعٌ يريد الكعبةَ، حتى إذا كان بكُرَاع الغَمِيم بَعَثَ الله عليه ريحًا لا يكادُ القائمُ يقوم إلَّا بمَشَقَّة، ويذهبُ القائم يقعدُ فيُصرَع، وقامت عليه، ولَقُوا منها عَناءً، قال: ودعا تبَّعٌ حَبْرَيهِ، فسألهما: ما هذا الذي بُعِثَ عليَّ؟ قالا: أَوَتؤَمِّنّا؟ قال: أنتم آمنون، قالا: فإنك تريد بيتًا يمنعُه اللهُ ممَّن أراده قال: فما يُذهِبُ هذا عني؟ قالا: تجرَّدْ في ثوبين، ثم تقول: لبَّيكَ لبَّيكَ، ثم تدخل فتطوفُ بذلك البيت، ولا تُهيِّجْ أحدًا من أهله، قال: فإن أجمعتُ على هذا ذَهَبَتْ هذه الريحُ عني، قالا: نعم، فتجرَّدَ ثم لبَّى، قال ابن عبَّاس: فأدبَرَت الريح كقِطَعِ الليل المظلم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3463 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3463 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:” تبع “ کعبہ کا ارادہ لے کر نکلا جب وہ (مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام) کراع الغمیم میں پہنچا تو اللہ تعالیٰ نے اس پر اس قدر شدید آندھی بھیجی کہ کوئی کھڑا ہوا آسانی سے کھڑا نہ رہ سکا، کھڑا ہونے والا چلا اور پھر اندھیری سے ان کو شدید مشقت کا سامنا کرنا پڑا۔ تبع نے وہاں کے دو مذہبی پیشواؤں کو بلوایا اور ان سے پوچھا: کہ ہم پر یہ کیسا عذاب مسلط کر دیا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: کیا تم ہمیں امان دیتے ہو؟ اس نے کہا تمہارے لیے امن ہے۔ انہوں نے کہا: تو اس گھر کا ارادہ کر کے نکلا ہے اور اس کی طرف (برا) ارادہ لے کر آنے والے کو اللہ تعالیٰ خود روک لیتا ہے۔ اس نے کہا: اب اس سے میں کیسے بچ سکتا ہوں؟ انہوں نے کہا: احرام باندھ کر تلبیہ پڑھتے ہوئے یہاں داخل ہو پھر بیت اللہ کا طواف کر اور وہاں کے لوگوں کو خوف زدہ مت کرنا۔ اس نے کہا: اگر میں یہ سب کر لوں تو کیا یہ آندھی مجھے چھوڑ دے گی؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر اس نے احرام باندھا، تلبیہ کہا، سیدنا عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں: وہ آندھی واپس چلی گئی، جیسے اندھیری رات چھٹ جاتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3504]
حدیث نمبر: 3505
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا جَرِير، عن قابوس، عن أبيه، عن ابن عبَّاس قال: لما فَرَغَ إبراهيمُ من بناء البيت قال: ربِّ قد فَرَغتُ، فقال: أذِّن في الناس بالحجِّ، قال: ربِّ وما يَبْلُغُ صوتي؟! قال: أذِّنْ وعليَّ البلاغُ، قال: ربِّ كيف أقولُ؟ قال: يا أيها الناس، كُتِبَ عليكم الحجُّ، حجُّ البيتِ العَتيق. فسمعه مَن بين السماءِ والأرضِ، ألا ترونَ أنهم يجيئون من أقصى الأرضِ يُلبُّون (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3464 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3464 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام بیت اللہ کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو عرض کی: اے میرے رب! میں فارغ ہو چکا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ (الحج: 27) ” اور لوگوں میں حج کی عام ندا کر دے “۔ عرض کی: اے میرے رب، میری آواز (ان سب لوگوں تک) کیسے پہنچے گی؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم اعلان کرو آپ کی آواز پہنچانا ہمارے ذمہ ہے۔ عرض کی: اے میرے رب! میں کیا بولوں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کہو ” اے لوگو! تم پر بیت العتیق کا حج فرض کیا گیا ہے “۔ آپ کی اس آواز کو زمین و آسمان کی تمام مخلوقات نے سنا، کیا تم یہ نہیں دیکھتے کہ لوگ دنیا کے کونے کونے سے تلبیہ کہتے ہوئے یہاں حاضر ہوتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3505]