المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
207. إِنَّ لِلْمَسَاجِدِ أَوْتَادًا لَهُمْ جُلَسَاءُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ
مساجد کے کچھ خاص لوگ ایسے ہیں کہ فرشتے ان کے ہم نشین ہوتے ہیں
حدیث نمبر: 3549
أخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكرَم البزَّاز، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا أبو غسّان محمد بن مُطِّرف اللَّيثي، حدثنا أبو حازم، عن سعيد بن المسيّب، عن عبد الله بن سَلَام قال: إنَّ للمساجد أَوتادًا هم أَوتادُها، لهم جلساءُ من الملائكة، فإن غابوا سأَلوا عنهم، وإن كانوا مَرضَى عادُوهم، وإن كانوا في حاجَةٍ أعانُوهم (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين موقوف، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3507 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين موقوف، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3507 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مساجد کے کچھ پکے رہنے والے (نمازی) ہوتے ہیں جو وہاں کے ستونوں (میخوں) کی مانند جمے رہتے ہیں، فرشتوں میں سے ان کے کچھ ہم نشین ہوتے ہیں، اگر وہ کبھی مسجد سے غائب ہوں تو فرشتے ان کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، اگر وہ بیمار پڑ جائیں تو ان کی عیادت کرتے ہیں اور اگر وہ کسی ضرورت میں ہوں تو ان کی مدد کرتے ہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح اور موقوف ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3549]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح اور موقوف ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3549]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، لكن المحفوظ من رواية سعيد بن المسيب عن أبيه المسيّب عن عبد الله بن سلام كما سيأتي، وإن كان سعيد قد أدرك ما يقرب من ثلاثين سنة من حياة عبد الله بن سلام وهو بلديُّه. أبو حازم: هو سلمة بن دينار الأعرج.» [ترقيم الرساله 3549] [ترقيم الشركة 3528] [ترقيم العلميه 3507]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3550
حدثني علي بن عيسى الحِيرِي، حدثنا مُسدَّد بن قَطَن، حدثنا عثمان ابن أبي شَيْبة، حدثنا أبو الأَحوَص (1) ، عن أبي إسحاق، عن عبد الله بن عطاء، عن عُقْبة بن عامر الجُهَني قال: كنَّا مع رسول الله ﷺ في سفر فكنَّا نَتَناوَبُ الرِّعْيةَ، فلما كانت نَوبَتي سرَّحتُ إبلي ثم رحتُ فجئتُ رسولَ الله ﷺ وهو يَخطُب الناسَ، فسمعته يقول:"ما من مسلمٍ يَتوضَّأُ فيُسبِغُ الوضوءَ، ثم يقومُ في صلاته، فيَعلَمُ ما يقولُ، إلَّا انفَتَل وهو كيومَ وَلَدَتهُ أمُّه من الخطايا ليس عليه ذنبٌ". قال: فما مَلَكتُ نفسي عند ذلك أنْ قلتُ: بَخٍ بَخٍ! فقال عمر: وكنتُ إلى جنبه: أتعجَبُ من هذا؟! قد قال قبلَ أن تجيءَ ما هو أجودُ منه، فقلت: ما هو فداكَ أبي وأمي، قال: قال:"ما من رجل يتوضَّأُ فيُسبِغُ الوضوءَ، ثم يقولُ عند فَراغِه من وضوئه: أشهدُ أن لا إله إلَّا الله وأشهدُ أنَّ محمدًا عبدُه ورسولُه، إلَّا فُتِحَت له ثمانيةُ أبوابِ الجنةِ يَدخُلُ من أيِّها شاءَ". ثم قال:"يُجمَعُ الناسُ في صعيدٍ واحدٍ يُنفِذُهم البصرُ ويُسمِعُهم الداعي، فينادي منادٍ: سيعلمُ أهلُ الجَمْع لمن الكَرَمُ اليومَ، ثلاثَ مرات، ثم يقول: أين الذين كانت تَتجافَى جنوبُهم عن المَضاجِع؟ ثم يقول: أين الذين كانوا ﴿لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ﴾ إلى آخر الآية؟ ثم ينادي منادٍ: سيَعلمُ أهلُ الجَمْع لمن الكَرَمُ اليومَ، ثم يقول: أين الحمَّادون الذين كانوا يَحمَدُون ربَّهم؟" (2) .
هذا حديث صحيح وله طرقٌ عن أبي إسحاق، ولم يُخرجاه. وكان من حقِّنا أن نُخرجَه في كتاب الوضوء فلم نَقدِرْ، فلما وجدتُ الإمام إسحاق الحَنظَلي خرَّج طرقه عند قوله: ﴿رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ﴾ [النور: 37] ، اتَّبعتُه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3508 - صحيح
هذا حديث صحيح وله طرقٌ عن أبي إسحاق، ولم يُخرجاه. وكان من حقِّنا أن نُخرجَه في كتاب الوضوء فلم نَقدِرْ، فلما وجدتُ الإمام إسحاق الحَنظَلي خرَّج طرقه عند قوله: ﴿رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ﴾ [النور: 37] ، اتَّبعتُه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3508 - صحيح
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور باری باری اونٹ چرایا کرتے تھے، جب میری باری آئی تو میں نے اپنے اونٹ چراگاہ میں چھوڑے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جو بھی مسلمان وضو کرے اور اچھی طرح (کامل) وضو کرے، پھر اپنی نماز کے لیے کھڑا ہو اور جو کچھ وہ (نماز میں) کہہ رہا ہے اسے جانتا ہو (یعنی توجہ اور سمجھ کے ساتھ پڑھے)، تو وہ (نماز سے) اس حال میں فارغ ہوگا جیسے وہ اس دن تھا جب اس کی ماں نے اسے جنا تھا، اس پر کوئی گناہ باقی نہ رہے گا۔“ راوی کہتے ہیں: میں اس پر خود کو قابو نہ رکھ سکا اور پکار اٹھا: ”واہ واہ! کیا ہی خوب ہے!“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جو میرے پہلو میں تھے، کہنے لگے: ”کیا تم اس پر تعجب کر رہے ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے آنے سے پہلے اس سے بھی زیادہ فضیلت والی بات فرما چکے ہیں۔“ میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، وہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح (کامل) وضو کرے، پھر وضو سے فارغ ہو کر یہ کہے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور رسول ہیں،“ تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں، وہ جس سے چاہے داخل ہو جائے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگوں کو ایک ہی چٹیل میدان میں جمع کیا جائے گا جہاں دیکھنے والے کی نظر سب کو دیکھ سکے گی اور پکارنے والے کی آواز سب کو سنائی دے گی، پھر ایک پکارنے والا تین مرتبہ پکارے گا: اہل محشر کو آج معلوم ہو جائے گا کہ عزت و کرم کا مستحق کون ہے، پھر وہ کہے گا: کہاں ہیں وہ لوگ جن کے پہلو بستروں سے جدا رہا کرتے تھے (یعنی تہجد گزار)؟ پھر کہے گا: کہاں ہیں وہ لوگ جنہیں ﴿لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ﴾ [سورة النور: 37] ”نہ تجارت اور نہ خرید و فروخت اللہ کے ذکر سے غافل کرتی تھی“؟ پھر ایک منادی پکارے گا: اہل محشر کو آج معلوم ہو جائے گا کہ عزت و کرم کا مستحق کون ہے، پھر وہ کہے گا: کہاں ہیں وہ «حَمَّادُون» جو (ہر حال میں) اپنے رب کی بہت زیادہ حمد و ثنا بیان کرنے والے تھے؟“
یہ حدیث صحیح ہے اور ابو اسحاق سے اس کے کئی طرق مروی ہیں، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ ہماری ذمہ داری تھی کہ اسے کتاب الوضو میں ذکر کرتے مگر اس وقت ہم قادر نہ ہو سکے، پھر جب میں نے دیکھا کہ امام اسحاق حنظلی نے اللہ کے اس فرمان ﴿رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ﴾ کے تحت اس کے طرق روایت کیے ہیں، تو میں نے بھی ان کی پیروی کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3550]
یہ حدیث صحیح ہے اور ابو اسحاق سے اس کے کئی طرق مروی ہیں، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ ہماری ذمہ داری تھی کہ اسے کتاب الوضو میں ذکر کرتے مگر اس وقت ہم قادر نہ ہو سکے، پھر جب میں نے دیکھا کہ امام اسحاق حنظلی نے اللہ کے اس فرمان ﴿رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ﴾ کے تحت اس کے طرق روایت کیے ہیں، تو میں نے بھی ان کی پیروی کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3550]
تخریج الحدیث: «إسناده من هذا الوجه بهذا السياق ضعيف لإعضاله بين عبد الله بن عطاء وعقبة، فإنه لم يدركه، وقد رواه شعبة - فيما ذكر الدارقطني في "العلل" 2/ 114 - ففحص عن إسناده وبيَّن علته وذكر أنه سمعه من أبي إسحاق عن عبد الله بن عطاء عن عقبة بن عامر، وأنه ...» [ترقيم الرساله 3550] [ترقيم الشركة 3529] [ترقيم العلميه 3508]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف