🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

218. تَفْسِيرُ سُورَةِ الْقَصَصِ
سورۂ القصص کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3571
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حَنبَل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، عن سفيان، عن الأعمش، عن حسّان، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس، قولَه: ﴿وَأَصْبَحَ فُؤَادُ أُمِّ مُوسَى فَارِغًا﴾ قال: فارغًا من كل شيءٍ غيرَ ذِكْر موسى، ﴿إِنْ كَادَتْ لَتُبْدِي﴾ [القصص: 10] قال: أن تقول: يا بُنَيَّاه، ﴿وَقَالَتْ لِأُخْتِهِ قُصِّيهِ﴾ [القصص: 11] : ابتغِي أَثَرَه، ﴿وَحَرَّمْنَا عَلَيْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ﴾ [القصص: 12] ، قال: لا يُؤتَى بمُرضِعٍ فيَقبَلُها (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وحسان: هو ابن أبي عبّاد، قد احتَجّا جميعًا به (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3529 - حسان بن أبي عباد لا يدري من هو
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَأَصْبَحَ فُؤَادُ أُمِّ مُوسَى فَارِغًا﴾ کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: (اس کا مطلب ہے کہ ان کا دل) موسیٰ علیہ السلام کے ذکر کے سوا ہر چیز سے خالی ہو گیا، ﴿إِنْ كَادَتْ لَتُبْدِي بِهِ﴾ [سورة القصص: 10] کے متعلق فرمایا کہ قریب تھا کہ وہ (ممتا کے جوش میں) پکار اٹھتیں: ہائے میرا بیٹا! اور ﴿وَقَالَتْ لِأُخْتِهِ قُصِّيهِ﴾ [سورة القصص: 11] کے متعلق فرمایا: (اس کا مطلب ہے) اس کے نشانِ قدم تلاش کرو (یعنی اس کے پیچھے جاؤ)، اور ﴿وَحَرَّمْنَا عَلَيْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ﴾ [سورة القصص: 12] کے متعلق فرمایا: (اس کا مطلب یہ ہے کہ) ان کے پاس جو بھی دودھ پلانے والی لائی جاتی وہ اسے قبول نہیں کرتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور حسان بن ابی عباد سے شیخین نے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3571]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،سفيان: هو الثوري، وحسان: هو ابن أبي الأشرس أبو الأشرس، وليس ابن أبي عباد كما ذهب إليه المصنف.» [ترقيم الرساله 3571] [ترقيم الشركة 3550] [ترقيم العلميه 3529]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں