المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
219. قِصَّةُ نِكَاحِ مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - بِبِنْتِ شُعَيْبٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ .
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹی سے نکاح کا واقعہ
حدیث نمبر: 3572
حدثنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مِهْران الأصبهاني، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن عمرو بن ميمون، عن عمر: ﴿فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاءٍ﴾ [القصص: 25] ، قال: كانت تجيءُ وهي خَرَّاجةٌ ولَّاجةٌ واضعةً يدَها على وجهها، فقام معها موسى وقال لها: امشي خَلْفي وانعَتي ليَ الطريقَ، وأنا أَمشي أمامَك، فإنَّا لا نَنظُر في أدبارِ النساء، ثم قالت: ﴿يَاأَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ﴾، لِمَا رأَت من قوَّته ولقوله لها ما قال، فزادَه ذلك فيه رَغْبةً فقال: ﴿إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُنْكِحَكَ إِحْدَى ابْنَتَيَّ هَاتَيْنِ عَلَى أَنْ تَأْجُرَنِي ثَمَانِيَ حِجَجٍ فَإِنْ أَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ وَمَا أُرِيدُ أَنْ أَشُقَّ عَلَيْكَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّالِحِينَ﴾، أي: في حُسْنِ الصُّحبة والوفاءِ بما قلتُ، قال موسى: ﴿ذَلِكَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَيَّ﴾ قال: نعم، قال: ﴿وَاللَّهُ عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ﴾، فزوَّجَه وأقام معه يَكْفيهِ ويعملُ له في رِعايةِ غنمِه وما يحتاجُ إليه منه، وزوَّجَه صفورة أو أختَها شرقا، وهما اللَّتانِ كانتا تَذُودانِ (2) . صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3530 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3530 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس آیت: فَجَآءتْہُ اِحْدٰھُمَا تَمْشِیْ عَلَی اسْتِحْیَآء (القصص: 25) ” تو ان دونوں میں سے ایک اس کے پاس آئی شرم سے چلتی ہوئی “۔ کے متعلق فرماتے ہیں: وہ آئیں تو ان کے پاؤں میں آبلے پڑ چکے تھے، وہ اپنے چہرے کو اپنی آستین سے ڈھکے ہوئے آئیں۔ تو موسیٰ علیہ السلام ان کے ہمراہ جانے کے لیے تیار ہو گئے۔ آپ نے اس سے کہا: میرے پیچھے پیچھے چلتی آؤ اور مجھے راستہ بتاتی رہو اور میں تیرے آگے آگے چلوں گا کیونکہ ہم خواتین کو پیچھے سے (بھی) دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ پھر اس نے کہا: یٰٓاَ ابَتِ اسْتَاْجِرْہُ اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ (القصص: 26) ” اے میرے باپ! ان کو نوکر رکھ لو بیشک بہتر نوکر وہ جو طاقتور اور امانت دار ہو “۔ کیونکہ وہ آپ کی قوت کا مشاہدہ کر چکی تھی اور وہ گفتگو جو موسیٰ علیہ السلام نے اس سے کی تھی، اس وجہ سے آپ کے متعلق اس کی دلچسپی میں مزید اضافہ ہو گیا (ان کے والد نے) کہا: اِنِّیْٓ اُرِیْدُ اَنْ اُنْکِحَکَ اِحْدَی ابْنَتَیَّ ھٰتَیْنِ عَلٰٓی اَنْ تَاْجُرَنِیْ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِکَ وَ مَآ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْکَ سَتَجِدُنِیْٓ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ (القصص: 27) ” ” میں چاہتا ہوں کہ اپنی دونوں بیٹیوں میں سے ایک تمہیں بیاہ دوں اس مہر پر کہ تم آٹھ برس میری ملازمت کرو پھر اگر پورے دس برس کر لو تو تمہاری طرف سے ہے اور میں تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا قریب ہے انشا ء اللہ تم مجھے نیکوں میں پاؤ گے “۔ یعنی تمہارے ساتھ حسن سلوک میں اور وعدہ وفائی میں۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ذٰلِکَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَکَ اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ (القصص: 28) ” یہ میرے اور آپ کے درمیان اقرار ہو چکا میں ان دونوں میں جو میعاد پوری کر دوں تو مجھ پر کوئی مطالبہ نہیں “۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے۔ آپ نے کہا: اللّٰہُ عَلٰی مَا نَقُوْلُ وَکِیْلٌ (القصص: 28) ” اور ہمارے اس کہے پر اللہ کا ذمہ ہے “۔ کہ سیدنا شعیب علیہ السلام ان کا نکاح کر دیں گے۔ سیدنا شعیب علیہ السلام نے ان کو اپنے پاس ٹھہرا لیا۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام ان کے پاس رہے اور ان کی بکریاں وغیرہ چرانے اور دیگر ضروریات میں ان کا ہاتھ بٹاتے رہے۔ تب سیدنا شعیب علیہ السلام نے ان کا نکاح صفوراء علیہما السلام یا اس کی بہن شرقاء علیہا السلام کے ہمراہ کر دیا اور یہ دونوں آپ کے ساتھ معاونت کیا کرتی تھیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3572]