🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

262. شَأْنُ نُزُولِ سُورَةِ ص
سورۂ ص کے نزول کا سبب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3659
أخبرنا أبو بكر بن أبي دارِم الحافظ، حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا أَبي، حدثنا محمد بن عبد الله الأَسَدي، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن يحيى بن عُمَارة، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: مَرِضَ أبو طالب، فجاءت قريشٌ، فجاء النبيُّ ﷺ وعند رأسِ أبي طالب مجلسُ رجلٍ، فقام أبو جهل كي يَمنعَه ذاك، وشَكَوْه إلى أبي طالب، فقال: يا ابنَ أخي، ما تريدُ من قومك؟ قال:"يا عمِّ، إنما أريدُ منهم كلمةً تَذِلُّ لهم بها العربُ، وتؤدِّي إليهم بها الجزيةَ العَجَمُ"، قال: كلمةً واحدةً؟ قال:"كلمةً واحدةً"، قال: ما هي؟ قال:"لا إلهَ إِلَّا اللهُ"، قال: فقالوا: أجعَلَ الآلهة إلهًا واحدًا إنَّ هذا لشيءٌ عُجَاب؟ قال: ونزل فيهم: ﴿ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ﴾ حتى بَلَغَ ﴿إِنْ هَذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ﴾ [ص: 1 - 7] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3617 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ابوطالب بیمار ہو گئے تو قریش ان کے پاس آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے۔ اس وقت ابوطالب کے سرہانے کی جانب ایک نشست خالی پڑی تھی۔ ابوجہل آگے بڑھا تاکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں بیٹھنے سے روک سکے اور ان سب لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ابوطالب سے شکایت کی۔ ابوطالب نے کہا: اے میرے بھتیجے! تم اپنی قوم سے کیا چاہتے ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے چچا! میں ان کو ایک ایسے کلمہ کا اقرار کروانا چاہتا ہوں جس کی بناء پر تمام عرب ان کے زیرنگیں ہو جائے گا اور اس کی وجہ سے اہل عجم بھی ان کو جزیہ ادا کریں گے۔ ابوطالب نے کہا: صرف ایک کلمہ ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں صرف ایک کلمہ ہے۔ ابوطالب نے پوچھا: وہ کون سا کلمہ ہے؟ آپ نے فرمایا: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ تو لوگ بولے: کیا سب معبودوں کی بجائے اب ایک معبود کی عبادت کریں؟ یہ تو بڑی تعجب خیز بات ہے۔ (راوی) کہتے ہیں۔ انہیں کے متعلق یہ سورۃ نازل ہوئی: صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّکْرِ (ص: 1) یہ آیات اِنْ ھٰذَا اِلَّا اخْتِلَاقٌ تک نازل ہوئیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3659]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3660
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا وهب بن جَرِير، حدثني أَبي قال: سمعتُ محمدَ بن إسحاق قال: حدثني العبَّاس بن عبد الله بن مَعبَد بن عبَّاس (2) ، عن ابن عبَّاس قال: نَزَلَ ﴿ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ﴾ فيهم وفي مَجلسِهم؛ يعني مجلسَ أبي طالب وأبي جهل واجتماعَ قريشٍ إليهم حين نازَعُوا رسولَ الله ﷺ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3618 - على شرط مسلم والعباس ثقة
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّکْرِ (ص: 1) ابوطالب اور ابوجہل اور قریش کے اس وفد کے متعلق نازل ہوئی جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھگڑا کیا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3660]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3661
أخبرني أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار الزاهد، حدثنا الحسين بن الفَضْل، حدثنا محمد بن سابق، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن التَّمِيمي، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿وَلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ﴾ [ص: 3] ، قال: ليس بحِينِ نَزْوٍ ولا فِرارٍ (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3619 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد: وَ لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ (ص: 3) اور چھوٹنے کا وقت نہ تھا۔ کے متعلق فرماتے ہیں (اس کا مطلب ہے) اب یہ وقت کودنے اور بھاگنے کا نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3661]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں