🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

283. الصَّبْرُ نِصْفُ الْإِيمَانِ
صبر ایمان کا نصف ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3707
حَدَّثَنَا أبو زكريا العَنبَري، حَدَّثَنَا محمد بن عبد السلام، حَدَّثَنَا إسحاق، أخبرنا جَرِير، عن الأعمش، عن أبي ظَبْيان قال: كنا نَعْرِضُ المصاحفَ عند عَلْقمة، فقرأ هذه الآية: (إنَّ في ذلك لآياتٍ للمُوقِنينَ) (3) فقال: قال عبد الله: اليقينُ الإيمانُ كلُّه، وقرأ هذه الآية: ﴿إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ﴾ [الشورى: 33] ، قال: فقال عبد الله: الصبرُ نصفُ الإيمان (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3666 - صحيح
ابو الجنوب اسدی نے بیان فرمایا کہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس مسلمانوں میں سے ایک آدمی لایا گیا جس نے ذمیوں میں سے ایک آدمی کو قتل کیا تھا۔ جب اس کے اوپر گواہی قائم ہو گئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس کے قتل کا حکم دیا، تو مقتول کا بھائی آ گیا اور اس نے کہا: میں نے اسے معاف کر دیا۔ تو علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: شاید انہوں نے تجھے ڈرایا دھمکایا ہے یا تجھے پریشان کیا ہے۔ اس نے کہا: نہیں، لیکن اس کو قتل کر دینے سے میرا بھائی تو واپس نہیں آئے گا، انہوں نے مجھے دیت دے دی اور میں راضی ہو گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو بہتر جانتا ہے، ہاں جس کی ہم پر ذمہ داری ہے اس کا خون ہمارے خون کی مانند اور اس کی دیت ہماری دیت کی طرح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3707]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،إسحاق: هو ابن راهويه، وجرير: هو ابن عبد الحميد، وأبو ظبيان: هو حُصين بن جُندب الجَنْبي، وعلقمة: هو ابن قيس النَّخَعي، وعبد الله: هو ابن مسعود.» [ترقيم الرساله 3707] [ترقيم الشركة 3687] [ترقيم العلميه 3666]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3708
أخبرنا أبو زكريا العنبري، حَدَّثَنَا محمد بن عبد السلام، حَدَّثَنَا إسحاق ابن إبراهيم، أخبرنا الفضل بن موسى، حَدَّثَنَا عيسى بن عُبيد، عن الرَّبيع بن أنس، عن أبي العاليَةِ، قال: حدثني أُبيُّ بن كعب قال: لما كان يومُ أُحدٍ أُصيبَ من الأنصار أربعةٌ وستون، ومنهم ستةٌ فيهم حمزةُ، فمَثَّلوا بهم، فقالت الأنصار: لئِن أَصَبْنا منهم يومًا مثل هذا لنُربِيَنَّ عليهم، فلما كان يومُ فتح مكةَ أَنزل الله: ﴿وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ﴾ [النحل: 126] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
مجاہد اور حسن رحمہما اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے دن فرمایا: مومن کو کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3708]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل عيسى بن عبيد. وهو مكرر (3408). وذكر هذا الحديث هنا لا وجه له.» [ترقيم الرساله 3708] [ترقيم الشركة 3688]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3709
حَدَّثَنَا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن عفَّان العامِري، حَدَّثَنَا يحيى بن فَصِيل، حَدَّثَنَا الحسن بن صالح بن حيٍّ، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن جابر بن عبد الله: ﴿وَإِنَّكَ لَتَهْدِى إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ﴾ [الشورى: 52] ، قال: الصراطُ المستقيم هو الإسلامُ، وهو أوسعُ ما بينَ السماءِ والأرضِ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3668 - صحيح
ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قرآن کے علاوہ کوئی چیز ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس نے دانے سے کونپل کو نکالا اور مخلوق کو پیدا کیا! ہمارے پاس کچھ نہیں، سوائے اس فہم کے جو اللہ تعالیٰ کسی بندے کو اپنی کتاب میں دے دے اور جو کچھ اس صحیفہ میں ہے۔ میں نے پوچھا: اس صحیفہ میں کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: دیت کے احکام، قیدیوں کو چھڑوانے کے احکام اور یہ کہ کسی مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل نہ کیا جائے گا۔ دوسری جگہ میں ہے کہ کسی مومن کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3709]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين من أجل عبد الله بن محمد بن عقيل.» [ترقيم الرساله 3709] [ترقيم الشركة 3689] [ترقيم العلميه 3668]

الحكم على الحديث: إسناده محتم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3710
أخبرنا أبو بكر الشافعي، حَدَّثَنَا إسحاق بن الحسن، حَدَّثَنَا أبو حُذيفة، حَدَّثَنَا سفيان، عن منصور، عن أبي وائل، عن عبد الله في قوله ﷿: ﴿وَإِنَّكَ لَتَهْدِى إلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴾، قال: كتابُ الله ﷿ (3) . [43 - ومن تفسير سورة الزخرف] ﷽ حَدَّثَنَا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في شوّال سنة أربع مئة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3669 - على شرط البخاري ومسلم
ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا تمہارے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں سے قرآن کے علاوہ بھی کوئی چیز ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس نے دانے سے کونپل کو پھاڑا اور مخلوق کو پیدا کیا! کچھ نہیں، سوائے اس فہم کے جو کسی آدمی کو قرآن میں عطا کیا گیا اور جو کچھ اس صحیفہ میں ہے۔ میں نے پوچھا: صحیفہ میں کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: دیت کے مسائل، قیدیوں کو چھڑوانے کے احکامات اور یہ کہ کسی مومن کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3710]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أبي حذيفة» [ترقيم الرساله 3710] [ترقيم الشركة 3690] [ترقيم العلميه 3669]

الحكم على الحديث: خبر صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں