🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

282. مَا قَلَّ وَكَفَى خَيْرٌ مِمَّا كَثُرَ وَأَلْهَى
جو تھوڑا ہو مگر کافی ہو وہ اس سے بہتر ہے جو زیادہ ہو اور غفلت میں ڈال دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3703
أخبرنا أبو الحسين أحمد عثمان بن يحيى المقرئ ببغداد، حَدَّثَنَا أبو قلابة الرَّقَاشي، حَدَّثَنَا عبد الصمد بن عبد الوارث، حَدَّثَنَا هشام بن أبي عبد الله، حَدَّثَنَا قَتَادة، وتلا قول الله ﷿: ﴿وَلَوْ بَسَطَ اللَّهُ الرَّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِي الْأَرْضِ وَلَكِن يُنَزَّلُ بِقَدَرٍ مَا يَشَاءُ﴾ [الشورى: 27] ، فقال: حَدَّثَنَا خُلَيد بن عبد الله العَصَري، عن أبي الدَّرداء، عن النَّبِيّ ﷺ، قال:"ما طَلَعَت شمسٌ قطُّ إِلَّا بُعِثَ بِجَنَبَتيها مَلَكان، إنهما ليُسمِعانِ أهلَ الأرض إلَّا الثَّقَلَين: يا أيها الناسُ، هَلُمُّوا إلى ربِّكم، فإنَّ ما قلَّ وكفى خيرٌ مما كَثُرَ وأَلهى، ولا غَرَبَت شمسٌ قطُّ إِلَّا وبجَنَبَتيها مَلَكانِ يناديان: اللهمَّ عجَّلْ لمُنفِقٍ خَلَفًا، وعَجَّلْ لمُمسِكَ تَلَفًا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3662 - صحيح
ہشام بن ابی عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قتادہ نے یہ آیت پڑھی: وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰہُ الرِّزْقَ لِعِبَادِہٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ ٰلکِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ (الشوریٰ: 27) اور اگر اللہ اپنے سب بندوں کا رزق وسیع کر دیتا تو ضرور زمین میں فساد پھیلاتے لیکن وہ اندازے سے اتارتا ہے جتنا چاہے۔ پھر انہوں نے کہا: خلید بن عبداللہ العصری رحمۃ اللہ علیہ سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی دونوں جانب دو فرشتے ہوتے ہیں جن کی آواز انسان اور جنات کے علاوہ روئے زمین کی تمام مخلوقات سنتی ہیں، وہ کہتے ہیں: اے لوگو! اپنے رب کی طرف آؤ کیونکہ (وہ مال جو) کم ہو لیکن اس سے ضرورتیں پوری ہوتی رہیں، وہ اس سے بہتر ہے جو زیادہ ہو اور اس سے ضرورتیں پوری نہ ہوں اور جب سورج غروب ہوتا ہے تو اس کے ساتھ بھی دو فرشتے ہوتے ہیں جو ندا دیتے ہیں: اے اللہ! خرچ کرنے والے کو جلدی بدلہ عطا فرما اور روکنے والے کا مال جلدی ہلاک فرما دے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3703]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3704
حدثني عبد الله بن سعد الحافظ، حَدَّثَنَا إبراهيم بن أبي طالب، حَدَّثَنَا أبو كُرَيب، حَدَّثَنَا أبو معاوية، عن الأعمش، عن مجاهد، عن عبد الله بن سَخْبَرة، عن علي قال: ما أصبحَ بالكوفة أحدٌ إِلَّا ناعمٌ، إنَّ أدناهم منزلةً يشرب من ماء الفُرَات، ويجلس في الظِّل، ويأكل من البُرِّ، وإنما أُنزِلَت هذه الآية في أصحاب الصُّفَّة: ﴿وَلَوْ بَسَطَ اللَّهُ الرَّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِي الْأَرْضِ وَلَكِن يُنَزَّلُ بِقَدَرٍ مَا يَشَاءُ﴾، وذلك أنهم قالوا: لو أنَّ لنا؛ فتَمَنَّوُا الدنيا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3663 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو شخص بھی کوفہ میں صبح کرتا ہے وہ ذی نعمت ہوتا ہے، ان میں سب سے کم درجہ والا وہ ہے جو فرات کا پانی پیتا اور سائے میں بیٹھتا ہے اور گندم کی روٹی کھاتا ہے اور یہ آیت اصحاب صفہ کے حق میں نازل ہوئی: وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰہُ الرِّزْقَ لِعِبَادِہٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ ٰلکِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ (الشوریٰ: 27) اور اگر اللہ اپنے سب بندوں کا رزق وسیع کر دیتا تو ضرور زمین میں فساد پھیلاتے لیکن وہ اندازے سے اتارتا ہے جتنا چاہے۔ اور یہ اس لئے کہ انہوں نے دنیا کی تمنا کی تھی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3704]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3705
حدثني أبو بكر إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالرَّيّ، حَدَّثَنَا محمد بن الفَرَج، حَدَّثَنَا حجَّاج بن محمد، حَدَّثَنَا يونس بن أبي إسحاق، حَدَّثَنَا أبو إسحاق، عن أبي جُحَيفة، عن علي قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن أصاب ذنبًا، في الدنيا، فعُوقِبَ به، فالله أعدلُ من أن يُثنِّيَ عقوبتَه على عبدِه، ومَن أذنب ذنبًا، فَسَتَرَ اللهُ عليه وعَفَا عنه، فاللهُ أكرمُ من أن يعودَ في شيءٍ عَفَا عنه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وإنما أخرجه إسحاقُ بن إبراهيم (3) عند قوله ﷿: ﴿وَمَا أَصَابَكُم مَّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ﴾ [الشورى: 30] .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3664 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص دنیا میں گناہ کرے اور اس کو اس کی سزا دنیا میں دے دی جائے تو اللہ تعالیٰ کی شان عدالت کے خلاف ہے کہ اپنے بندے کو ایک گناہ کی دو بار سزا دے اور جو شخص گناہ کا مرتکب ہو اور اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی فرما دے اور اس سے درگزر کر دے تو یہ اللہ تعالیٰ کی شان کریمی کے خلاف ہے کہ جس گناہ کو درگزر کر دیا تھا اس کی دوبارہ سزا دے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ جبکہ اسحاق بن ابراہیم نے یہ حدیث وَمَا اَصَابَکُمْ مِنْ مُصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ کے تحت نقل کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3705]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3706
أخبرني أحمد بن سهل الفقيه ببُخارَى، حَدَّثَنَا صالح بن محمد بن حَبيب الحافظ، حَدَّثَنَا يعقوب بن إبراهيم وأحمد بن مَنِيع وزياد بن أيوب قالوا: حَدَّثَنَا هُشَيم، أخبرنا منصور بن زاذانَ، عن الحسن، عن عِمران بن حُصَين؛ قال (1) : دَخَلَ عليه بعضُ أصحابه وقد ابتُلِيَ في جسده، فقال له بعضهم: إنا لَنَبْتَئِسُ لك لِما نَرَى فيك، قال: فلا تَبتئِسْ لما تَرى، فإنَّ ما تَرى بذنبٍ، وما يَعفُو اللهُ عنه أكثرُ، قال: ثم تلا عِمرانُ هذه الآية: ﴿وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ﴾ إلى آخر الآية (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3665 - صحيح
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ان کے پاس ان کے چند دوست آئے، ان دنوں آپ کے جسم میں تکلیف تھی، ان دوستوں میں سے ایک نے کہا: ہم تو آپ کی اس تکلیف پر فکرمند ہو گئے ہیں۔ وہ بولے: آپ جو دیکھ رہے ہیں اس پر غمگین مت ہوں کیونکہ اس طرح کی آزمائش اللہ تعالیٰ انسان کے کسی گناہ کی وجہ سے اتارتا ہے جبکہ جو گناہ وہ معاف کر دیتا ہے وہ تو بہت زیادہ ہیں پھر سیدنا عمران نے اس آیت کی تلاوت کی: وَ مَآ اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَ یَعْفُو عَنْ کَثِیْرٍ (الشوریٰ: 30) اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا اور بہت کچھ تو معاف فرما دیتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3706]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں