المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
292. تَفْسِيرُ سُورَةِ حم الْجَاثِيَةِ وَعِنْدَ أَهْلِ الْحَرَمَيْنِ حم الشَّرِيعَةِ
سورۃ حم جاثیہ کی تفسیر اہل حرمین اسے حم الشریعہ کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 3728
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حَدَّثَنَا محمد بن عبد السلام، حَدَّثَنَا إسحاق، أخبرنا عبد الرزاق، عن عمر بن حَبيب المكِّي، عن حُميد بن قيس الأعرج، عن طاووس، قال: جاء رجلٌ إلى عبد الله بن عمرو بن العاص يسألُه: ممَّ خُلِقَ الخلقُ؟ قال: من الماء والنُّور والظُّلمة والرِّيح والتُّراب، قال الرجل: فمِمَّ خُلِقَ هؤلاء؟ قال: لا أدري. قال: ثم أَتى الرجلُ عبدَ الله بنَ الزُّبير فسأله، فقال مثلَ قول عبد الله بن عمرو، قال: فأتى الرجلُ عبدَ الله بن عبّاس فسأله فقال: ممَّ خُلِقَ الخلق؟ قال: من الماء والنُّور والظُّلمة والرِّيح والتُّراب، قال الرجل: فمِمَّ خُلِقَ هؤلاء؟ فتلا عبدُ الله ابن عبَّاس: ﴿وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ﴾ [الجاثية: 13] ، فقال الرجل: ما كان لنا بهذا إلَّا رجلٌ من أهل بيت النَّبِيّ ﷺ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3687 - الخبر منكر
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3687 - الخبر منكر
طاؤس سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے سوال کیا: مخلوق کس چیز سے پیدا کی گئی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: پانی، نور، تاریکی، ہوا اور مٹی سے۔ اس شخص نے پوچھا: پھر یہ چیزیں کس سے پیدا کی گئی ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نہیں جانتا۔ پھر وہ شخص سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور ان سے بھی وہی سوال کیا، انہوں نے بھی ویسا ہی جواب دیا۔ پھر وہ شخص سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور سوال کیا کہ مخلوق کس چیز سے پیدا ہوئی؟ انہوں نے فرمایا: پانی، نور، تاریکی، ہوا اور مٹی سے۔ اس شخص نے پوچھا: پھر یہ چیزیں کس سے پیدا ہوئیں؟ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ﴾ ”اور اس نے تمہارے لیے ان سب چیزوں کو مسخر کر دیا جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، یہ سب کچھ اسی کی طرف سے ہے۔“ [سورة الجاثية: 13] اس پر اس شخص نے کہا: اس (علمی نکتے) کی خبر ہمیں سوائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے کسی مرد کے اور کوئی نہیں دے سکتا تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3728]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3728]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،إسحاق: هو ابن راهويه. وأما قول الذهبي في "تلخيصه": عمر هذا (يعني ابن حبيب) فتَّشت عنه فلم أعرفه، والخبر منكر! كذا قال ﵀، وعمر هذا معروف من الثقات الحفَّاظ، انظر ترجمته في "تهذيب الكمال" 21/ 288 - 289.» [ترقيم الرساله 3728] [ترقيم الشركة 3708] [ترقيم العلميه 3687]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح