المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
291. إِنَّ لِلَّهِ ثَلَاثَةَ أَثْوَابٍ
اللہ کے تین لباس ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3726
حَدَّثَنَا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا بكَّار بن قُتيبة القاضي، حَدَّثَنَا صفوان بن عيسى، حَدَّثَنَا ابن عَجْلان، عن سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة رَفَعَه قال:"إنَّ الله ثلاثةَ أثواب: اتَّزَرَ العزّةَ، وتَسَربَلَ الرَّحمةَ، وارتَدى الكبرياءَ، فمن تَعزَّزَ بغير ما أعزَّه الله، فذلك الذي يقال له: ﴿ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ﴾ [الدخان: 49] ، ومن رَحِمَ الناسَ ﵀، فذلك الذي تَسَربَل بسِرْباله الذي يَنبَغي له، ومن نازَعَ الله رداءَه الذي يَنبَغي له فإنَّ الله يقول: لا يَنبَغِي لمن نازَعَني أَن أُدخِلَه الجنةَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3685 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3685 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کی (صفاتی لحاظ سے) تین پوشاکیں ہیں: اس نے عزت کو اپنا تہبند بنایا، رحمت کو اپنا پیراہن بنایا اور کبریائی (بڑائی) کو اپنی ردا (چادر) بنایا، پس جس کسی نے اس چیز کے علاوہ کسی اور سے عزت چاہی جس کے ذریعے اللہ نے اسے معزز بنایا ہے، تو یہ وہی شخص ہے جسے (قیامت کے دن) کہا جائے گا: ﴿ذُقْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ﴾ ”چکھو! بے شک تم ہی وہ (بڑے) عزت دار اور معزز (بنتے) تھے۔“ [سورة الدخان: 49] اور جس نے لوگوں پر رحم کیا، اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے گا، یہ وہ شخص ہے جس نے اس پیراہن کو اوڑھا جو اس کے لائق ہے، لیکن جس نے اللہ کی اس ردا (کبریائی) کے بارے میں اس سے جھگڑا کیا جو صرف اسی کے لائق ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جس نے (اس صفت میں) مجھ سے جھگڑا کیا اس کے لیے یہ قطعاً لائق نہیں کہ میں اسے جنت میں داخل کروں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3726]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3726]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 3726] [ترقيم الشركة 3706] [ترقيم العلميه 3685]
حدیث نمبر: 3727
حَدَّثَنَا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا إبراهيم بن مرزوق، حَدَّثَنَا وَهْب بن جَرير وأبو داود قالا: حَدَّثَنَا شُعْبة، عن الأعمش، عن مجاهد، عن ابن عبَّاس: أنَّ رسول الله ﷺ قرأَ هذه الآية: ﴿اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ﴾ [آل عمران: 102] ،"والذي نفسُ محمدٍ بيدِه، لو أنَّ قَطْرةً من الزَّقُوم قَطَرَت في الأرض، لأَفسَدَت على أهل الدنيا مَعايشَهم، فكيف بمن تكون طعامَه؟" (2) .
هذا حديث أخرجه الإمام أبو يعقوب الحَنظَلي (3) في تفسير قوله: ﴿خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَى سَوَاءِ الْجَحِيمِ (47) ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ﴾ [الدخان: 47 - 48] . وهو صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ﷽ [45 - ومن تفسير (حم) الجاثية] وعند أهل الحرمين أنه (حم) الشَّريعة (1)
هذا حديث أخرجه الإمام أبو يعقوب الحَنظَلي (3) في تفسير قوله: ﴿خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَى سَوَاءِ الْجَحِيمِ (47) ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ﴾ [الدخان: 47 - 48] . وهو صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ﷽ [45 - ومن تفسير (حم) الجاثية] وعند أهل الحرمين أنه (حم) الشَّريعة (1)
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ ”اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔“ [سورة آل عمران: 102] پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین پر ٹپک پڑے، تو وہ تمام اہل دنیا کے گزر بسر کے ذرائع کو فاسد و برباد کر دے، تو اس کا کیا حال ہوگا جس کا کھانا ہی یہی (زقوم) ہوگا؟“ امام ابو یعقوب حنظلی نے اسے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَى سَوَاءِ الْجَحِيمِ (47) ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ﴾ [سورة الدخان: 47 - 48] کی تفسیر میں روایت کیا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3727]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3727]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 3727] [ترقيم الشركة 3707]