المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
312. كل امرئ مهيأ لما خلق له
ہر انسان اسی کام کے لیے آسان کر دیا گیا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا
حدیث نمبر: 3763
أخبرني أبو النَّضْر الفقيه، حَدَّثَنَا عثمان بن سعيد الدارِمي، حَدَّثَنَا سليمان بن عبد الرحمن الدِّمشقي، حدثني سليمان بن عُتْبة، قال: سمعتُ يونس بن مَيسَرة بن حَلبَس يحدِّث عن أبي إدريس الخَوْلاني، عن أبي الدَّرداء، عن رسول الله ﷺ أنه سُئِلَ فقيل: يا رسول الله، أرأيتَ ما نعملُ، أشيءٌ قد فُرغَ منه أو شيءٌ نستأنفُه؟ قال:"كلُّ امرِئٍ مهيَّأٌ لما خُلِقَ له". ثم أقبل يونسُ بن ميسرة على سعيد بن عبد العزيز، فقال له: إنَّ تصديق هذا الحديث في كتاب الله ﷿، فقال له سعيد وأين يا ابنَ حَلبَس؟ قال: أمَا تسمعُ الله يقول في كتابه: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ اللَّهِ لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ أُولَئِكَ هُمُ الرَّاشِدُونَ (7) فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَنِعْمَةً﴾ [الحجرات: 7 - 8] ، أرأيتَ يا سعيدُ لو أنَّ هؤلاء أُهمِلوا كما يقول الأخابثُ، أين كانوا يذهبون: حيث حُبِّبَ إليهم وزُيَّنَ لهم، أو حيث كُرِّهَ لهم وبُغِّضَ إليهم؟ (1)
هذا حديث صحيح الإسناد (2) ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3721 - بل قال ابن معين في سليمان بن عتبة لا شيء
هذا حديث صحيح الإسناد (2) ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3721 - بل قال ابن معين في سليمان بن عتبة لا شيء
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: اے اللہ کے رسول! آپ کا ان اعمال کے بارے میں کیا خیال ہے جو ہم کرتے ہیں، کیا یہ کوئی ایسا معاملہ ہے جس کا فیصلہ (تقدیر میں) پہلے ہی کیا جا چکا ہے یا کوئی ایسی چیز ہے جسے ہم نئے سرے سے شروع کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر انسان کو اسی کام کی توفیق دی جاتی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔“ پھر یونس بن میسرہ رحمہ اللہ، سعید بن عبدالعزیز کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے کہا: اس حدیث کی تصدیق اللہ عزوجل کی کتاب میں موجود ہے، سعید نے پوچھا: اے ابن حلبس! وہ کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: کیا تم اللہ کا یہ فرمان نہیں سنتے: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ اللَّهِ لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ أُولَئِكَ هُمُ الرَّاشِدُونَ (7) فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَنِعْمَةً﴾ ”اور جان لو کہ تمہارے درمیان اللہ کے رسول موجود ہیں، اگر وہ بہت سے معاملات میں تمہاری بات مان لیں تو تم مشکل میں پڑ جاؤ گے، لیکن اللہ نے تمہارے لیے ایمان کو محبوب بنا دیا اور اسے تمہارے دلوں میں آراستہ کر دیا اور تمہارے لیے کفر، گناہ اور نافرمانی کو ناپسندیدہ بنا دیا، یہی لوگ راہِ راست پر ہیں، یہ اللہ کے فضل اور اس کی نعمت کے باعث ہے“ [سورة الحجرات: 7-8] ۔ پھر یونس نے کہا: اے سعید! تمہارا کیا خیال ہے، اگر ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جاتا جیسا کہ یہ بدطینت لوگ (منکرینِ تقدیر) کہتے ہیں، تو وہ کس طرف جاتے؟ کیا اسی طرف جہاں ایمان ان کے لیے محبوب اور مزین کیا گیا ہے، یا اس طرف جہاں کفر و نافرمانی ان کے لیے ناپسندیدہ بنا دی گئی ہے؟
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3763]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3763]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل سليمان بن عتبة، وحسّنه الحافظ ابن حجر في "الفتح" 21/ 39، والمرفوع منه صحيح بشواهده. أبو إدريس الخولاني: هو عائد الله بن عبد الله.» [ترقيم الرساله 3763] [ترقيم الشركة 3742] [ترقيم العلميه 3721]
الحكم على الحديث: إسناده حسن من أجل سليمان بن عتبة
حدیث نمبر: 3764
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا أحمد بن مَهْدي، حَدَّثَنَا بِشْر بن شعيب بن أبي حمزة، حدثني أَبي، عن الزُّهْري قال: أخبرني حمزة بن عبد الله بن عمر: أنه بَيْنا هو جالسٌ مع عبد الله بن عمر جاءَه رجل من أهل العراق فقال: يا أبا عبد الرحمن، إني والله لقد حَرَصتُ أن أتسمَّتَ بسَمْتِك، وأَقتديَ بك في أَمر فُرْقةِ الناس، وأعتزلَ الشرَّ ما استطعتُ، وإني أَقرأُ آيةً من كتاب الله مُحكَمةً قد أخَذَت بقلبي، فأخبِرني عنها: أرأيتَ قولَ الله ﷿: ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ﴾ [الحجرات: 9] ، أخبِرْني عن هذه الآية، فقال عبد الله بن عمر: وما لكَ ولذلكَ؟ انصرِفْ عنِّي، فقام الرجلُ فانطَلَق، حتَّى إذا توارى عنّا (1) سَوَادُه أَقبل إلينا عبدُ الله بن عمر، فقال: ما وجدتُ في نفسي في شيء من أمر هذه الآية، ما وجدتُ في نفسي أني لم أُقاتِلْ هذه الفِئةَ الباغيةَ كما أَمَرني الله (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3722 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3722 - على شرط البخاري ومسلم
حمزہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ اپنے والد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے تھے کہ عراق سے ایک شخص آیا اور عرض گزار ہوا: ”اے ابوعبدالرحمن! اللہ کی قسم، میں نے پوری حرص کی کہ آپ کی روش اختیار کروں، تفرقہ بازی کے معاملے میں آپ کی پیروی کروں اور جہاں تک ممکن ہو سکے شر سے کنارہ کش رہوں، لیکن میں اللہ کی کتاب میں ایک ایسی محکم آیت پڑھتا ہوں جس نے میرے دل کو (فکر میں) جکڑ رکھا ہے، پس آپ مجھے اس کے بارے میں بتائیں: اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ﴾ ”اور اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرواؤ، پھر اگر ان میں سے ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو اس گروہ سے لڑو جو زیادتی کر رہا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے، پھر اگر وہ لوٹ آئے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف کرو، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے“ [سورة الحجرات: 9] کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟“ اس پر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تمہارا اس معاملے سے کیا تعلق؟ میرے پاس سے چلے جاؤ“، چنانچہ وہ شخص اٹھا اور چلا گیا، یہاں تک کہ جب وہ ہماری نظروں سے اوجھل ہو گیا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”مجھے اپنے نفس میں اس آیت کے معاملے میں جتنی خلش (اور افسوس) محسوس ہوا، اتنا کسی اور چیز پر نہیں ہوا کہ میں نے اس باغی گروہ کے خلاف قتال کیوں نہ کیا جیسا کہ اللہ نے مجھے حکم دیا تھا“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3764]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3764]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،وسيأتي مكررًا برقم (4648).» [ترقيم الرساله 3764] [ترقيم الشركة 3743] [ترقيم العلميه 3722]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3765
أخبرني الحسن بن حَليم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، أخبرنا أبو مَودُود، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ﴾ [الحجرات: 11] ، قال: لا يَطعُنْ بعضُكم على بعضٍ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3723 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3723 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ﴾ ”اور ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ“ [سورة الحجرات: 11] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اس کا مطلب یہ ہے کہ تم میں سے کوئی ایک دوسرے پر طعنہ زنی نہ کرے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3765]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3765]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة أبي مودود، وقد سقط في رواية المصنّف بينه وبين عكرمة زيد مولى قيس، وهو مجهول أيضًا.» [ترقيم الرساله 3765] [ترقيم الشركة 3744] [ترقيم العلميه 3723]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لجهالة أبي مودود