🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

315. دُعَاؤُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ سَكَرَاتِ الْمَوْتِ
نبی کریم ﷺ کی نزع کے وقت کی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3773
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا محمد بن نُعيم، حَدَّثَنَا قُتَيبة، حَدَّثَنَا الليث بن سعد عن يزيد بن عبد الله بن الهادِ، عن موسى بن سَرجِسَ قال: سمعت ابنَ محمد يُحدِّث وتَلَا قولَ الله ﷿: ﴿وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ﴾ [ق: 19] ، ثم قال: حدَّثتني أمُّ المؤمنين قالت: لقد رأيتُ رسولَ الله ﷺ وهو بالموت وعنده قَدحٌ فيه ماءٌ وهو يُدخِل يدَه في القَدَح، ثم يَمسَحُ وجهَه بالماء، ثم يقول:"اللهم أعِنِّي على سَكَراتِ الموت" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3731 - صحيح
قاسم بن محمد رحمۃ اللہ علیہ نے اس آیت کی تلاوت کی: وَجَآئَتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذٰلِکَ مَا کُنْتَ مِنْہُ تَحِیْدُ (ق: 19) اور آئی موت کی سختی حق کے ساتھ یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا۔ پھر کہا: مجھے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ وفات کے وقت میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ کے پاس ایک پیالے میں پانی رکھا ہوا تھا، آپ اس میں ہاتھ ڈالتے پھر وہ پانی اپنے چہرے پر مل لیتے پھر دعا مانگتے: اللّٰھُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی سَکَرَاتِ الْمَوْتِ اے اللہ سکرات الموت میں میری مدد فرما۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3773]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3774
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل ومحمد بن أحمد الدارَبردي، قالا: حَدَّثَنَا الحارث بن أبي أسامة، حَدَّثَنَا سُرَيج بن النعمان الجَوهَري، حَدَّثَنَا عبد الله بن نافع، عن عاصم بن عمر، عن أبي بكر بن سالم، عن سالم، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ:"أنا أولُ من تَنشَقُّ الأرضُ عنه، ثم أبو بكرٍ، ثم عمرُ، ثم آتي أهلَ البَقِيع، فيُحشَرون معي، ثم أَنتظرُ أهلَ مكة". قال: وتلا عبدُ الله بن عمر: ﴿يَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا ذَلِكَ حَشْرٌ عَلَيْنَا يَسِيرٌ﴾ [ق: 44] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3732 - عبد الله بن نافع ضعيف
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (قیامت کے دن) سب سے پہلے قبر سے مجھے اٹھایا جائے گا، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو، پھر عمر رضی اللہ عنہ کو، پھر اہل بقیع آئیں گے، یہ سب میرے پاس جمع ہوں گے پھر میں اہل مکہ کا انتظار کروں گا اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس آیت کی تلاوت کی: یَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْھُمْ سِرَاعًا ذٰلِکَ حَشْرٌ عَلَیْنَا یَسِیْرٌ (ق: 44) جس دن زمین ان سے پھٹے گی تو جلدی کرتے ہوئے نکلیں گے یہ حشر ہے ہم کو آسان۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3774]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3775
حَدَّثَنَا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الرحمن القرشي بهَراةَ، حَدَّثَنَا سعيد بن منصور المكِّي، حَدَّثَنَا عبَّاد بن العوَّام، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، عن جَرير بن عبد الله قال: أُتيَ النَّبِيُّ ﷺ برجل تُرعَدُ فَرائصُه، قال: فقال له:"هوِّنْ عليك، فإنَّما أنا ابن امرأةٍ من قُريشٍ كانت تأكلُ القَدِيدَ في هذه البَطْحاءِ". قال: ثم تلا جريرُ بن عبد الله البَجَلي: ﴿فَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَنْ يَخَافُ وَعِيدِ﴾ [ق: 45] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3733 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ایک شخص کو لایا گیا جو خوف کی وجہ سے کانپ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کہا: اطمینان سے رہو کیونکہ میں قریش کی ایک ایسی خاتون کا بیٹا ہوں جو اس بطحاء میں خشک گوشت کے ٹکڑے کھایا کرتی تھی پھر جریر بن عبداللہ البجلی نے اس آیت کی تلاوت کی: وَ مَآ اَنْتَ عَلَیْھِمْ بِجَبَّارٍ فَذَکِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ) (ق: 45) اور کچھ تم ان پر جبر کرنے والے نہیں تو قرآن سے نصیحت کرو اسے جو میری دھمکی سے ڈرے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3775]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں