🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

337. بَيَانُ الْفِرَقِ النَّاجِيَةِ مِنْ بَيْنِ سَائِرِ الْأُمَمِ
دیگر امتوں کے مقابلے میں نجات پانے والے فرقے کی وضاحت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3832
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى الشَّهيد، حدثنا عبد الرحمن بن المبارَك، حدثنا الصَّعْق بن حَزْن، عن عَقِيل بن يحيى، عن أبي إسحاق الهَمْداني، عن سُوَيد بن غَفَلة، عن ابن مسعود: ﴿وَجَعَلْنَا فِي قُلُوبِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ رَأْفَةً وَرَحْمَةً وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا فَآتَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا مِنْهُمْ أَجْرَهُمْ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فَاسِقُونَ﴾ [الحديد: 27] ، قال ابن مسعود قال لي رسول الله ﷺ:"يا عبدَ الله بنَ مسعود" قلت: لبَّيكَ يا رسول الله - ثلاث مِرارٍ - قال: هل تدري أيُّ عُرَى الإيمانِ أوثقُ؟" قلت: الله ورسوله أعلمُ، قال:"أوثقُ الإيمان الوَلَايةُ في الله بالحبِّ فيه والبُغْضِ فيه، يا عبدَ الله بنَ مسعود" قلت: لبَّيكَ يا رسول الله - ثلاث مِرارٍ - قال:"هل تدري أيُّ الناس أفضلُ؟" قلت: الله ورسوله أعلمُ، قال:"فإنَّ أفضل الناس أفضلُهم عملًا إذا فَقُهوا في دِينهم، يا عبدَ الله بنَ مسعود قلت: لبَّيك وسَعدَيكَ - ثلاث مِرار - قال:"هل تدري أيُّ الناس أعلمُ؟ قلت: الله ورسوله أعلمُ، قال:"فإنَّ أعلمَ الناس أبصرُهم بالحقِّ إذا اختلف الناسُ، وإن كان مقصِّرًا في العمل، وإن كان يَزحَفُ على اسْتِه. واختَلَفَ مَن كان قبلَنا على ثنتين وسبعين فِرقةً، نَجَا منها ثلاثٌ وهَلَكَ سائرُها: فرقةٌ آزَتِ الملوكَ وقاتلَتْهم على دين الله وعيسى ابن مريم حتى قُتِلوا، وفرقةٌ لم يكن لهم طاقةٌ بمُؤَازاةِ الملوك، فأقاموا بين ظَهْرانَيْ قومِهم فَدَعَوهُم إلى دين الله ودين عيسى ابن مريم، فقتَلَتْهم الملوكُ ونَشَرَتهم بالمناشير، وفرقةٌ لم يكن لهم طاقةٌ بمُؤَازاةِ الملوك ولا بالمُقام بين ظَهْرانَيْ قومِهم، فدَعَوهم إلى الله وإلى دين عيسى ابن مريم فساحُوا في الجبال وترهَّبوا فيها، فهُم الذين قال الله: ﴿وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا﴾ إلى قوله: ﴿فَاسِقُونَ﴾ [الحديد: 27] ، فالمؤمنون الذين آمنوا بي وصدَّقوني، والفاسقون الذين كَفَروا بي وجَحَدوا بي" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ﷽ [58 - ومن تفسير سورة المجادلة]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3790 - ليس بصحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَجَعَلْنَا فِي قُلُوبِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ رَأْفَةً وَرَحْمَةً وَرَهْبَانِيَّةً ابتدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا فَآتَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا مِنْهُمْ أَجْرَهُمْ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فَاسِقُونَ﴾ [الحديد: 27] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عبداللہ بن مسعود! میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں - تین مرتبہ - آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ ایمان کا کون سا کڑا سب سے زیادہ مضبوط ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان کا سب سے مضبوط کڑا اللہ کی خاطر دوستی رکھنا ہے، یعنی اللہ ہی کے لیے محبت کرنا اور اسی کے لیے دشمنی رکھنا۔ اے عبداللہ بن مسعود! میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں - تین مرتبہ - آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ کون سے لوگ سب سے افضل ہیں؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک سب سے افضل لوگ وہ ہیں جو عمل میں سب سے بہتر ہوں جب وہ اپنے دین کی سمجھ بوجھ (فقہ) حاصل کر لیں، اے عبداللہ بن مسعود! میں نے عرض کیا: میں حاضر ہوں اور آپ کی اطاعت کے لیے ہمہ وقت تیار ہوں - تین مرتبہ - آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ لوگوں میں سب سے زیادہ صاحبِ علم کون ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک سب سے زیادہ علم والا وہ ہے جو حق کو سب سے زیادہ پہچاننے والا ہو جب لوگ اختلاف میں پڑ جائیں، اگرچہ وہ عمل میں کچھ پیچھے ہو اور چاہے وہ (جسمانی کمزوری کی وجہ سے) اپنی سرین کے بل گھسٹ کر چلتا ہو۔ اور ہم سے پہلے جو لوگ تھے وہ بہتر (72) فرقوں میں تقسیم ہو گئے تھے، جن میں سے تین نے نجات پائی اور باقی سب ہلاک ہو گئے: ایک وہ گروہ جس نے بادشاہوں کا مقابلہ کیا اور اللہ کے دین اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے دین پر ان سے جنگ کی یہاں تک کہ وہ قتل کر دیے گئے، دوسرا وہ گروہ جس میں بادشاہوں کے مقابلے کی طاقت نہ تھی تو وہ اپنی قوم کے درمیان مقیم رہے اور انہیں اللہ کے دین اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے دین کی دعوت دی، پس بادشاہوں نے انہیں قتل کر دیا اور انہیں آریوں سے چیر ڈالا، اور تیسرا وہ گروہ جس میں نہ تو بادشاہوں کے مقابلے کی سکت تھی اور نہ اپنی قوم کے درمیان قیام کی ہمت تھی، انہوں نے لوگوں کو اللہ اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے دین کی طرف بلایا اور پھر پہاڑوں میں نکل گئے اور وہاں رہبانیت اختیار کر لی، پس یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا﴾ اللہ کے اس قول ﴿فَاسِقُونَ﴾ [الحديد: 27] تک، پس مومن وہ ہیں جو مجھ پر ایمان لائے اور میری تصدیق کی، اور فاسق وہ ہیں جنہوں نے میرا کفر کیا اور میرا انکار کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3832]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا من أجل عقيل، وهو عقيل الجَعْدي، ولم يقع أبوه مسمًّى إلا في رواية المصنف، وعقيل هذا قال البخاري وغيره: منكر الحديث، وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه"، وقال أبو حاتم فيما نقله عنه ابنه في "علل الحديث" (1977): الحديث منكر لا يشبه حديث أبي إسحاق ويشبه أن يكون ...» [ترقيم الرساله 3832] [ترقيم الشركة 3811] [ترقيم العلميه 3790]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا من أجل عقيل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں