🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

338. تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمُجَادَلَةِ -نُزُولُ كَفَّارَةِ الظِّهَارِ فِي أَوْسِ بْنِ الصَّامِتِ
تفسیرِ سورۃ المجادلہ — اوس بن صامت کے واقعے میں کفارۂ ظہار کا نزول
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3833
حدثنا الشيخ أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا محمد بن عبد الله الحَضْرمي، حدثنا محمد بن أبي عُبيدة بن مَعْن المسعودي، حدثني أَبي، عن الأعمش، عن تميم بن سَلَمة، عن عُرْوة قال: قالت عائشة: تَبارَكَ الذي وَسِعَ سمعُه كلَّ شيء، إني لأسمعُ كلامَ خولةَ بنت ثَعْلبة ويخفى عليَّ بعضُه وهي تشتكي زوجَها إلى رسول الله ﷺ، وهي تقول: يا رسول الله، أَكَلَ شبابي، ونَثَرتُ له بطني، حتى إذا كَبِرَت سِنِّي وانقَطَع له ولدي، ظاهَرَ منِّي، اللهمَّ إني أشكُو إليك، قالت عائشة: فما بَرِحَت حتى نَزَلَ جبريل ﵇ بهؤلاء الآيات: ﴿قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا﴾ [المجادلة:1] . قال: وزوجُها أَوسُ بن الصامت (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رُوِيَ عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة ﵂ مختصرًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3791 - صحيح
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس کی سماعت ہر چیز پر محیط ہے، میں خولہ بنت ثعلبہ کی باتیں سن رہی تھی جبکہ وہ اپنے شوہر کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر رہی تھیں اور ان کی بعض باتیں مجھ پر مخفی رہ جاتی تھیں، وہ کہہ رہی تھیں: اے اللہ کے رسول! اس (شوہر) نے میری جوانی کھا لی، اور میں نے اس کے لیے اپنا پیٹ بچھا دیا (یعنی کثرت سے اولاد ہوئی)، یہاں تک کہ جب میری عمر زیادہ ہو گئی اور میری اولاد کا سلسلہ منقطع ہو گیا تو اس نے مجھ سے ظہار کر لیا، اے اللہ! میں تیرے ہی حضور اپنی فریاد اور شکایت پیش کرتی ہوں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ ابھی اپنی جگہ سے ہٹی بھی نہ تھیں کہ جبریل علیہ السلام یہ آیات لے کر نازل ہوئے: ﴿قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا﴾ یقیناً اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو اپنے شوہر کے بارے میں آپ سے تکرار کر رہی تھی۔ [المجادلة: 1] اور ان کے شوہر اوس بن صامت رضی اللہ عنہ تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ نیز یہ ہشام بن عروہ کی اپنے والد سے اور ان کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی روایت میں مختصراً بھی بیان ہوا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3833]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح محمد بن عبد الله الحضرمي: هو الحافظ المعروف بمطيَّن.» [ترقيم الرساله 3833] [ترقيم الشركة 3812] [ترقيم العلميه 3791]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3834
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا علي بن الحسن الهِلالي، حدثنا أبو النَّعمان محمد بن الفَضْل، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن هشام بن عُروة، عن أبيه، عن عائشة: أنَّ جميلةَ كانت امرأةَ أَوْس بن الصامت، وكان أوسُ امرَأً به لَمَمٌ، فإذا اشتدَّ به لممُه ظاهَرَ من امرأته فأَنزل الله فيه كفَّارةَ الظِّهار (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3792 - على شرط مسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جمیلہ، اوس بن صامت کی زوجہ تھیں، اور اوس ایک ایسے شخص تھے جنہیں کچھ دماغی خلل (دورے) کی شکایت تھی، پس جب ان کی یہ کیفیت شدت اختیار کرتی تو وہ اپنی بیوی سے ظہار کر بیٹھتے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں ظہار کا کفارہ نازل فرمایا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3834]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 3834] [ترقيم الشركة 3813] [ترقيم العلميه 3792]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں