المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
337. بيان الفرق الناجية من بين سائر الأمم
دیگر امتوں کے مقابلے میں نجات پانے والے فرقے کی وضاحت
حدیث نمبر: 3832
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى الشَّهيد، حدثنا عبد الرحمن بن المبارَك، حدثنا الصَّعْق بن حَزْن، عن عَقِيل بن يحيى، عن أبي إسحاق الهَمْداني، عن سُوَيد بن غَفَلة، عن ابن مسعود: ﴿وَجَعَلْنَا فِي قُلُوبِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ رَأْفَةً وَرَحْمَةً وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا فَآتَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا مِنْهُمْ أَجْرَهُمْ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فَاسِقُونَ﴾ [الحديد: 27] ، قال ابن مسعود قال لي رسول الله ﷺ:"يا عبدَ الله بنَ مسعود" قلت: لبَّيكَ يا رسول الله - ثلاث مِرارٍ - قال: هل تدري أيُّ عُرَى الإيمانِ أوثقُ؟" قلت: الله ورسوله أعلمُ، قال:"أوثقُ الإيمان الوَلَايةُ في الله بالحبِّ فيه والبُغْضِ فيه، يا عبدَ الله بنَ مسعود" قلت: لبَّيكَ يا رسول الله - ثلاث مِرارٍ - قال:"هل تدري أيُّ الناس أفضلُ؟" قلت: الله ورسوله أعلمُ، قال:"فإنَّ أفضل الناس أفضلُهم عملًا إذا فَقُهوا في دِينهم، يا عبدَ الله بنَ مسعود قلت: لبَّيك وسَعدَيكَ - ثلاث مِرار - قال:"هل تدري أيُّ الناس أعلمُ؟ قلت: الله ورسوله أعلمُ، قال:"فإنَّ أعلمَ الناس أبصرُهم بالحقِّ إذا اختلف الناسُ، وإن كان مقصِّرًا في العمل، وإن كان يَزحَفُ على اسْتِه. واختَلَفَ مَن كان قبلَنا على ثنتين وسبعين فِرقةً، نَجَا منها ثلاثٌ وهَلَكَ سائرُها: فرقةٌ آزَتِ الملوكَ وقاتلَتْهم على دين الله وعيسى ابن مريم حتى قُتِلوا، وفرقةٌ لم يكن لهم طاقةٌ بمُؤَازاةِ الملوك، فأقاموا بين ظَهْرانَيْ قومِهم فَدَعَوهُم إلى دين الله ودين عيسى ابن مريم، فقتَلَتْهم الملوكُ ونَشَرَتهم بالمناشير، وفرقةٌ لم يكن لهم طاقةٌ بمُؤَازاةِ الملوك ولا بالمُقام بين ظَهْرانَيْ قومِهم، فدَعَوهم إلى الله وإلى دين عيسى ابن مريم فساحُوا في الجبال وترهَّبوا فيها، فهُم الذين قال الله: ﴿وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا﴾ إلى قوله: ﴿فَاسِقُونَ﴾ [الحديد: 27] ، فالمؤمنون الذين آمنوا بي وصدَّقوني، والفاسقون الذين كَفَروا بي وجَحَدوا بي" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ﷽ [58 - ومن تفسير سورة المجادلة]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3790 - ليس بصحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ﷽ [58 - ومن تفسير سورة المجادلة]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3790 - ليس بصحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت کی: وَجَعَلْنَا فِي قُلُوبِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ رَأْفَةً وَرَحْمَةً وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا فَآتَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا مِنْهُمْ أَجْرَهُمْ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فَاسِقُونَ (الحدید: 27) ” اس کے پیروں کے دل میں نرمی اور رحمت رکھی اور راہب بننا تو یہ بات انہوں نے دین میں اپنی طرف سے نکالی ہم نے ان پر مقرر نہ کی تھی ہاں یہ بدعت انہوں نے اللہ کی رضا چاہنے کو پیدا کی پھر اسے نہ نباہا جیسا اس کے نباہنے کا حق تھا تو ان کے ایمان والوں کو ہم نے ثواب عطا کیا، اور ان میں سے بہتیرے فاسق ہیں۔“ پھر فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ میں نے تین مرتبہ کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ ایمان کا کون سا گوشہ سب سے زیادہ مضبوط ہے؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ایمان کا مضبوط ترین گوشہ یہ ہے کہ تمام تر رشتہ داریاں اللہ کے لئے ہوں۔ کسی کے ساتھ محبت بھی اسی کی خاطر اور بغض بھی اسی کی خاطر ہو (آپ نے پھر فرمایا) اے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ! میں نے تین مرتبہ کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں۔ آپ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ کون سا شخص سب سے افضل ہے؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: سب سے افضل انسان وہ ہے جس کا عمل سب سے افضل ہے جبکہ وہ لوگ دین میں سمجھ بوجھ رکھتے ہوں (آپ نے پھر فرمایا) اے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ! میں نے تین مرتبہ کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حاضر ہوں۔ آپ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ کون سا آدمی سب سے زیادہ علم والا ہے۔ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: سب سے زیادہ علم والا وہ شخص ہے جو لوگوں کے اختلاف کے وقت حق کی سب سے زیادہ بصیرت رکھنے والا ہے۔ اگرچہ اس کا عمل کم ہی کیوں نہ ہو۔ اگرچہ وہ سرین کے بل گھسٹتا ہو۔ تم سے پہلے لوگ 72 فرقوں میں بٹ گئے تھے۔ ان میں سے صرف تین سلامت رہے تھے باقی سب ہلاک ہو گئے۔ ٭ وہ فرقہ جنہوں نے بادشاہوں کا سامنا کیا، اللہ تعالیٰ کے دین اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے دین پر لڑتے رہے حتیٰ کہ شہید کر دئیے گئے۔ ٭ وہ فرقہ جن میں بادشاہوں کا سامنا کرنے کی سکت نہ تھی وہ اپنی قوم میں رہائش پذیر رہے، ان کو اللہ تعالیٰ کے دین اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے دین کی طرف بلاتے رہے۔ بادشاہوں نے ان کو قتل کر ڈالا اور ان کو آروں سے چیر ڈالا۔ ٭ وہ فرقہ جن میں نہ تو بادشاہوں کا سامنا کرنے کی سکت تھی اور نہ اپنی قوم میں ٹھہرنے کی ہمت تھی، انہوں نے بھی اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کے دین اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے دین کی طرف دعوت دی اور یہ پہاڑوں میں چلے گئے اور وہیں پر انہوں نے رہبانیت اختیار کر لی۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا فَآتَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا مِنْهُمْ أَجْرَهُمْ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فَاسِقُونَ (الحدید: 27) چنانچہ مومن وہ ہیں جو مجھ پر ایمان لائے اور میری تصدیق کی اور فاسق وہ ہیں جنہوں نے میرا انکار کیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3832]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3832 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
ولقوله: "أفضل الناس أفضلهم عملًا إذا فقهوا في دينهم" انظر حديث أبي هريرة عند أحمد أيضًا 12/ (7496).
🧩 متابعات و شواہد: اور اس فرمان کہ "لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جس کا عمل سب سے اچھا ہو جب وہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کر لیں" کے لیے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث دیکھیے جو مسند احمد 12/ (7496) میں درج ہے۔
وقوله: "آزت الملوك" أي قاومتهم، يقال: فلانٌ إِزَاءٌ لفلان: إذا كان مقاومًا له. قاله ابن الأثير في "النهاية".
📝 نوٹ / توضیح: قول "آزت الملوک" کا معنی ہے "ان بادشاہوں کا مقابلہ کیا"۔ لغت میں کہا جاتا ہے "فلاں شخص فلاں کے 'ازاء' ہے" یعنی اس کے مقابل ہے۔ یہ وضاحت علامہ ابن الاثیر نے "النہایہ" میں کی ہے۔
(1) إسناده ضعيف جدًّا من أجل عقيل، وهو عقيل الجَعْدي، ولم يقع أبوه مسمًّى إلا في رواية المصنف، وعقيل هذا قال البخاري وغيره: منكر الحديث، وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه"، وقال أبو حاتم فيما نقله عنه ابنه في "علل الحديث" (1977): الحديث منكر لا يشبه حديث أبي إسحاق ويشبه أن يكون عقيل هذا أعرابي، والصعق فلا بأس به. وأخرجه الطبراني في "الكبير" (10531)، وأبو نعيم في "الحلية" 4/ 177، والبيهقي في "شعب الإيمان" (9065)، وابن عبد البر في "جامع بيان العلم وفضله" (1500) من طرق عن عبد الرحمن بن المبارك العائشي، بهذا الإسناد. ورواية ابن عبد البردون الشطر الثاني من الحديث.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند عقیل الجعدی کی وجہ سے سخت ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عقیل کے باپ کا نام صرف مصنف کی روایت میں مذکور ہے۔ امام بخاری اور دیگر محدثین نے عقیل کو "منکر الحدیث" قرار دیا ہے، اور امام ذہبی نے بھی "تلخیص" میں اسی وجہ سے اسے معلول (عیب دار) کہا ہے۔ امام ابوحاتم نے "علل الحدیث" (1977) میں فرمایا کہ یہ حدیث منکر ہے اور ابواسحاق کی روایات سے مشابہت نہیں رکھتی، لگتا ہے عقیل کوئی بدوی (اعرابی) ہے۔ البتہ "صعق" نامی راوی میں کوئی حرج نہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی (کبیر: 10531)، ابونعیم (حلیہ: 4/ 177)، بیہقی (شعب الایمان: 9065) اور ابن عبدالبر نے "جامع بیان العلم" (1500) میں عبدالرحمن بن مبارک عائشی کی سند سے روایت کیا ہے۔ ابن عبدالبر کی روایت میں حدیث کا دوسرا حصہ موجود نہیں۔
وأخرجه تامًّا ومقطَّعًا: أبو داود الطيالسي (376)، وابن أبي شيبة في "مسنده" (321)، وفي "مصنفه" 11/ 48، وابن أبي عاصم في "السنة" (70)، والمروزي في "السنة" (54)، والخرائطي في "مكارم الأخلاق" (823)، والشاشي في "مسنده" (772)، والعقيلي في "الضعفاء" (1397)، والطبراني في "الأوسط" (4479)، وفي "الصغير" (624)، وأبو نعيم في "الحلية" 4/ 177، والثعلبي في "تفسيره" 9/ 248، وأبو ذر الهروي في "فوائده" (1) والبيهقي في "السنن" 10/ 233، وفي "المدخل إلى السنن" (840)، وفي "الشعب" (9064) و (9065)، وابن عبد البر في "بيان العلم وفضله" (1500) و (1502) و (1503)، وفي "التمهيد" 17/ 430، والخطيب البغدادي في "الفقيه والمتفقه" (746) من طرق عن الصعق بن حزن، به.
📖 حوالہ / مصدر: اس روایت کو مکمل اور ٹکڑوں کی صورت میں درج ذیل ائمہ نے صعق بن حزن کے طریق سے روایت کیا ہے: ابوداؤد طیالسی (376)، ابن ابی شیبہ (مسند: 321، مصنف: 11/ 48)، ابن ابی عاصم (السنہ: 70)، مروزی (السنہ: 54)، خرائطی (مکارم الاخلاق: 823)، شاشی (مسند: 772)، عقیلی (الضعفاء: 1397)، طبرانی (اوسط: 4479، صغیر: 624)، ابونعیم (حلیہ: 4/ 177)، ثعلبی (تفسیر: 9/ 248)، ابوذر ہروی (فوائد: 1)، بیہقی (سنن کبریٰ: 10/ 233، المدخل: 840، شعب الایمان: 9064، 9065)، ابن عبدالبر (بیان العلم: 1500، 1502، 1503، تمہید: 17/ 430) اور خطیب بغدادی (الفقیہ والمتفقہ: 746)۔
وأخرجه كذلك تامًّا ومقطعًا: ابن أبي عاصم (71)، والطبراني في "الكبير" (10357)، وابن عدي في "الكامل" 2/ 34، وأبو القاسم بن بشران في "أماليه" (775)، وابن عبد البر في "بيان العلم وفضله" (1501)، والخطيب البغدادي (747) من طريقين عن بكير بن معروف، عن مقاتل بن حيان، عن القاسم بن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود، عن أبيه، عن جده. وبكير بن معروف فيه لِين وقد تفرَّد عن مقاتل بن حيان بهذا الإسناد والمحفوظ في هذا الحديث أنه من رواية عقيل الجعدي.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اسے ابن ابی عاصم (71)، طبرانی (کبیر: 10357)، ابن عدی (الکامل: 2/ 34)، ابن بشران (امالی: 775)، ابن عبدالبر اور خطیب بغدادی نے بکیر بن معروف عن مقاتل بن حیان عن القاسم بن عبدالرحمن عن ابیہ عن جدہ (ابن مسعود) کے طریق سے روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: بکیر بن معروف میں "لین" (کمزوری) پایا جاتا ہے اور وہ مقاتل بن حیان سے اس سند کے ساتھ روایت کرنے میں متفرد ہیں، جبکہ اس حدیث میں "محفوظ" بات یہ ہے کہ یہ عقیل الجعدی کی روایت ہے۔
ولقوله: "أوثق عرى الإيمان الحب في الله والبغض في الله" انظر حديث البراء بن عازب عند أحمد 30/ (18524).
🧩 متابعات و شواہد: آپ ﷺ کے فرمان کہ "ایمان کا سب سے مضبوط کڑا اللہ کے لیے محبت اور اللہ کے لیے دشمنی ہے" کے لیے حضرت براء بن عازب کی حدیث دیکھیے جو مسند احمد 30/ (18524) میں موجود ہے۔