المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
338. تفسير سورة المجادلة -نزول كفارة الظهار فى أوس بن الصامت
تفسیرِ سورۃ المجادلہ — اوس بن صامت کے واقعے میں کفارۂ ظہار کا نزول
حدیث نمبر: 3833
حدثنا الشيخ أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا محمد بن عبد الله الحَضْرمي، حدثنا محمد بن أبي عُبيدة بن مَعْن المسعودي، حدثني أَبي، عن الأعمش، عن تميم بن سَلَمة، عن عُرْوة قال: قالت عائشة: تَبارَكَ الذي وَسِعَ سمعُه كلَّ شيء، إني لأسمعُ كلامَ خولةَ بنت ثَعْلبة ويخفى عليَّ بعضُه وهي تشتكي زوجَها إلى رسول الله ﷺ، وهي تقول: يا رسول الله، أَكَلَ شبابي، ونَثَرتُ له بطني، حتى إذا كَبِرَت سِنِّي وانقَطَع له ولدي، ظاهَرَ منِّي، اللهمَّ إني أشكُو إليك، قالت عائشة: فما بَرِحَت حتى نَزَلَ جبريل ﵇ بهؤلاء الآيات: ﴿قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا﴾ [المجادلة:1] . قال: وزوجُها أَوسُ بن الصامت (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رُوِيَ عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة ﵂ مختصرًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3791 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رُوِيَ عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة ﵂ مختصرًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3791 - صحيح
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: برکت والی ہے وہ ذات جس کی سماعت ہر چیز پر حاوی ہے، بے شک میں خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا کا کلام سنتی ہوں جبکہ یہ بعض لوگوں پر مخفی ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے شوہر کی شکایت لے کر آئیں وہ کہہ رہی تھیں: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے میری جوانب برباد کر دی، میرا پیٹ اس کے لئے پھیل چکا ہے لیکن اب جبکہ مجھے بڑھاپے نے آ لیا اور اس کے لئے میری اولاد کا سلسلہ ختم ہو چکا تو اس نے مجھ سے ظہار کر لیا۔ اے اللہ! میں تیری بارگاہ میں یہ شکایت لاتی ہوں۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: وہ مسلسل یونہی دعا مانگتی رہی حتیٰ کہ سیدنا جبریل امین علیہ السلام یہ آیات لے کر نازل ہوئے: قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِھَا (المجادلۃ: 1) ” بیشک اللہ نے سنی اس کی بات جو تم سے اپنے شوہر کے معاملہ میں بحث کرتی ہے۔“ (راوی کہتے ہیں: اس کا شوہر ” عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ “ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ ہشام بن عروہ اپنے والد کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مختصراً روایت کیا ہے (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3833]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3833 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح محمد بن عبد الله الحضرمي: هو الحافظ المعروف بمطيَّن.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: محمد بن عبداللہ حضرمی ایک مشہور حافظِ حدیث ہیں جو "مطین" کے لقب سے معروف ہیں۔
وأخرجه ابن ماجه (2063) عن أبي بكر بن أبي شيبة، عن محمد بن أبي عبيدة، بهذا الإسناد. وأخرجه بنحوه أحمد 40 / (24195)، وابن ماجه (188)، والنسائي (5625) و (11506) من طريقين عن الأعمش، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (2063) نے ابوبکر بن ابی شیبہ عن محمد بن ابی عبیدہ کی سند سے روایت کیا ہے۔ نیز امام احمد (40/ 24195)، ابن ماجہ (188) اور امام نسائی (5625 اور 11506) نے اعمش کے دو طریقوں سے اس کے ہم معنی روایت تخریج کی ہے۔