المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
366. الْمَانِعَةُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ سُورَةُ الْمُلْكِ
سورۃ الملک عذابِ قبر سے بچانے والی ہے
حدیث نمبر: 3881
أخبرني الحسن بن حَليم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، أخبرنا سفيان، عن عاصم، عن زِرٍّ، عن ابن مسعود قال: يُؤتَى الرجلُ في قبره، فتُؤتى رِجلاه، فتقول رجلاهُ: ليس لكم على ما قِبَلي سبيلٌ، كان يقرأُ بي سورةَ المُلْكَ، ثم يُؤتَى من قِبَل صدره - أو قال: بطنه - فيقول: ليس لكم على ما قِبَلي سبيلٌ، كان يقرأُ بي سورةَ المُلْك، ثم يُؤتَى رأسُه فيقول: ليس لكم على ما قِبَلي سبيلٌ، كان يقرأُ بي سورةَ المُلْك، قال: فهي المانعةُ، تَمنَعُ من عذاب القبر، وهي في التوراة: سورةُ المُلْكَ، مَن قرأها في ليلةٍ فقد أكثَرَ وأطيَبَ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ﷽ [68 - تفسير سورة القلم]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3839 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ﷽ [68 - تفسير سورة القلم]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3839 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انسان کو اس کی قبر میں (عذاب دینے کے لیے) اس کے پیروں کی جانب سے آیا جاتا ہے، تو اس کے پیر کہتے ہیں: تمہارے پاس میری طرف سے کوئی راستہ نہیں ہے، کیونکہ یہ مجھ (کی مدد) سے سورہ ملک پڑھا کرتا تھا، پھر اس کے سینے - یا پیٹ - کی طرف سے آیا جاتا ہے، تو وہ کہتا ہے: تمہارے پاس میری طرف سے کوئی راستہ نہیں ہے، کیونکہ یہ مجھ سے سورہ ملک پڑھا کرتا تھا، پھر اس کے سر کی جانب سے آیا جاتا ہے، تو وہ کہتا ہے: تمہارے پاس میری طرف سے کوئی راستہ نہیں ہے، کیونکہ یہ مجھ سے سورہ ملک پڑھا کرتا تھا، انہوں نے فرمایا: پس یہ سورت عذابِ قبر سے روکنے والی ہے اور تورات میں بھی اس کا نام سورہ ملک ہی ہے، جس نے اسے رات میں پڑھا اس نے بہت زیادہ اور پاکیزہ عمل کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3881]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3881]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل عاصم: وهو ابن أبي النجود. أبو الموجه: هو محمد بن عمرو الفَزَاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك، وسفيان: هو الثوري.» [ترقيم الرساله 3881] [ترقيم الشركة 3860] [ترقيم العلميه 3839]
الحكم على الحديث: إسناده حسن