🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

380. افْتِرَاقُ النَّاسِ بِخُرُوجِ الدَّجَّالِ عَلَى ثَلَاثِ فِرَقٍ
دجال کے خروج پر لوگوں کا تین گروہوں میں بٹ جانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3917
أخبرنا أبو بكر محمد بن جعفر بن موسى المزكِّي، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العَبْدي، حدثنا محبوب بن موسى الأنطاكي، حدثنا ابن المبارَك، حدثنا سفيان بن سعيد، عن سَلَمة بن كُهَيل، عن أبي الزَّعْراء قال: ذُكِرَ الدَّجّالُ عند عبد الله بن مسعود، فقال: تفترقون أيها الناسُ بخروجه ثلاثَ فِرَق. ثم قال ابن مسعود: يا أيها الكفار ﴿مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ (42) قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ (43) وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ (44) وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ (45) وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ (46) حَتَّى أَتَانَا الْيَقِينُ (47) فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ (48) ﴾، ثم قال ابن مسعود: ألا تَرَونَ في هؤلاء من خيرٍ ألَّا يُترَك فيها، فإذا أراد الله أن لا يَخرُجَ منها أحدٌ غيَّر وجوهَهم وألوانَهم، فيَخِرُّ الرجلُ من المؤمنين فيقول: يا ربِّ، فيقول: من عَرَفَ رجلًا فليُخرِجْه، فيَنظُر فلا يعرفُ أحدًا، فيناديه الرجلُ: يا فلانُ، أنا فلانٌ، فيقول: ما أعرفُ، فعندَ ذلك يقولون: و ﴿رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ (107) ﴾ فيقول عندَ ذلك: ﴿اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ (108)[المؤمنون: 107 - 108] ، فإذا قال ذلك، أطبَقَت عليهم جهَنَّمُ فلا يُخرِجُ بعد ذلك أحدًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
3896 - سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس دجال کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: اے لوگو! اس کے خروج کے وقت تم تین گروہوں میں بٹ جاؤ گے۔ پھر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے کافرو! (قرآن کی یہ آیات تلاوت کیں)تمہیں کس چیز نے دوزخ میں داخل کیا؟ وہ کہیں گے: ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے، اور نہ ہم مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے، اور ہم لغویات میں پڑنے والوں کے ساتھ پڑے رہتے تھے، اور ہم روزِ جزا کو جھٹلایا کرتے تھے، یہاں تک کہ ہمیں یقینی موت آ پہنچی۔ تو اب سفارش کرنے والوں کی سفارش انہیں کوئی فائدہ نہیں دے گی۔ پھر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم نہیں دیکھتے کہ ان لوگوں میں جو تھوڑی بہت بھلائی تھی وہ بھی چھوڑ دی گئی؟ پھر جب اللہ تعالیٰ یہ چاہے گا کہ ان میں سے کوئی بھی جہنم سے باہر نہ نکلے تو ان کے چہرے اور رنگ بدل دیے جائیں گے۔ پھر ایک مومن آدمی نکلے گا اور کہے گا: اے میرے رب! تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جو کسی آدمی کو پہچانتا ہو وہ اسے نکال لے۔ وہ دیکھے گا مگر کسی کو پہچان نہ سکے گا۔ اس پر ایک شخص اسے پکارے گا: اے فلاں! میں فلاں ہوں۔ وہ کہے گا: میں تمہیں نہیں پہچانتا۔ اسی وقت وہ لوگ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہمیں یہاں سے نکال لے، پھر اگر ہم دوبارہ (گناہوں کی طرف) لوٹیں تو بے شک ہم ظالم ہوں گے۔ تب اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہیں ذلیل ہو کر پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو۔ جب یہ کہا: جائے گا تو جہنم ان پر بند کر دی جائے گی، پھر اس کے بعد کبھی کوئی بھی وہاں سے نہیں نکلے گا۔ یہ حدیث صحیح ہے، شیخین (امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم) کی شرط کے مطابق ہے، اگرچہ انہوں نے اسے اپنی کتابوں میں روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3917]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3918
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، أخبرنا يَعلى بن عُبيد، حدثنا الأعمش، عن أبي ظَبْيان، عن أبي موسى في قوله ﷿: ﴿فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ (51)[المدثر: 51] ، قال: القَسْورةُ: الرُّماة رجالُ القَنْص (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3875 - صحيح
ابوالزعراء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس دجال کا تذکرہ ہوا تو انہوں نے فرمایا: اے لوگو! اس کے ظاہر ہونے پر تم تین جماعتوں میں بٹ جاؤ گے۔ پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: (اللہ تعالیٰ فرمائے گا) اے کافرو! تمہیں کیا بات دوزخ میں لے گئی؟ وہ بولے: ہم نماز نہ پڑھتے تھے اور مسکین کو کھانا نہ دیتے تھے اور بیہودہ فکر والوں کے ساتھ بیہودہ فکر کرتے تھے اور ہم انصاف کے دن کو جھٹلاتے رہے۔ یہاں تک کہ ہمیں موت آئی تو انہیں سفارشیوں کی سفارش کام نہ دے گی۔ پھر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم ان میں بھلائی نہیں دیکھتے ہو مگر اس میں چھوڑ دیا گیا، جب اللہ تعالیٰ ارادہ کرے گا کہ کوئی اس میں سے باہر نہ نکلے تو ان کے چہرے اور رنگ تبدیل فرما دے گا۔ تب ایک آدمی مومنین میں سے نکلے گا اور عرض کرے گا: اے میرے رب۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جس جس کو پہچانتا ہے ان کو نکال لا۔ وہ دیکھے گا تو کسی کو بھی نہ پہچان سکے گا، اس کو آدمی یوں آوازیں دے گا۔ اے فلاں! میں فلاں شخص ہوں۔ وہ کہے گا: میں تجھے نہیں پہچانتا ہوں۔ اس وقت وہ لوگ کہیں گے اے ہمارے رب ہم کو دوزخ سے نکال دے پھر اگر ہم ویسے ہی کریں تو ہم ظالم ہیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا: دھتکارے یعنی خائب و خاسر پڑے رہو، اس میں اور مجھ سے بات نہ کرو۔ جب اللہ تعالیٰ یہ فرمائے گا تو جہنم ان کو ڈھانپ لے گی پھر اس کے بعد کبھی بھی کوئی جہنم سے باہر نہیں نکل سکے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد: فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَۃٍ (المدثر: 51) شیر سے بھاگے ہوں۔ کے متعلق فرماتے ہیں (قسورہ کا مطلب) شکار کی طرح (ڈر کر) بھاگنے والے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3918]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3919
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل البَجَلي، حدثنا سُريج بن النُّعمان، حدثنا سُهيل بن أبي حَزْم، حدثنا ثابت البُناني، عن أنس بن مالك قال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ قرأَ: ﴿وَمَا يَذْكُرُونَ (1) إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ هُوَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ﴾ [المدثر: 56] ، قال:"يقول ربُّكم ﷿: أنا أَهلٌ أن أُتَّقَى أن يُجعَلَ معي إلهٌ آخرُ، وأنا أهلٌ لمن اتَّقى أن يَجعَل معى إلهًا آخرَ أن أَغفِرَ له" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ﷽ [75 - تفسير سورة القيامة]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3876 - صحيح
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ آیت) پڑھی: وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّا اَنْ یّشَآءَ اللّٰہُ ھُوَ اَھْلُ التَّقْوٰی وَ اَھْلُ الْمَغْفِرَۃِ) (المدثر: 56) اور وہ کیا نصیحت مانیں مگر جب اللہ چاہے، وہی ہے ڈرنے کے لائق اور اسی کی شان ہے مغفرت فرمانا۔ آپ نے فرمایا: تمہارا رب عزوجل فرماتا ہے: میں اس بات کا اہل ہوں کہ میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے سے بچا جائے اور میں ہی اس بات کا اہل ہوں کہ جو شرک سے بچتا رہے میں اس کو بخش دوں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3919]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں