المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
402. أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ
مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک وہ لا إله إلا الله نہ کہیں
حدیث نمبر: 3970
حدَّثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدَّثنا الحسن بن علي بن عفَّان، حدَّثنا أبو داود عمر بن سعد الحَفَري، حدَّثنا سفيان، عن أبي الزُّبير، عن جابر قال: قال رسول الله ﷺ:"أُمِرتُ أن أقاتلَ الناسَ حتى يقولوا: لا إله إلا الله، فإذا قالوها، عَصَموا مني دماءَهم وأموالَهم إلَّا بحقِّها، وحِسابُهم على الله"، ثم قرأ رسول الله ﷺ: ﴿لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ (2) (22) إِلَّا مَنْ تَوَلَّى وَكَفَرَ (23) فَيُعَذِّبُهُ اللَّهُ الْعَذَابَ الْأَكْبَرَ﴾ [الغاشية: 22 - 24] (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه الزيادة! [89 - تفسير سورة الفجر] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3926 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه الزيادة! [89 - تفسير سورة الفجر] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3926 - على شرط مسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کہہ دیں، پس جب وہ یہ کلمہ کہہ لیں گے تو انہوں نے مجھ سے اپنے خون اور اپنے اموال کو محفوظ کر لیا سوائے اس کے حق کے، اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیات تلاوت فرمائیں: ﴿لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ (22) إِلَّا مَنْ تَوَلَّى وَكَفَرَ (23) فَيُعَذِّبُهُ اللَّهُ الْعَذَابَ الْأَكْبَرَ﴾ [سورة الغاشية: 22-24] ”آپ ان پر داروغہ نہیں ہیں، مگر جس نے منہ موڑا اور کفر کیا، تو اللہ اسے سب سے بڑا عذاب دے گا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس زیادتی کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3970]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس زیادتی کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3970]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، سفيان: هو الثوري.» [ترقيم الرساله 3970] [ترقيم الشركة 3948] [ترقيم العلميه 3926]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح