🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

420. تَفْسِيرُ سُورَةِ الزَّلْزَلَةِ - فَضِيلَةُ سُورَةِ: {إِذَا زُلْزِلَتِ}
تفسیر سورہ الزلزلہ - سورہ "اذا زلزلت" کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4008
حدَّثنا محمد بن صالح بن هانئ والحسن بن يعقوب قالا: حدَّثنا السَّرِي بن خُزَيمة، حدَّثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدَّثنا سعيد بن أبي أيوب، حدَّثنا عيّاش بن عبَّاس القِتْباني، عن عيسى بن هلال الصَّدَفي، عن عبد الله بن عمرو قال: أتى رجلٌ رسول الله ﷺ فقال: أقرئني يا رسول الله، فقال له رسول الله ﷺ:"اقرأ ثلاثًا من ذواتِ (الر) "، فقال الرجل كَبِرَت سنِّي، واشتدَّ قلبي، وغَلُظَ لساني، قال:"اقرأ ثلاثًا من ذواتِ (حم) ، فقال مثلَ مَقالتِه الأولى، فقال:"اقرأ ثلاثًا من المسبِّحات"، فقال مثلَ مقالتِه، فقال الرجل: يا رسول الله، أقرئْني سورةً جامعةً، فأقرأه رسول الله ﷺ ﴿إِذَا زُلْزِلَتِ﴾ حتى فَرَغَ منها، فقال الرجل: والَّذي بعثَك بالحقِّ لا أزيدُ عليها أبدًا. ثم أدبَرَ الرجل، فقال رسول الله ﷺ:"أَفْلَحَ الرُّوَيجِلُ"، ثم ذَكَر ما يقيمه (1) (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3964 - بل صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے قرآن پڑھائیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: راء والی سورتوں میں تین پڑھ لو اس نے کہا: میں بوڑھا ہو چکا ہوں، میرا دل سخت ہو چکا ہے اور میری زبان بھی گاڑھی ہوچکی ہے۔ آپ نے فرمایا: تو حم والی سورتوں میں سے تین پڑھ لو اس نے پھر وہی جواب دیا۔ آپ نے فرمایا: سبحات میں سے تین پڑھو لو ۔ اس نے پھر وہی جواب دیا۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے کوئی جامع سورۃ پڑھا دیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سورۃ الزلزال پڑھائی۔ جب پڑھا کر فارغ ہوئے تو اس آدمی نے کہا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ میں اس سے زیادہ ہرگز نہیں پڑھوں گا۔ پھر وہ آدمی چلا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ آدمی کامیاب ہو گیا پھر آپ نے اس چیز کا ذکر کیا جو اس کو استقامت دے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 4008]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4009
حدَّثنا محمد بن صالح والحسن بن يعقوب، قالا: حدَّثنا السَّرِي بن خُزيمة، حدَّثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدَّثنا سعيدٌ بن أبي أيوب، حدثني يحيى بن أبي سليمان، عن سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة قال: قرأ رسول الله ﷺ هذه الآية: ﴿يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا﴾، قال:"أتدرون ما أخبارُها؟" قالوا: الله ورسوله أعلمُ، قال:"فإِنَّ أخبارَها أن تشهدَ على كلِّ عبدٍ وأَمَةٍ بما عَمِلَ على ظهرها أن تقول: عمل كذا في يوم كذا وكذا، فذلك أخبارُها" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3965 - يحيى هذا منكر الحديث قاله البخاري
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَھَا اس دن وہ اپنی خبریں بتائے گی۔ اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ اس کی خبریں کیا ہیں؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اس کی خبریں یہ ہوں گی کہ وہ ہر مرد اور عورت کے ان تمام اعمال کی گواہی دے گی جو اس نے اس کی پشت پر کئے ہوں گے۔ وہ کہے گی: اس نے فلاں دن یہ کام کیا۔ یہ اس کی خبریں ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 4009]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4010
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار وأبو بكر الشافعي، قالا: حدَّثنا محمد بن مَسلَمة الواسطي، حدَّثنا يزيد بن هارون، أخبرنا سفيان بن حُسين، عن أيوب، عن أبي قِلابة، عن أبي أسماء الرَّحَبي قال: بَيْنا أبو بكر الصِّديق يَتغدَّى مع رسول الله ﷺ إذْ نَزَلت هذه الآية: ﴿فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ (7) وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾، فأمسك أبو بكر وقال: يا رسول الله، أكلُّ ما عَمِلنا من سوءٍ رأيناه؟ فقال:"ما تَرونَ مما تكرهون، فذلك ما تُجزَونَ، يُؤخَّرُ الخيرُ لأهله في الآخرة" (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3966 - مرسل
ابواسماء الرحبی کا بیان ہے کہ ایک دفعہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ناشتہ کر رہے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی: فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ (الزلزلۃ: 7، 8) جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا، اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے اسے دیکھے گا۔ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رک گئے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم نے جو بھی برا عمل کیا، وہ دیکھیں گے؟ تو آپ نے فرمایا: جو تم تکالیف دیکھتے ہو یہ تمہارا بدلہ ہے اور نیکیاں، نیک لوگوں کے لئے آخرت کے لئے ذخیرہ کر لی جاتی ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 4010]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں