المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
426. تَفْسِيرُ سُورَةِ الْفِيلِ -قِصَّةُ أَصْحَابِ الْفِيلِ
تفسیر سورہ الفیل - اصحابِ فیل (ہاتھی والوں) کا قصہ
حدیث نمبر: 4018
أخبرنا أبو زكريا العَنبرَي، حدَّثنا محمد بن عبد السلام، حدَّثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جَرِير، عن قابوس بن أبي ظَبْيان، عن أبيه، عن ابن عبَّاس قال: أقبلَ أصحابُ الفيل حتى إذا دَنَوْا من مكة استقبلَهم عبدُ المطَّلب، فقال لملكِهم: ما جاء بك إلينا، ما عنَّاكَ يا ربَّنا (1) ، ألا بعثتَ فنأتيَكَ بكل شيءٍ أردتَ، فقال: أُخبِرتُ بهذا البيتِ الذي لا يَدخُلُه أحدٌ إِلَّا أَمِنَ، فجئتُ أُخِيفُ أهله، فقال: إِنَّا نأتيكَ بكل شيءٍ تريد فارجِعْ، فأبى إلا أن يَدخلَه، وانطلَقَ يسيرُ نحوه، وتَخلَّف عبدُ المطَّلب فقام على جبل، فقال: لا أَشهَدُ مَهلِكَ هذا البيتِ وأهلهِ، ثم قال: اللهمَّ إن لكلِّ إلهٍ حِلالًا فامنَعْ حِلَالَكْ لا يَغلِبَنَّ مِحالُهُم [أبدًا] (2) مِحالَك اللهمَّ فإنْ فعلتَ فأمْرٌ ما بَدَا لَكْ فأقبلَتْ مثلُ السَّحابة من نحو البحر حتى أظلَّتهم طيرٌ أبابيلُ، التي قال الله ﷿: ﴿تَرْمِيهِمْ بِحِجَارَةٍ مِنْ سِجِّيلٍ﴾ قال: فجعل الفيلُ يَعِجُّ عَجًّا ﴿فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَأْكُولٍ﴾ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3974 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3974 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اصحاب الفیل جب مکۃ المکرمہ کے قریب پہنچے تو عبدالمطلب ان کے سامنے آئے اور ان کے سردار سے کہا: تم ہمارے پاس کیوں آئے ہو، تم نے کوئی پیغام بھیج دیا ہوتا تو ہم آپ کی مطلوبہ ہر چیز تم تک خود پہنچا دیتے، اس نے کہا: مجھے پتہ چلا ہے کہ اس گھر میں جو بھی داخل ہو گا امن والا ہو گا۔ میں اس کے رہنے والوں کو ڈرانے آیا ہوں۔ عبدالمطلب نے کہا: تم جو چیز بھی چاہتے ہو ہم تمہیں دے دیتے ہیں لیکن تم واپس چلے جاؤ۔ لیکن وہ نہ مانا بلکہ داخل ہونے پر بضد رہا اور مکہ کی جانب پیش قدمی شروع کر دی۔ عبدالمطلب وہاں سے ہٹ کر پہاڑ پر جا کر کھڑے ہو گئے اور بولے: کوئی تخریب کار اس گھر اور اس کے اہل کے ہلاک کرنے کے لئے یہاں داخل نہیں ہو سکا، پھر کہا: اے اللہ تعالیٰ! ہر معبود کا حلال ہے تو اپنے حلال کی حفاظت فرما۔ ان کی کوشش تیری کوشش پر ہرگز غالب نہیں آئے گی۔ اے اللہ! میں کچھ نہیں کر سکتا، تو جو مناسب سمجھے وہی کر۔ چنانچہ دریا کی جانب سے بادلوں کی سی کوئی چیز آئی اور ان کو ابابیلوں نے اڑتے ہوئے گھیر لیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تَرْمِیْھِمْ بِحِجَارَۃٍ مِّنْ سِجِّیلٍ ” کہ انہیں کنکر کے پتھر مارتے “، آپ فرماتے ہیں: ہاتھی چیختا تھا۔ فَجَعَلَھُمْ کَعَصْفٍ مَّاْکُوْلٍ ” تو انہیں کر ڈالا جیسے کھائی کھیتی کی پتی “ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 4018]