المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
36. حِلْيَةُ صَالِحٍ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -
حضرت صالح علیہ السلام کی وضع قطع کا بیان
حدیث نمبر: 4111
أخبرني الحسن بن محمد الإسفراييني، حدثنا أبو الحسن بن البراء، حدثنا عبد المنعم بن إدريس، عن أبيه، عن وهب بن منبِّه، قال: حديثُ صالح بن عبيد بن جابر بن ثمود بن جاثِر بن سام بن نوح، قال وهبٌ: إِنَّ الله بعث صالحًا إلى قومه حين راهَقَ الحُلُم، وكان رجلًا أحمر إلى البياض سبط الشعر، وكان يمشي حافيًا كما كان عيسى ابن مريم ﵇ لا يتخذُ حِذاءً، ولا يَدَّهِنُ، ولا يتخذ بيتًا ولا مَسكَنًا، ولا يزال مع ناقةِ ربَّه حيثما توجّهت توجه معها، وحيثما نزلت نزل معها، وكان قد صام أربعين يومًا قبل أن تُعقر الناقة، وكانت على يده اليمنى شامةٌ علامةً، فلَبِثَ فيهم أربعين عامًا يدعوهم إلى الله مِن لَدُنْ كان غلامًا إلى أن شَمِط وهم لا يزدادون إلا طغيانًا (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4067 - وعن وهب بإسناد واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4067 - وعن وهب بإسناد واه
سیدنا وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا صالح علیہ السلام کا نسب یوں بیان فرمایا ہے: ” صالح بن عبید بن جابر بن ثمود بن جابر بن سام بن نوح۔“ سیدنا وہب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا صالح علیہ السلام کو بالغ ہوتے ہی ان کی قوم کی طرف مبعوث فرما دیا تھا آپ کا رنگ سرخی مائل سفید تھا، آپ کے سر کے بال سیدھے تھے، آپ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی طرح ننگے پاؤں رہا کرتے تھے، آپ نہ جوتے پہنتے تھے، نہ تیل لگاتے تھے، نہ انہوں نے اپنا کوئی مکان بنایا نہ کوئی خاص ٹھکانہ بنایا۔ آپ ہمیشہ اپنے رب کی اونٹنی کے ہمراہ رہتے تھے، وہ جدھر کا رخ کرتی، آپ بھی اس کے ساتھ جاتے اور جہاں وہ ٹھہرتی، آپ بھی وہیں قیام کرتے۔ اونٹنی کے قتل کئے جانے سے پہلے چالیس دن تک آپ روزے سے رہے اور آپ کے دائیں ہاتھ پر تل کا نشان تھا۔ آپ اپنی بلوغت سے بالوں میں چاندی آنے تک چالیس سال کا عرصہ ان میں رہے اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے رہے لیکن ان لوگوں کی مسلسل سرکشی بڑھتی رہی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4111]
حدیث نمبر: 4112
حدثنا أبو زكريا العنبري، حدثنا أبو عبد الله البُوشَنْجِي، حدثنا يعقوب بن كعب الحلبي، حدثنا حرملة بن عبد العزيز بن الربيع بن سبرة، حدثني أبي، عن أبيه، عن جده، قال: نزلنا الحجر في غزوة تبوك، فقال النبي ﷺ:"مَن كان عَمِلَ من هذا الماء طعامًا فليُلْقِه"، قال: فمنهم من عَجَنَ العَجِين، ومنهم من حاسَ الحَيْسَ، فألقوه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه، إنما اتفقا على حديث جويرية بن أسماء، عن نافع (2) ، عن ابن عمر: أنَّ الناس نزلُوا مع رسول الله ﷺ حِجْر ثَمُود، بغير هذه الألفاظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4068 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه، إنما اتفقا على حديث جويرية بن أسماء، عن نافع (2) ، عن ابن عمر: أنَّ الناس نزلُوا مع رسول الله ﷺ حِجْر ثَمُود، بغير هذه الألفاظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4068 - صحيح
سیدنا سبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: غزوہ تبوک کے موقع پر ہم نے مقام حجر میں پڑاؤ ڈالا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس جس نے اس پانی سے کھانا تیار کیا ہو، وہ پھینک دے۔ تو ان میں سے کچھ لوگوں نے آٹا گوندھا تھا اور کچھ نے حیس (کھجور، گھی اور ستو کا کھانا) تیار کر لیا تھا، تو سب نے پھینک دیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے جویریہ بن اسماء کی حدیث سیدنا نافع کے واسطے سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ثمود کے مقام حجر میں ٹھہرے تاہم اس کے الفاظ کچھ مختلف ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4112]