المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
37. ذِكْرُ عَقْرِ نَاقَةِ صَالِحٍ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَقِصَّةُ هَلَاكِ آلِ ثَمُودَ وَطَيَرَانِ الْجَبَلِ إِلَى السَّمَاءِ
حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو کاٹنے کا ذکر، قومِ ثمود کی ہلاکت کا واقعہ اور پہاڑ کا آسمان کی طرف اٹھ جانا
حدیث نمبر: 4113
حدثنا إسماعيل بن محمد بن الفضل، حدثنا جدي، حدثنا سُنَيد، حدثنا حجاج بن محمد، عن أبي بكر بن عبد الله، عن شهر بن حوشب، عن عمرو بن خارجة، قال: قلنا له: حدثنا حديث ثَمود، فقال: أُحدِّثكم عن رسول الله ﷺ عن ثمود:"وكانت ثَمُودُ قومُ صالح أعمرَهم الله في الدنيا، فأطال أعمارهم، حتى جعل أحدهم يبني المَسكَنَ من المَدَر فينهدم والرجل منهم حي، فلما رأوا ذلك اتخذوا من الجبال بيوتًا فَرِهين، فنحتُوها وجابوها وجَوَّفوها، وكانوا في سَعةٍ من معايشهم، فقالوا: يا صالح، ادعُ لنا ربَّك ليُخرج لنا آيةً نَعلَمُ أنك رسول الله، فدعا صالحٌ ربَّه، فأخرج لهم الناقة، وكان شربها يومًا، وشربهم يومًا معلومًا، فإذا كان يومُ شِرْبها خَلَّوا عنها وعن الماء وحلبوا الماء، فمَلَؤوا كلَّ إناء ووعاء وسقاء، فإذا كان يوم شربهم صَرَفُوها عن الماء فلم تشرب منه شيئًا، فملؤوا كلَّ إناء ووعاء وسقاء، فأوحى الله إلى صالح: أنَّ قومَك سيَعْقِرون ناقتك، فقال لهم، فقالوا: ما كنا لنفعل، قال: إن لم تَعقِروها أنتم يُوشِك أن يُولد فيكم مولود يعقرها، قالوا: ما علامة ذلك المولود، فوالله لا نجده إلا قتلناه، قال: فإنه غلامٌ أشقر، أزرق، أصْهَبُ. قال: وكان في المدينة شيخان عزيزان منيعان لأحدهما ابنٌ يُرغَب له عن المناكح، وللآخر ابنةٌ لا تجد لها كُفُؤًا، فجمع بينهما مجلسٌ، فقال أحدهما لصاحبه: ما منعك أن تُزوِّج ابنك؟ قال: لا أجد له كُفُؤًا، قال: فإِنَّ ابنتي كُفُؤٌ له، وأنا أُزوجه، فزوجه، فوُلِد بينهما ذلك المولود، وكان في المدينة ثمانيةُ رَهْطٍ يُفسدون في الأرض ولا يُصلحون، قال لهم صالح: إنما يعقِرُها مولودٌ فيكم، فاختار ثمانيةً نِسْوةٍ قوابل من القرية، وجعلوا معهم شُرَطًا، فكانوا يطوفون في القرية، فإذا وجدوا امرأة تَمَخَّضُ نُظر ما ولدها، فإن كان غلامًا قَلَّبْنَه يَنظُرْن ما هو، وإن كانت جاريةٌ أعرضْنَ عنها، فلما وجدوا ذلك المولودَ صَرحْنَ النِّسْوةُ، قلن: هذا الذي يريد رسول الله صالحٌ، فأراد الشُّرَطُ أن يأخذُوه، فحالَ جَدّاه بينهم وبينه، وقالا: لو أنَّ صالحًا أراد هذا قتلناه، وكان شرَّ مولود، وكان يَشِبُّ في اليوم شباب غيره في الجمعة، ويَشِبُّ في الجمعة شباب غيره في الشهر، ويَشِبُّ في الشهر شبابَ غيره في السنة، فاجتمع الثمانية الذين يُفسدون في الأرض ولا يُصلحون والشيخان، فقالوا: نستعمل علينا هذا الغلام لمنزلته وشرف جَدَّيه، فكانوا تسعةً، وكان صالحٌ لا ينام معهم في القرية، كان في البرية في مسجد يُقال له: مسجد صالح، فيه يبيتُ بالليل، فإذا أصبح أتاهم فوعظهم وذَكَّرهم، وإذا أمسى خرج إلى المسجد فبات فيه". قال رسول الله ﷺ:"ولما أرادوا أن يمكروا بصالحٍ مَشَوا حتى أَتَوا على سَرَبٍ (1) على طريق صالح، فاختبأ فيه ثمانيةٌ، وقالوا: إذا خَرَج علينا قتلناه وأتينا أهله فبيَّتْناهم، فأمر الله الأرضَ فاستوتْ عليهم، فاجتمعوا ومشوا إلى الناقة، وهي على حوضِها قائمةً، فقال الشَّقيُّ لأحدهم: ائتها فاعقِرُها، فأتاها فتَعاظَمَه ذلك، فأَضْرَبَ عن ذلك، فبعثَ آخر فأعظم ذلك، فجعل لا يبعث رجلًا إِلَّا تَعاظَمَه ذلك مِن أمرها، حتى مشى إليها ويتطاول (2) ، فضرَب عُرْقُوبَها فَوَقَعَتْ تَركُضُ، فأتى رجلٌ منهم صالحًا، فقال: أدرك الناقة، فقد عُقرتْ، فأقبل وخرجُوا يتلقونه ويعتذِرُون إليه: يا نبي الله، إنما عَقَرها فلانٌ، لا ذَنْبَ لنا، قال: انظروا هل تُدرِكُون فَصِيلَها، فإن أدركتُموه فعسى الله أن يرفع عنكم العذابَ، فخرجُوا يَطلبونه، ولما رأى الفَصيلُ أمه تضطرِبُ أتى جبلًا يقال له: القارة، قصيرًا، فصعِد، وذهبوا يأخذُوه، فأوحى الله إلى الجبل فطَالَ في السماء حتى ما تناله الطير. قال: ودخل صالحٌ القرية، فلما رآه الفَصِيلُ بكى حتى صارت (3) دموعه، ثم استقبل صالحًا فرَغَا رَغْوةً، ثم رَغَا أَخرى، ثم رَغَا أُخرى، فقال صالحٌ: لكل رغوة أجل يوم ﴿تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ذَلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ﴾ [هود: 65] ، أَلا إِنَّ آية العذابِ أنَّ اليوم الأول تصبح وجوههم مُصفَرةً، واليوم الثاني مُحمرّةً، واليوم الثالث مُسْودَّةً. فلما أصبحوا إذا وجوههم كأنما طُلِيَتْ بالخَلُوق، كبيرهم وصغيرهم، ذكَرُهم وأُنثاهُم، فلما أمسوا صاحوا بأجمعهم: ألا قد مضى يومٌ من الأجل وحَضَرَكم العذابُ، فلما أصبحوا اليوم الثاني إذا وجوههم مُحمَرَّةً كأنما خُضِبتْ بالدماء، فصاحوا وضَجُّوا وبكوا وعرفُوا أنه العذابُ، فلما أمسوا صاحوا بأجمعهم: ألا قد مضى يومان من الأجل وحَضَرَكم العذابُ، فلما أصبحوا اليوم الثالث إذا وجوههم مُسودَّةٌ كأنما طُلِيتْ بالقَارِ، فصاحوا جميعًا ألا قد حَضَرَكم العذابُ، فتكفَّنُوا وتَحنَّطُوا، وكان حَنُوطهم الصَّبِرَ والمُرَّ، وكانت أكفانُهم الأنطاعَ، ثم ألقوا أنفُسَهم بالأرض، فجعلوا يُقلِّبون أبصارهم إلى السماء مرّةً، وإلى الأرض مرّةً، لا يَدرُون من حيثُ يأتيهم العذاب من فوقهم من السماء، أو من تحت أرجُلِهم من الأرض، جَشَعًا (1) وفَرَقًا، فلما أصبحوا اليوم الرابع أتتهم صيحةٌ من السماء فيها صوتُ كلِّ صاعقةٍ وصوتُ كلِّ شيءٍ له صَوتٌ في الأرض، فتقطَّعَت قلوبهم في صدورهم، فأصبحوا في دِيارِهم جاثِمِين" (2) .
هذا حديثٌ جامِعٌ لذِكْر هَلاكِ آل ثَمُودَ تَفَرَّد به شهر بن حَوشَب، وليس له إسناد غيره، ولم نستغنِ عن إخراجه، وله شاهِدٌ على سبيل الاختصار بإسناد صحيح دلّ على صحة الحديث الطويل، على شرط مسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4069 - أبو بكر بن عبد الله واه
هذا حديثٌ جامِعٌ لذِكْر هَلاكِ آل ثَمُودَ تَفَرَّد به شهر بن حَوشَب، وليس له إسناد غيره، ولم نستغنِ عن إخراجه، وله شاهِدٌ على سبيل الاختصار بإسناد صحيح دلّ على صحة الحديث الطويل، على شرط مسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4069 - أبو بكر بن عبد الله واه
شہر بن حوشب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے سیدنا عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں قوم ثمود کا واقعہ سنائیں۔ انہوں نے کہا: میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بتایا ہوا قوم ثمود کا قصہ سناتا ہوں۔ ثمود، سیدنا صالح علیہ السلام کی قوم تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا میں بہت لمبی لمبی عمریں عطا فرمائی تھیں حتیٰ کہ کوئی مٹی کا مکان بنا لیتا تو وہ (اپنی عمر پوری کر کے) مغموم ہو جاتا لیکن ان بنانے والوں میں سے ابھی بھی کوئی نہ کوئی زندہ ہوتا تھا۔ اسی وجہ سے وہ پہاڑوں میں مکانات بنا کر خوش ہوتے تھے۔ انہوں نے پہاڑوں کو ہموار کیا اور ان کو تراش تراش کر گہرا کر لیا۔ یہ لوگ بہت خوش عیش تھے۔ انہوں نے کہا: اے صالح علیہ السلام! آپ ہمارے لئے اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ ہمارے لئے کوئی ایسی نشانی ظاہر کر دے جس سے ہم جان جائیں کہ آپ واقعی اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ چنانچہ سیدنا صالح علیہ السلام نے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ایک اونٹنی نکال دی۔ گھاٹ سے پانی پینے کے لئے ایک دن اونٹنی کا اور ایک دن ان لوگوں کا مقرر تھا۔ جو دن اونٹنی کا ہوتا اس دن لوگ اونٹنی اور پانی سے ہٹ جاتے اور اس کا دودھ دوہتے (اور اس کا دودھ اتنا ہوتا کہ) کہ وہ لوگ اپنے تمام برتن مشکیزے اور ڈول وغیرہ بھر لیتے تو اللہ تعالیٰ نے سیدنا صالح علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ تمہاری قوم عنقریب اس کی کونچیں کاٹ ڈالے گی (یعنی اس کو قتل کر دے گی)۔ سیدنا صالح علیہ السلام نے ان کو اس بات سے خبردار کیا تو وہ لوگ بولے: ہم ایسا نہیں کریں گے۔ آپ نے فرمایا: تم نے نہ کیا تو ہو سکتا ہے کہ تمہاری اولادوں میں سے کوئی یہ کام کر دے۔ انہوں نے کہا: آپ ہمیں اس مولود کی نشانی بتائیں، ہم اس کو پیدا ہوتے ہی مار ڈالیں گے۔ آپ نے فرمایا: وہ لڑکا سرخ و زرد نیلگوں ہو گا، جس کے رنگ میں سرخی مائل سفیدی ہو گی۔ آپ فرماتے ہیں: شہر میں دو عمر رسیدہ طاقتور آدمی رہتے تھے، ان میں سے ایک کا بیٹا تھا جو کہ شادی سے گریزاں تھا اور دوسرے کی ایک بیٹی تھی جس کا کوئی کفو نہ تھا (یعنی اس کے سٹیٹس کا کوئی رشتہ نہ تھا) ایک دفعہ دونوں ایک مجلس میں اکٹھے ہوئے تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: آپ اپنے بیٹے کی شادی کیوں نہیں کر رہے؟ اس نے کہا: مجھے اس کا کوئی کفو (سٹیٹس کا رشتہ) نہیں مل رہا۔ اس نے کہا: میری بیٹی اس کا کفو ہے۔ میں اس کا نکاح تیرے بیٹے سے کرنے کو تیار ہوں۔ چنانچہ انہوں نے دونوں کی شادی کر دی تو ان کے ہاں وہ بچہ پیدا ہوا، اس شہر میں آٹھ افراد فسادی تھے جو کسی طرح اصلاح کی طرف نہ آتے تھے۔ سیدنا صالح علیہ السلام نے ان سے کہا: جو اس اونٹنی کو مارے گا وہ تم میں پیدا ہو چکا ہے تو انہوں نے اس بستی میں سے آٹھ دائیاں منتخب کیں اور ان کے ہمراہ سپاہی بھی مقرر کر دئیے، یہ بستی میں گشت کرتے رہتے تھے اور جس کسی عورت کو دردزہ میں مبتلا پاتے تو نظر رکھتے کہ اس کے ہاں لڑکا پیدا ہوا ہے یا لڑکی۔ اگر لڑکا ہوتا تو اس کو زیر نظر رکھتے اور اگر لڑکی ہوتی تو اس کو چھوڑ دیتے۔ جب ان کو وہ مولود مل گیا تو عورتیں چیخ چیخ کر بولنے لگیں: یہی ہے وہ مولود جو رسول اللہ علیہ السلام کو مطلوب ہے۔ سپاہیوں نے اس بچے کو اپنے ساتھ لے جانا چاہا تو اس بچے کے دادا دادی بیچ میں آ گئے، وہ کہنے لگے: اگر صالح علیہ السلام کا مطلوب یہی بچہ ہے تو ہم خود اس کو قتل کر دیں گے کیونکہ اس صورت میں یہ بچہ نقصان دہ ہو گا، وہ لڑکا ایک دن میں اتنا بڑھتا جتنا دوسرے بچے پورے ایک ہفتے میں بڑھتے ہیں اور یہ ایک ہفتہ میں اتنا بڑھتا، جتنا دوسرے بچے پورے مہینے میں بڑھتے ہیں اور یہ ایک مہینہ میں اتنا بڑھتا جتنا دوسرے بچے پورے ایک سال میں بڑھتے ہیں۔ تو وہ آٹھوں افراد جمع ہو گئے، جو فسادی تھے اور اصلاح نہ کرتے تھے اور دونوں بوڑھے جمع ہو گئے۔ اور کہنے لگے: ہم اس بچے کو اس کے مقام اور اس کے باپ دادا کے مرتبہ کی وجہ سے کام پر رکھتے ہیں تو یہ لوگ 9 تھے اور سیدنا صالح علیہ السلام ان کے ہمراہ بستی میں آرام نہیں کرتے تھے بلکہ دور پہاڑ پر مسجد میں (جس کا نام مسجد صالح علیہ السلام ہے) رات گزارا کرتے تھے۔ صبح ہوتی تو آپ ان کے پاس آتے اور ان کو وعظ و نصیحت کرتے اور جب شام ہو جاتی تو آپ واپس اسی مسجد میں چلے جاتے اور اسی میں رات گزارتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب ان لوگوں نے سیدنا صالح علیہ السلام کے خلاف سازش کا ارادہ کیا تو وہ آٹھ آدمی سیدنا صالح علیہ السلام کی گزرگاہ میں گھات لگا کر بیٹھ گئے اور انہوں نے یہ طے کر لیا کہ جب آپ یہاں سے گزریں گے تو ہم انہیں قتل کر دیں گے اور پھر ان کے گھر والوں پر شب خون ماریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا تو وہ سمٹ گئی۔ یہ سب لوگ جمع ہوئے اور اونٹنی کی جانب چل پڑے۔ یہ اونٹنی اس وقت حوض پر تھی۔ ان میں سے ایک بدبخت نے کہا: اس کے پاس جاؤ اور اس کی کونچیں کاٹ ڈالو۔ وہ اس کے پاس آیا لیکن اس کو قتل کرنے کی جسارت نہ کر سکا اور واپس چلا گیا۔ پھر دوسرے کو بھیجا لیکن وہ بھی گھبرا گیا۔ وہ جس کو بھی بھیجتا وہ گھبرا جاتا حتیٰ کہ وہ بدبخت خود چل پڑا اور دور سے گردن اٹھا کر اسے دیکھا اور اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ وہ گر کر تڑپنے لگی، ان میں سے ایک آدمی سیدنا صالح علیہ السلام کے پاس آیا اور بولا: اونٹنی کے پانچ پہنچئے کیونکہ اس کی کونچیں کاٹ دی گئی ہیں۔ آپ فوراً نکلے اور یہ لوگ آپ سے مل کر کہنے لگے: اے اللہ تعالیٰ کے نبی! اس کو فلاں شخص نے قتل کیا ہے، اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: کوشش کر کے اس کے بچے کو حاصل کر لو اگر تم اس کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو ہو سکتا ہے کہ عذاب الٰہی سے بچاؤ کی کوئی صورت نکل آئے۔ یہ لوگ اس اونٹنی کے بچے کی تلاش میں نکل پڑے، ادھر جب بچے نے اپنی ماں کو تڑپتے دیکھا تو وہ پہاڑ پر دوڑ گیا اس کو ” غارہ قیصر “ کہتے ہیں۔ یہ لوگ اس کو پکڑنے کے لئے پہاڑ پر آئے تو اللہ تعالیٰ نے پہاڑ کو حکم دیا تو وہ آسمان کی طرف اٹھ گیا اور پرندوں کی رسائی سے بھی اونچا ہو گیا۔ سیدنا صالح علیہ السلام بستی میں داخل ہوئے۔ جب آپ کو اونٹنی کے بچے نے دیکھا تو رونے لگ گیا حتیٰ کہ اس کے آنسو بہہ نکلے۔ پھر وہ سیدنا صالح علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوا اور بلبلایا، پھر دوبارہ بلبلایا پھر تیسری مرتبہ بلبلایا۔ سیدنا صالح علیہ السلام نے فرمایا: اس کی ہر بلبلاہٹ ایک دن کی مہلت ہے چنانچہ تم لوگ تین دن تک اپنے گھروں میں فائدہ اٹھا لو یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہو گا اور عذاب کی نشانی یہ ہے کہ پہلے دن تمہارے چہرے زرد ہو جائیں گے، دوسرے دن سرخ اور تیسرے دن کالے۔ جب اگلا دن ہوا تو واقعی ان کے چہرے ایسے (زرد) ہو گئے یوں لگتا تھا گویا کہ ان پر زعفران کا رنگ چڑھا دیا گیا ہے۔ ان کے بڑے، چھوٹے، مرد و عورت (سب کا یہی حال تھا) جب شام ہوئی تو سب اکٹھے چلانے لگے کہ خبردار! مہلت کا ایک دن گزر چکا ہے اور عنقریب تم پر عذاب آنے والا ہے۔ جب اگلا دن ہوا تو ان کے چہرے سرخ ہو چکے تھے گویا کہ خون مل دیا گیا ہو یہ پھر آہ و بکا اور چیخ و پکار کرنے لگے اور یہ سمجھ گئے کہ یہ واقعی عذاب ہی ہے۔ جب شام ہوئی تو سب چلانے لگے: خبردار! مہلت کے دو دن گزر گئے اور اب عذاب بالکل آنے ہی والا ہے۔ جب تیسرا دن آیا تو ان کے چہرے سیاہ ہو چکے تھے گویا کہ ان پر تارکول مل دیا گیا ہو یہ پھر سب چلائے: خبردار! تم پر عذاب آ رہا ہے۔ انہوں نے خود ہی اپنے کفن پہنے اور خود ہی اپنے آپ کو مردوں والی خوشبو لگائی ان کی مردوں والی خوشبو ایلوا اور کڑواہٹ تھی اور ان کے کفن ” انطاع “ (وہ چمڑے کا فرش جس پر مجرم کو قتل کیا جاتا ہے) کا تھا۔ پھر یہ زمین کے اوپر لیٹ گئے کیونکہ ان کو کچھ اندازہ نہ تھا کہ عذاب آسمان کی طرف سے آئے گا یا زمین کی طرف سے، اس لئے گھبراہٹ اور خوف کی وجہ سے وہ کبھی آسمان کی طرف دیکھتے اور کبھی زمین کی طرف۔ جب چوتھا دن آیا تو آسمان سے ایک چیخ کی آواز آئی، اس میں ہر کڑک کی آواز موجود تھی اور ہر اس شے کی آواز بھی موجود تھی جس کی روئے زمین میں آواز ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے ان کے سینوں میں ان کے دل پھٹ گئے، تو وہ صبح اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے۔ ٭٭ یہ حدیث قوم ثمود کی ہلاکت کے واقعات کی جامع ہے اور اس کی روایت کرنے میں شھر بن حوشب رضی اللہ عنہ متفرد ہیں اور اس سند کے علاوہ اس کی کوئی دوسری سند نہیں ہے اور اس کو نقل کرنا ضروری تھا اور سند صحیح کے ہمراہ ایک مختصر حدیث اس کی شاہد بھی ہے جو کہ اس مفصل حدیث کی صحت کی دلیل ہے اور یہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4113]
حدیث نمبر: 4114
حدثناه أبو بكر إسماعيل بن محمد الزَّعْفَراني بالرّي، حدثنا أبو بكر محمد بن الفَرَج الأزرق، حدثنا حجاج بن محمد، قال: وقال ابن جريج: حدثنا أبو الزبير، قال: سمعتُ جابر بن عبد الله يقول: قال رسول الله ﷺ لما أتى على الحجر حَمِدَ الله وأثنى عليه، ثم قال:"أما بعد: فلا تسألوا رسولكم الآياتِ، هذا قوم صالح سألوا رسولَهم الآيةَ، فبعث الله لهم الناقةَ، فكانت تَرِدُ من هذا الفَجِّ وتَصْدر من هذا الفَجِّ، فتَشْرَبُ ماءهم يومَ وِرْدِها" (1) . ذكر شُعيب النبي ﷺ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4070 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4070 - على شرط مسلم
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقام حجر پر پہنچے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا: تم اپنے رسول سے معجزات کا مطالبہ مت کرنا۔ یہ قوم صالح علیہ السلام ہے، انہوں نے اپنے رسول سے نشانی کا مطالبہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی جانب اونٹنی بھیجی وہ ایک پھٹن سے داخل ہوتی اور دوسری سے نکل آتی۔ وہ اپنی باری پر ان کا سارا پانی پی جاتی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4114]