🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

66. ذِكْرُ نَبِيِّ اللهِ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ وَمَا آتَاهُ اللهُ مِنَ الْمُلْكِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -
اللہ کے نبی حضرت سلیمان بن داود علیہما السلام کا ذکر اور وہ سلطنت جو اللہ نے انہیں عطا فرمائی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4182
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الفضل بن محمد بن المسيَّب إملاءً بانتِقاء أبي بكر محمد بن إسحاق بن خُزَيمة، حدثنا إبراهيم بن المنذر الحِزامي، حدثنا حسين بن زيد بن علي، حدثني شِهاب بن عبدِ ربِّه، عن عمر بن علي بن حسين، قال: مَشَيتُ مع عمي محمد بن علي بن الحسين (2) فقلتُ: زَعَمَ الناسُ أنَّ سليمان بن داود سألَ ربَّه أن يَهَبَ له مُلكًا لا ينبغي لأحدٍ مِن بعده، وأَنْهى العِشْرين، فقال: ما أَدري ما أحاديثُ الناس، ولكن حدثني أبي عليُّ بن الحسين، عن أبيه، عن علي، عن النبي ﷺ، قال:"لن (3) يُعمِّرَ اللهُ مَلِكًا في أُمّةِ نبيٍّ مضى قبلَه ما بَلَغَ ذلك النبيُّ من العُمُر في أمّتِه" (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4137 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عمر بن علی بن حسین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنے چچا محمد بن علی بن حسین کے ہمراہ سیدنا جعفر کے پاس گیا، میں نے ان سے کہا: لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سیدنا سلیمان بن داؤد علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے ایسی بادشاہی مانگی تھی جو ان کے بعد کسی کو نہ ملے اور بے شک وہ 20 ہیں۔ آپ نے کہا: میں یہ نہیں جانتا کہ لوگ کیا کہتے ہیں۔ تاہم میرے والد علی بن حسین نے اپنے والد کے حوالے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام میں سے ان کی امت میں اتنی لمبی حکومت کسی نے نہیں کی، جتنی لمبی حکومت اس نبی نے اپنی امت میں کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4182]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4183
حدثنا علي بن عيسى، حدثنا أبو يحيى زكريا بن داود، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا عبد الرحمن بن محمد المُحاربي، عن أشعثَ، عن أبي إسحاق، عن مُرّة، عن ابن مسعود، في قوله ﷿:? ﴿وَدَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ﴾ [الأنبياء: 78] ، قال: كَرْمٌ قد أَنبتَتْ عناقيدُه فأفسدَتْه، قال: فقضى داودُ بالغنم لصاحب الكَرْم، فقال سليمان: غيرُ هذا يا نبيَّ الله؟ قال: وما ذاك؟ قال: تدفعُ الكَرْمَ إلى صاحب الغَنَم، فيقومُ عليه حتى يعودَ كما كان، وتدفَعُ الغنمَ إلى صاحبِ الكَرْم فيُصيب منها، حتى إذا كان الكرمُ كما كان، دفعتَ الكَرْمَ إلى صاحبِه، ودفعتَ الغنمَ إلى صاحبِها، قال الله ﷿: ﴿فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ وَكُلًّا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا﴾ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4138 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد: وَ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ اِذْ یَحْکُمٰنِ فِی الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِیْہِ غَنَمُ الْقَوْمِ (الانبیاء: 78) اور داؤد اور سلیمان کو یاد کرو جب کھیتی کا ایک جھگڑا چکاتے تھے، جب رات کو اس میں کچھ لوگوں کی بکریاں چھوٹیں اور ہم ان کے حکم کے وقت حاضر تھے کے بارے میں فرماتے ہیں: ایک انگوروں کی بیل تھی جس پر گچھے آ چکے تھے۔ اس کو بکریوں نے خراب کر ڈالا۔ سیدنا داؤد علیہ السلام نے فیصلہ کیا کہ یہ بکریاں انگوروں کی بیل کے مالک کے حوالے کر دی جائیں تو سیدنا سلیمان علیہ السلام نے فرمایا: اے اللہ کے نبی علیہ السلام! آپ اس فیصلے پر نظرثانی فرمائیں۔ انہوں نے پوچھا: تو کیا فیصلہ کیا جائے؟ آپ نے فرمایا: انگور کی بیل بکریوں کے مالک کے حوالے کر دیں تاآنکہ دوبارہ برآور ہو جائیں اور اس وقت تک بکریاں انگور کے مالک کے حوالے کر دیں۔ جب انگور کی بیل دوبارہ اسی حالت پر آ جائے گی جس پر تھی تو بکریاں، بکریوں کے مالک کو دے دی جائیں اور انگور کی بیل اس کے مالک کو دی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: فَفَھَّمْنٰھَا سُلَیْمٰنَ وَ کُلًّا ٰاتَیْنَا حُکْمًا وَّ عِلْمًا (الانبیاء: 79) ہم نے وہ معاملہ سلیمان کو سمجھا دیا اور دونوں کو حکومت اور علم عطا کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4183]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں