المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
5. كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ عُكَاظَ ابْنَ عِشْرِينَ سَنَةً
عکاظ کے سال رسول اللہ ﷺ کی عمر بیس برس تھی
حدیث نمبر: 4228
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: حدثني المُطَّلب بن عبد الله بن قيس بن مَخْرَمة، عن أبيه، عن جده قيس بن مَخْرَمةَ، قال: وُلِدتُ أنا ورسولُ الله ﷺ عامَ الفيل، كنّا لِدَينِ (1) . قال ابن إسحاق: كان رسولُ الله ﷺ عامَ عُكَاظٍ ابنَ عشرين سنةً (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن مخرمہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عام الفیل میں پیدا ہوئے۔ ابن اسحاق کہتے ہیں: عکاظ کے سال حضور کی عمر 20 سال تھی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4228]
حدیث نمبر: 4229
حدثنا أبو جعفر البغدادي لفظًا، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا عمرو بن عَون الواسِطيّ، حدثنا خالد بن عبد الله، عن داود بن أبي هند، عن العباس بن عبد الرحمن، عن كِنْدِير بن سعيد، عن أبيه، قال: حَجَجْتُ في الجاهلية، فإذا أنا برجل يطوفُ بالبيت، وهو يَرتَجِزُ ويقول: ربِّ رُدَّ إليَّ راكِبِي مُحمَّدا … يا ربِّ رُدَّه إليَّ واصطَنِعْ عندي يَدا فقلتُ: مَن هذا؟ فقالوا: عبد المطَّلب بن هاشم، بَعَثَ بابن ابنه محمدٍ في طلب إبل له ولم يبعثه في حاجةٍ إلّا أنْجَحَ فيها، وقد أبطأَ عليه، فلم يَلبَثْ أن جاء محمدٌ والإبلُ، فاعتَنَقَه، وقال: يا بُنيّ، لقد جَزِعتُ عليك جَزَعًا لم أَجْزَعْه على شيءٍ قطُّ، والله لا أبعثُك في حاجةٍ أبدًا، ولا تُفارِقُني بعد هذا أبدًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد اتفق الشيخان من أسامي رسول الله ﷺ على محمد وأحمد والحاشِر والعاقِب والماحِي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4184 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد اتفق الشيخان من أسامي رسول الله ﷺ على محمد وأحمد والحاشِر والعاقِب والماحِي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4184 - على شرط مسلم
کندیر بن سعید رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے زمانہ جاہلیت میں حج کیا، میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ طواف کرتے ہوئے یہ اشعار پڑھ رہا تھا: (جن کا ترجمہ یہ ہے): اے میرے رب میرے سوار محمد کو میری طرف واپس بھیج دے، اس کو میرے پاس واپس بھیج دے اور مجھے اس کی حفاظت کی توفیق دے۔ میں نے پوچھا: یہ کون شخص ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ عبدالمطلب بن ہاشم ہے۔ اس نے اپنے پوتے کو اونٹ ڈھونڈنے بھیجا ہے اور یہ اس کو جس کام کے لئے بھی بھیجتا ہے، وہ اس میں کامیاب ہو کر واپس آتا ہے لیکن آج اس نے کچھ دیر کر دی ہے۔ ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ ساتھ لے کر واپس تشریف لے آئے۔ عبدالمطلب نے آپ کو گلے لگایا اور کہا: اے بیٹے! میں تیرے لئے اس قدر گھبرایا ہوا ہوں کہ آج تک کبھی بھی کسی چیز کے بارے میں اتنا نہیں گھبرایا۔ خدا کی قسم! اب میں کبھی بھی تمہیں کسی کام سے نہیں بھیجوں گا اور آج کے بعد تو بھی مجھ سے کبھی دور نہ ہونا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درج ذیل اسماء گرامی نقل کیے ہیں: محمد، احمد، حاشر، عاقب، ماحی۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4229]