🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

13. إِسْلَامُ أُمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ بِدُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
نبی کریم ﷺ کی دعا سے حضرت ابو ہریرہؓ کی والدہ کا اسلام لانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4286
أخبرنا أبو عمرو عثمان أحمد بن عبد الله الدَّقَّاق ببغداد، حدثنا عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حدثنا يعقوب بن إسحاق الحَضْرمي، أخبرنا عِكْرمة بن عمار، حدثنا أبو كثير الغُبَري، قال: قال أبو هُريرة: ما على وَجْه الأرض مؤمنٌ ولا مؤمنةٌ إلا وهو يُحبُّني، قال: قلتُ: وما عِلمُك بذلك يا أبا هريرة؟ قال: إني كنتُ أدعُو أمي إلى الإسلام، فتأبّى، وإني دعوتُها ذات يومٍ فأسمعَتْني في رسول الله ﷺ ما أكْرَهُ، فجئتُ إلى رسول الله ﷺ فقلتُ: يا رسول الله، إني كنتُ أدعُو أمّي إلى الإسلام، فتأبَى عليَّ، وإني دعوتُها يومًا، فأسمَعَتْني فيكَ ما أَكرَهُ، فَادْعُ الله يا رسول الله أن يهديَ أمَّ أبي هريرة إلى الإسلام، فدعا لها رسول الله ﷺ، فرجعتُ إلى أمّي أُبشِّرها بدعوةِ رسول الله ﷺ، فلما كنتُ على الباب إذا البابُ مغلقٌ فدققتُ البابَ، فسمعتْ حِسِّي فَلَبِسَتْ ثيابَها وجَعَلتْ على رأسِها خِمارَها، وقالت: ارفُقْ يا أبا هريرة، ففتحتْ لي، فلما دخلتُ قالت: أشهدُ أن لا إلهَ إلّا اللهُ وأنَّ محمدًا رسولُ الله، فرجعتُ إلى رسولِ الله ﷺ، وأنا أبكي من الفَرَح كما كنتُ أبكي من الحُزن، وجعلتُ أقول: أبشِرْ يا رسولَ الله، قد استجابَ اللهُ دعوتَك وهَدَى الله أمَّ أبي هريرة إلى الإسلام، فقلت: ادعُ الله أن يُحبِّبَني وأمي إلى عباده المؤمنين ويُحبِّبَهم إلينا، قال: فقال رسول الله ﷺ:"اللهم حَبَّب عُبيدَكَ هذا وأمه إلى عبادك المؤمنين، وحَبَّبهم إليهما"، فما على الأرضِ مؤمنٌ ولا مؤمنةٌ إلا وهو يُحبُّني وأُحِبُّه (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4240 - صحيح
ابوکثیر عنزی کہتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس روئے زمین پر ہر مومن مرد اور عورت مجھ سے محبت کرتے ہیں۔ میں نے کہا: اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ! آپ یہ دعویٰ کس بنا پر کر رہے ہو؟ انہوں نے فرمایا: میں اپنی والدہ کو اسلام کی دعوت دیا کرتا تھا لیکن وہ انکار کر دیتی تھی۔ ایک دن میں نے ان کو اسلام کی دعوت پیش کی تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایسی باتیں کیں جو مجھے قطعاً ناپسند تھیں۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنی والدہ کو اسلام کی دعوت دیا کرتا تھا اور وہ آگے سے انکار کر دیا کرتی تھیں اور آج میں نے ان کو اسلام کی دعوت دی تو اس نے آپ کے متعلق ایسی باتیں کی ہیں جو میری برداشت سے باہر ہیں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ دعا فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ میری ماں کو ہدایت عطا فرما دے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے ہدایت کی دعا فرما دی، میں اپنی ماں کی طرف واپس لوٹا تاکہ ان کو خوشخبری دوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے دعا کی ہے۔ میں دروازے پر پہنچا تو دروازہ اندر سے بند تھا۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا انہوں نے میری آہٹ سنی تو اپنے کپڑے سمیٹے، اپنے سر پر دوپٹہ اوڑھا اور کہنے لگی۔ ابوہریرہ: ذرا ٹھہریں۔ پھر دروازہ کھولا۔ جب میں اندر داخل ہوا تو میری والدہ بولیں: اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہ ۔ میں انہی قدموں پر واپس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لوٹ گیا اور خوشی کے مارے میری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے جیسا کہ اس سے پہلے پریشانی کی وجہ سے میرے آنسو نکلا کرتے تھے۔ میں نے جا کر کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو خوشخبری ہو، اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کر لیا ہے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ماں کو اسلام کی ہدایت عطا فرما دی ہے۔ پھر میں نے عرض کی: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا فرما دیں اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کے دلوں میں میری اور میری ماں کی محبت ڈال دے اور ہمارے دلوں میں ان کی محبت ڈال دے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی: اے اللہ! اپنے اس بندے اور اس کی ماں کو اپنے مومن بندوں کے ہاں محبوب کر دے اور ان کے دلوں میں ان کی محبت ڈال دے۔ چنانچہ روئے زمین پر جو بھی مومن مرد یا عورت ہے وہ سب مجھ سے محبت کرتے ہیں اور میں ان سے محبت کرتا ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 4286]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4287
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن سليمان البُرُلُّسيّ، حدثنا ضِرار بن صُرَدٍ، حدثنا عائذُ بن حَبيب، حدثنا إسماعيل بن أبي خالد، عن عبد الله المُزَني، عن عبد الرحمن بن أبي بكر الصِّدِّيق، قال: كان فلانٌ يَجلِسُ إلى النبي ﷺ، فإذا تَكلَّم النبيُّ ﷺ بشيءٍ اختَلَجَ بِوَجْهِه، فقال له النبيُّ ﷺ:"كُنْ كَذلِكَ"، فلم يَزَلْ يَختَلِجُ حتى مات (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4241 - ضرار بن صرد واه
سیدنا عبدالرحمن ابن ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: فلاں آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا کرتا تھا اور آپ جب کوئی گفتگو فرماتے تو وہ منہ چڑایا کرتا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک دن) کہہ دیا: تو ایسے ہی ہو جا۔ تو ساری زندگی اس کا چہرہ اسی طرح رہا حتیٰ کہ وہ مر گیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 4287]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4288
حدثني أبو بكر محمد بن داود بن سليمان الزاهد، حدثنا أبو علي محمد بن محمد بن الأشْعَث الكوفي بمصر، حدثني أبو الحسن موسى بن إسماعيلَ بن موسى بن جعفر بن محمد بن علي، حدثني أبي إسماعيلُ، عن أبيه موسى بن جعفر، عن أبيه جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جده علي بن الحُسين، عن أبيه الحسين ابن علي، عن أبيه علي بن أبي طالب: أنَّ يَهوديًا كان يقال له: جُرَيجِرة، كان له على رسول الله ﷺ دنانيرُ، فتَقاضى النبيَّ ﷺ، فقال له:"يا يَهودِيُّ، ما عندي ما أُعطِيك" قال: فإني لا أُفارِقُك يا محمدُ حتى تُعطِيَني، فقال ﷺ:"إذًا أَجلِسَ معكَ" فجلسَ معه، فصلى رسولُ الله ﷺ في ذلك الموضِع الظهرَ والعصرَ والمغربَ والعشاءَ الآخِرةَ والغَداةَ، وكان أصحابُ رسول الله ﷺ يَتَهدَّدونه ويتَوعَّدونه، ففَطِن رسولُ الله ﷺ، فقال:"ما الذي تَصنَعون به؟" فقالوا يا رسول الله، يَهوديٌّ يَحبِسُك؟!، فقال رسولُ الله ﷺ:"مَنَعَني ربِّي أن أَظْلِمَ معاهَدًا ولا غيره" فلما تَرجَّل النهارُ (1) قال اليهوديُّ: أشهد أن لا إله إلّا الله وأشهدُ أن محمدًا عبدُه ورسولُه، وشَطْرُ مالي في سبيل الله، أما والله ما فعلتُ الذي فعلتُ بك إلّا لأنظُرَ إلى نَعتِكَ في التوراة: محمدُ بن عبد الله مَولدُه بمكة، ومُهاجَرُه بطَيْبة، ومُلكُه بالشام، ليس بفَظٍّ ولا غَليظٍ ولا سَخّابٍ في الأسواق، ولا مُتَزيِّنٍ بالفُحْشِ ولا قولِ الخَنَا، أشهدُ أن لا إله إلّا الله وأنك رسول الله، هذا مالي فاحكُم فيه بما أراكَ اللهُ؛ وكان اليهوديُّ كثيرَ المالِ (2) [ومن كتاب الهجرة الأولى إلى الحبشة] تواترت الأخبارُ أنَّ رسولَ الله ﷺ لما مات عمُّه أبو طالبٍ لقيَ هو والمُسلِمون أذًى من المشركين بعد موتِه، فقال لهمُ النبيُّ ﷺ حين ابتُلُوا وشَطَّتْ بهم عشائرهم:"تَفَرَّقُوا" وأشارَ قِبَل أرضِ الحبشة، وكانت أرضًا دَفِيئَة تَرحَلُ إليها قريش رحلةَ الشتاء، فكانت أولَ هجرةٍ في الإسلام، وإنما أمرَ رسولُ الله ﷺ أصحابَه بالخُروج إلى النجاشيِّ لِعَدْلِه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4242 - حديث منكر بمرة
سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک جریرہ نامی یہودی کے کچھ دینار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرضہ تھا۔ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان دیناروں کا مطالبہ کیا۔ آپ نے فرمایا: اے یہودی ابھی میرے پاس ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو میں تجھے دے سکوں۔ اس نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! جب تک آپ میرا قرضہ نہیں دے دیتے، میں آپ کو چھوڑوں گا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، میں تیرے پاس بیٹھا ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی مقام پر اس کے پاس بیٹھے رہے اور ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور اگلے دن کی فجر کی نمازیں وہیں پڑھیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کو ڈرانے دھمکانے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کے ساتھ یہ کیا سلوک کر رہے ہو؟ صحابہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس یہودی نے آپ کو روک رکھا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے معاہد اور غیر معاہد پر زیادتی کرنے سے منع کیا ہے۔ جب دن ڈھلا تو یہودی نے کہا: اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلہٗ اور بولا: میرا آدھا مال اللہ کی راہ میں وقف ہے۔ خدا کی قسم! میں نے یہ جو کچھ کیا ہے صرف وہ نشانیاں دیکھنے کے لئے کیا جو آپ کی تعریف میں تورات میں مذکور ہیں کہ (ان کا نام) محمد بن عبداللہ ہو گا، اس کی پیدائش مکہ میں ہو گی اور وہ مدینہ کی طرف ہجرت کرے گا اور اس کی سلطنت شام تک ہو گی۔ وہ تندخو، سخت مزاج نہ ہو گا، نہ بازاروں میں چیخنے والا ہو گا نہ فحش گو ہو گا اور نہ بد زبان ہو گا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں۔ یہ میرا مال حاضر ہے، اس میں آپ اپنی صوابدید کے مطابق تصرف فرمائیں وہ یہودی بہت مالدار تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 4288]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں