المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
13. إِسْلَامُ أُمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ بِدُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
نبی کریم ﷺ کی دعا سے حضرت ابو ہریرہؓ کی والدہ کا اسلام لانا
حدیث نمبر: 4286
أخبرنا أبو عمرو عثمان أحمد بن عبد الله الدَّقَّاق ببغداد، حدثنا عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حدثنا يعقوب بن إسحاق الحَضْرمي، أخبرنا عِكْرمة بن عمار، حدثنا أبو كثير الغُبَري، قال: قال أبو هُريرة: ما على وَجْه الأرض مؤمنٌ ولا مؤمنةٌ إلا وهو يُحبُّني، قال: قلتُ: وما عِلمُك بذلك يا أبا هريرة؟ قال: إني كنتُ أدعُو أمي إلى الإسلام، فتأبّى، وإني دعوتُها ذات يومٍ فأسمعَتْني في رسول الله ﷺ ما أكْرَهُ، فجئتُ إلى رسول الله ﷺ فقلتُ: يا رسول الله، إني كنتُ أدعُو أمّي إلى الإسلام، فتأبَى عليَّ، وإني دعوتُها يومًا، فأسمَعَتْني فيكَ ما أَكرَهُ، فَادْعُ الله يا رسول الله أن يهديَ أمَّ أبي هريرة إلى الإسلام، فدعا لها رسول الله ﷺ، فرجعتُ إلى أمّي أُبشِّرها بدعوةِ رسول الله ﷺ، فلما كنتُ على الباب إذا البابُ مغلقٌ فدققتُ البابَ، فسمعتْ حِسِّي فَلَبِسَتْ ثيابَها وجَعَلتْ على رأسِها خِمارَها، وقالت: ارفُقْ يا أبا هريرة، ففتحتْ لي، فلما دخلتُ قالت: أشهدُ أن لا إلهَ إلّا اللهُ وأنَّ محمدًا رسولُ الله، فرجعتُ إلى رسولِ الله ﷺ، وأنا أبكي من الفَرَح كما كنتُ أبكي من الحُزن، وجعلتُ أقول: أبشِرْ يا رسولَ الله، قد استجابَ اللهُ دعوتَك وهَدَى الله أمَّ أبي هريرة إلى الإسلام، فقلت: ادعُ الله أن يُحبِّبَني وأمي إلى عباده المؤمنين ويُحبِّبَهم إلينا، قال: فقال رسول الله ﷺ:"اللهم حَبَّب عُبيدَكَ هذا وأمه إلى عبادك المؤمنين، وحَبَّبهم إليهما"، فما على الأرضِ مؤمنٌ ولا مؤمنةٌ إلا وهو يُحبُّني وأُحِبُّه (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4240 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4240 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: روئے زمین پر کوئی بھی ایسا مومن مرد یا عورت نہیں ہے جو مجھ سے محبت نہ کرتا ہو، ان سے پوچھا گیا: اے ابوہریرہ! آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ انہوں نے کہا: میں اپنی والدہ کو اسلام کی دعوت دیتا تھا لیکن وہ انکار کر دیتی تھیں، ایک دن میں نے انہیں دعوت دی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ایسی نازیبا بات کہی جو مجھے سخت ناگوار گزری، میں روتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں اپنی والدہ کو اسلام کی طرف بلاتا تھا لیکن وہ انکار کرتی تھیں، آج میں نے انہیں دعوت دی تو انہوں نے آپ کے متعلق ایسی بات کہی جو مجھے ناپسند ہے، پس اے اللہ کے رسول! آپ اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ ابوہریرہ کی والدہ کو اسلام کی ہدایت دے دے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی خوشخبری لیے اپنی والدہ کی طرف واپس گیا، جب میں دروازے پر پہنچا تو وہ بند تھا، میری والدہ نے میرے آنے کی آہٹ محسوس کی تو انہوں نے اپنا لباس پہنا اور سر پر اوڑھنی اوڑھ لی اور کہا: اے ابوہریرہ! وہیں ٹھہر جاؤ، پھر انہوں نے میرے لیے دروازہ کھولا، جب میں داخل ہوا تو انہوں نے پکار کر کہا: ”میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں“، میں دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں خوشی سے اسی طرح رو رہا تھا جیسے پہلے غم کی وجہ سے رو رہا تھا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! خوش ہو جائیے، اللہ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور ابوہریرہ کی والدہ کو ہدایت دے دی ہے، پھر میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے اور میری والدہ کو اپنے مومن بندوں کا محبوب بنا دے اور مومنوں کو ہمارا محبوب بنا دے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی: «اللّٰهُمَّ حَبِّبْ عُبَيْدَكَ هٰذَا وَأُمَّهُ إِلَىٰ عِبَادِكَ الْمُؤْمِنِينَ، وَحَبِّبْهُمْ إِلَيْهِمَا» ”اے اللہ! اپنے اس چھوٹے سے بندے اور اس کی والدہ کو اپنے مومن بندوں کا محبوب بنا دے اور مومنوں کو ان کا محبوب بنا دے“، پس اب زمین پر کوئی بھی ایسا مومن مرد یا عورت نہیں ہے جو مجھ سے محبت نہ کرتا ہو اور میں اس سے محبت نہ کرتا ہو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 4286]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 4286]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، وقد توبع. وأخرجه أحمد 14/ (8259)، ومسلم (2491)، وابن حبان (7154) من طرق عن عكرمة بن عمار، به. واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.» [ترقيم الرساله 4286] [ترقيم الشركة 4263] [ترقيم العلميه 4240]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 4287
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن سليمان البُرُلُّسيّ، حدثنا ضِرار بن صُرَدٍ، حدثنا عائذُ بن حَبيب، حدثنا إسماعيل بن أبي خالد، عن عبد الله المُزَني، عن عبد الرحمن بن أبي بكر الصِّدِّيق، قال: كان فلانٌ يَجلِسُ إلى النبي ﷺ، فإذا تَكلَّم النبيُّ ﷺ بشيءٍ اختَلَجَ بِوَجْهِه، فقال له النبيُّ ﷺ:"كُنْ كَذلِكَ"، فلم يَزَلْ يَختَلِجُ حتى مات (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4241 - ضرار بن صرد واه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4241 - ضرار بن صرد واه
سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھا کرتا تھا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بات ارشاد فرماتے تو وہ (تمسخر اڑانے کے لیے) اپنے چہرے سے عجیب حرکات کرتا اور منہ بناتا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اس حرکت کو دیکھ کر فرمایا: «كُنْ كَذٰلِكَ» ”تم ایسے ہی ہو جاؤ“، پس وہ شخص مرتے دم تک اسی طرح چہرے کے کھچاؤ اور بگاڑ (فالج زدہ کیفیت) میں مبتلا رہا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 4287]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 4287]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًا، ضرار بن صُرَد واهٍ كما قال الذهبي في "تلخيصه"، وعائذ بن حبيب لا بأس به، لكنه كان يتشيع، وجاء في بعض روايات الحديث أن هذا الرجل الذي أُبهم في الرواية هو الحكم بن أبي العاص والد مروان، وعبد الله المزني لم نَتبيَّن من هو، وقد روي نحو ...» [ترقيم الرساله 4287] [ترقيم الشركة 4264] [ترقيم العلميه 4241]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًا
حدیث نمبر: 4288
حدثني أبو بكر محمد بن داود بن سليمان الزاهد، حدثنا أبو علي محمد بن محمد بن الأشْعَث الكوفي بمصر، حدثني أبو الحسن موسى بن إسماعيلَ بن موسى بن جعفر بن محمد بن علي، حدثني أبي إسماعيلُ، عن أبيه موسى بن جعفر، عن أبيه جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جده علي بن الحُسين، عن أبيه الحسين ابن علي، عن أبيه علي بن أبي طالب: أنَّ يَهوديًا كان يقال له: جُرَيجِرة، كان له على رسول الله ﷺ دنانيرُ، فتَقاضى النبيَّ ﷺ، فقال له:"يا يَهودِيُّ، ما عندي ما أُعطِيك" قال: فإني لا أُفارِقُك يا محمدُ حتى تُعطِيَني، فقال ﷺ:"إذًا أَجلِسَ معكَ" فجلسَ معه، فصلى رسولُ الله ﷺ في ذلك الموضِع الظهرَ والعصرَ والمغربَ والعشاءَ الآخِرةَ والغَداةَ، وكان أصحابُ رسول الله ﷺ يَتَهدَّدونه ويتَوعَّدونه، ففَطِن رسولُ الله ﷺ، فقال:"ما الذي تَصنَعون به؟" فقالوا يا رسول الله، يَهوديٌّ يَحبِسُك؟!، فقال رسولُ الله ﷺ:"مَنَعَني ربِّي أن أَظْلِمَ معاهَدًا ولا غيره" فلما تَرجَّل النهارُ (1) قال اليهوديُّ: أشهد أن لا إله إلّا الله وأشهدُ أن محمدًا عبدُه ورسولُه، وشَطْرُ مالي في سبيل الله، أما والله ما فعلتُ الذي فعلتُ بك إلّا لأنظُرَ إلى نَعتِكَ في التوراة: محمدُ بن عبد الله مَولدُه بمكة، ومُهاجَرُه بطَيْبة، ومُلكُه بالشام، ليس بفَظٍّ ولا غَليظٍ ولا سَخّابٍ في الأسواق، ولا مُتَزيِّنٍ بالفُحْشِ ولا قولِ الخَنَا، أشهدُ أن لا إله إلّا الله وأنك رسول الله، هذا مالي فاحكُم فيه بما أراكَ اللهُ؛ وكان اليهوديُّ كثيرَ المالِ (2) [ومن كتاب الهجرة الأولى إلى الحبشة] تواترت الأخبارُ أنَّ رسولَ الله ﷺ لما مات عمُّه أبو طالبٍ لقيَ هو والمُسلِمون أذًى من المشركين بعد موتِه، فقال لهمُ النبيُّ ﷺ حين ابتُلُوا وشَطَّتْ بهم عشائرهم:"تَفَرَّقُوا" وأشارَ قِبَل أرضِ الحبشة، وكانت أرضًا دَفِيئَة تَرحَلُ إليها قريش رحلةَ الشتاء، فكانت أولَ هجرةٍ في الإسلام، وإنما أمرَ رسولُ الله ﷺ أصحابَه بالخُروج إلى النجاشيِّ لِعَدْلِه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4242 - حديث منكر بمرة
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4242 - حديث منكر بمرة
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی جسے جریجرہ کہا جاتا تھا، اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ دنانیر (قرض) تھے، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اے یہودی! میرے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے“ اس نے کہا: اے محمد! میں آپ کو اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک آپ مجھے میرا حق نہ دے دیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ایسا ہے تو میں تمہارے ساتھ بیٹھ جاتا ہوں“ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ بیٹھ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی جگہ ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور صبح (فجر) کی نمازیں ادا کیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اسے ڈرا دھمکا رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا احساس ہوا تو آپ نے فرمایا: ”تم اس کے ساتھ کیا کر رہے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ایک یہودی آپ کو روک کر رکھے؟! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے رب نے مجھے کسی معاہد (جس سے معاہدہ ہو) یا کسی اور پر ظلم کرنے سے منع فرمایا ہے“ پس جب دن چڑھ آیا تو اس یہودی نے کہا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا الله وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُه» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور میرا آدھا مال اللہ کی راہ میں ہے، اللہ کی قسم! میں نے آپ کے ساتھ یہ سب صرف اس لیے کیا تاکہ میں آپ کی وہ صفات دیکھ سکوں جو تورات میں مذکور ہیں: ”محمد بن عبداللہ، جن کی ولادت مکہ میں، ہجرت گاہ طیبہ (مدینہ) میں اور ان کی سلطنت شام میں ہوگی، وہ نہ تند خو ہیں نہ سخت دل، نہ بازاروں میں شور مچانے والے ہیں اور نہ ہی بیہودہ گوئی اور گالی گلوچ کرنے والے ہیں“ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں، یہ میرا مال ہے، اب آپ اس میں ویسا ہی فیصلہ فرمائیں جیسا اللہ آپ کو دکھائے؛ اور وہ یہودی بہت مالدار تھا۔ ہجرتِ حبشہ کا بیان: متواتر خبریں ثابت ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابوطالب کی وفات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو ان کی وفات کے بعد مشرکین کی طرف سے بہت اذیتیں پہنچیں، چنانچہ جب وہ آزمائش میں ڈالے گئے اور ان کے قبیلوں نے ان سے قطع تعلق کر لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم متفرق ہو جاؤ“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حبشہ کی سرزمین کی طرف اشارہ فرمایا، وہ ایک گرم ملک تھا جہاں قریش سردیوں میں سفر کیا کرتے تھے، یہ اسلام میں پہلی ہجرت تھی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو نجاشی کے پاس جانے کا حکم صرف اس کے عدل و انصاف کی وجہ سے دیا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 4288]
تخریج الحدیث: «خبر موضوع، آفته أبو علي محمد بن محمد بن الأشعث، فقد اتهمه ابن عدي والدارقطني بوضع هذه النسخة العَلَوية، وليس آفته موسى بن إسماعيل كما قال الذهبي في "تلخيصه"، ولا يُفهم من قول ابن عدي: فذكرنا روايته هذه الأحاديث عن موسى هذا لأبي عبد الله الحسين بن علي بن الحسن ...» [ترقيم الرساله 4288] [ترقيم الشركة 4265] [ترقيم العلميه 4242]
الحكم على الحديث: خبر موضوع