المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
17. ذِكْرُ مُؤَاسَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الصُّفَّةِ
اہلِ صفہ کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی ہمدردی اور مواسات کا ذکر
حدیث نمبر: 4336
حدثنا الحسن بن يعقوب العَدْل وأحمد بن محمد بن عبد الله القطان، قالا: حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا علي بن عاصم، عن داود بن أبي هند. وحدثني علي بن عيسى، حدثنا محمد بن عمرو الحَرَشي، حدثنا يحيى بن يحيى، حدثنا علي بن مسهر، عن داود بن أبي هِنْد، عن أبي حَرْب بن أبي الأسود، قال: حدثني طلحة النضري (1) ، قال: كان الرجل منا إذا قدم المدينة، فكان له بها عريفٌ نَزلَ على عَرِيفه، فإن لم يكن له بها عَريفٌ نَزلَ الصُّفَّة، فقدمتُ المدينة ولم يَكُن لي بها عريفٌ [فنزلتُ الصُّفّةَ] (2) فكان يُجرَى علينا مِن رسول الله ﷺ كلَّ يومٍ مُدٌّ من تمر بين اثنين، ويكسونا الخُنُفَ، فصلى بنا رسول الله ﷺ بعض صلوات النهار، فلما سَلّم ناداه أهلُ الصُّفّة يمينًا وشمالًا: يا رسول الله، أحرق بطونَنا التمر، وتخرقت عنا الخُنُف، فمالَ رسولُ الله ﷺ إلى مِنبَرِه فَصَعِدَه، فَحَمِد الله وأثنى عليه، ثم ذكر الشِّدةَ ما لقي من قومه، حتى قال:"فلقد أتى عليّ وعلى صاحبي بضع عشرة وما لي وله طعامٌ إلَّا البَرِير" - قال: قلت لأبي حرب: وأي شيء البَرِير؟ قال: طعام رسول الله ﷺ، ثَمَرُ الأراك -"فقَدِمْنا على إخواننا هؤلاء من الأنصار، وعُظْمُ طعامهم التمر، فواسونا فيه، والله لو أجد لكم الخبز واللحم لأشبعتكُم منه، ولكن عسى أن تُدركوا زمانًا حتى يُغدَى على أحدِكُم بجَفْنةٍ، ويُراحَ عليه بأخرى". قال: فقالوا: يا رسول الله: أنحنُ اليوم خيرٌ أم ذاك اليوم؟ قال:"بل أنتم اليوم خيرٌ، أنتم اليوم مُتحابُّون، وأنتم يومئذٍ يضرب بعضُكم رقاب بعضٍ - أُراه قال: متباغضُون -" (1) . هذا لفظ حديث أبي سهل القطان، وحديث يحيى بن يحيى على الاختصار.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4290 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4290 - صحيح
سیدنا طلحہ بصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم میں ایک آدمی تھا، اس کی جان پہچان والا ایک آدمی مدینہ میں رہتا تھا۔ یہ جب مدینہ میں آتا تو اپنے اس دوست کے پاس ٹھہرتا، اور اگر وہ (گھر) نہ ہوتا تو صفہ میں آ جاتا، میں بھی صفہ میں ٹھہر گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے روزانہ کھجوریں آتیں، دو آدمیوں کے لیے ایک مد ہوتا، اور آپ ہمیں کھدر کے کپڑے پہنایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دن کی ایک نماز پڑھائی، جب آپ نے سلام پھیرا تو دائیں بائیں سے اہل صفہ ندائیں دینے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجوروں نے تو ہمارے معدے جلا کر رکھ دئیے ہیں، اور ہمارے کھدر کے کپڑے بوسیدہ ہو چکے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد ان تکالیف کا ذکر فرمایا جو ان کے ساتھیوں کو پیش آئی تھیں، آپ نے فرمایا: میں اور میرے ساتھیوں نے دس سے زیادہ دن ایسے گزارے ہیں کہ ہمارے پاس کھانے کے لیے بریر کے سوا کچھ نہ تھا (داؤد ابن ابی ہند) کہتے ہیں: میں نے ابوحرب سے پوچھا:” بریر “ کیا چیز ہوتی ہے؟ انہوں نے کہا: پیلو کے درخت کے پھل۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طعام تھا۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: پھر ہم اپنے ان بھائیوں کے پاس آئے تو ان کا کھانا کھجور ہمیں بہت پسند آیا۔ تو انہوں نے اس میں ہماری مدد کی۔ خدا کی قسم! تمہارے لیے میرے پاس گوشت اور روٹی ہوتی تو میں تمہیں وہ پیٹ بھر کر کھلاتا۔ لیکن قریب ہے کہ تم ایسا زمانہ پاؤ کہ تم میں سے ہر ایک بڑے پیالے کے ساتھ ناشتہ کرے گا، اور شام کے وقت دوسرا پیالہ حاضر ہو گا۔ (راوی) کہتے ہیں: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم اس دن بہتر ہوں گے یا آج بہتر ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم آج بہتر ہو، آج تم ایک دوسرے سے محبت کرتے ہو، اور اس دن تم ایک دوسرے کی گردنیں مارو گے۔ (راوی کہتے ہیں) میرا خیال ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا تھا: تم ایک دوسرے سے بغض رکھنے لگ جاؤ گے۔ نوٹ: یہ مذکورہ الفاظ ابوسہل القطان کی روایت کے ہیں جبکہ یحیی بن یحیی کی روایت اس سے مختصر ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْهِجْرَةِ/حدیث: 4336]