🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. نُزُولُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي صُورَةِ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ لِيُزَلْزِلَ بَنِي قُرَيْظَةَ
حضرت جبرئیلؑ کا دِحیہ کلبی کی صورت میں آ کر بنی قریظہ پر رعب ڈالنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4379
أخبرنا أبو بكر أحمد بن كامل القاضي، حدَّثنا محمد بن موسى بن حمّاد البَرْبَري، حدَّثنا محمد بن إسحاق أبو عبد الله المُسيَّبي، حدَّثنا عبد الله بن نافع، حدَّثنا عبد الله بن عُمر، عن أخيه عُبيد الله بن عمر، عن القاسم بن محمد، عن عائشة زوجِ النبي ﷺ: أن رسول الله ﷺ كان عندَها فسَلّم علينا رجُلٌ ونحن في البيت، فقام رسولُ الله ﷺ فَزعًا، فقمْتُ في أثَرِه، فإذا دِحْيةُ الكَلْبي، فقال:"هذا جبريلُ يأمُرني أن أذهبَ إلى بني قُرَيظةَ، فقال: قد وضعتُمُ السلاحَ، لكِنّا لم نَضَعْ، قد طَلَبْنا المشركين حتى بَلَغْنا حَمْراءَ الأَسَدِ" وذلك حين رجعَ رسولُ الله ﷺ مِن الخندقِ، فقام النبيُّ ﷺ فَزِعًا، فقال لأصحابه:"عَزَمْتُ عليكم أن لا تُصلُّوا صلاةَ العصرِ حتى تأتُوا بني قُريظةَ"، فغربتِ الشمسُ قبلَ أن يأتُوهم، فقالت طائفةٌ من المسلمين: إنَّ النبيَّ ﷺ لم يُرِدْ أن تَدَعُوا الصلاةَ، فصَلَّوا، وقالت طائفةٌ: إنا لَفِي عزيمةِ النبيِّ ﷺ، وما علَينا من إثمٍ، فصلَّتْ طائفةٌ إيمانًا واحتِسابًا، وتركتْ طائفةٌ إيمانًا واحتِسابًا، ولم يَعِبِ النبيُّ ﷺ واحدًا من الفريقين، وخرج النبيُّ ﷺ فمرَّ بمجالسَ بينَه وبين قُريظةَ، فقال: هل مَرَّ بكم من أحدٍ؟ قالوا: مَرَّ علينا دِحيةُ الكَلْبي على بغلةٍ شَهْباءَ تحتَه قَطيفةُ دِيباج، فقال النبيُّ ﷺ:"ليس ذلك بدِحْيةَ، ولكنه جبريل ﵇ أُرسِلَ إلى بنى قُريظةَ ليُزلزلَهم ويَقذفَ في قُلوبِهمُ الرُّعبَ" فحاصرَهم النبيُّ ﷺ وأمرَ أصحابه أن يَستَتِروا بالحَجَفِ حتى يُسمِعَهم كلامَه، فناداهم:"يا إخوةَ القِرَدة والخَنازِيرِ" قالوا: يا أبا القاسِم، لم تَكُ فَحّاشًا، فحاصَرَهُم حتى نزلُوا على حُكم سعد ابن مُعاذ، وكانوا حُلَفَاءَه، فحَكَم فيهم أن يُقتَلَ مُقاتِلتُهم، وتُسبَى ذَرَاريُّهم ونساؤهم (1)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فإنهما قد احتجا بعبد الله بن عُمر العُمري في الشَّواهد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4332 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تھے کہ ہمارے گھر والوں میں سے کسی نے سلام کیا۔ ہم بھی اس وقت گھر ہی میں تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر اٹھے، میں بھی آپ کے پیچھے آئی، تو وہ سیدنا دحیہ کلبی تھے۔ آپ نے فرمایا: یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں اور مجھے بنو قریظہ کی طرف روانگی کا حکم دے رہے ہیں۔ اور کہہ رہے ہیں کہ تم نے تو ہتھیار اتار دئیے ہیں لیکن ہم نے ابھی تک نہیں اتارے۔ ہم مشرکین کا پیچھا کرتے کرتے جمراء الاسد تک جا پہنچے ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خندق سے واپس لوٹے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر اٹھے اور اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا: میں تم پر یہ لازم کرتا ہوں کہ بنو قریظہ میں پہنچنے سے پہلے نماز مت پڑھنا لیکن ان کے بنو قریظہ میں پہنچنے سے پہلے سورج غروب ہو گیا۔ (سورج غروب ہونے سے پہلے) مسلمانوں کی ایک جماعت نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ نہیں تھا کہ تم نماز ہی چھوڑ دینا۔ اس لئے انہوں نے نماز پڑھ لی۔ دوسری جماعت نے کہا: ہم تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے پابند ہیں۔ ہمیں اس کا کوئی گناہ نہیں ہو گا۔ چنانچہ ایک جماعت نے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے نماز پڑھ لی اور دوسری جماعت نے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے نماز چھوڑ دی۔ جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی کو بھی برا نہیں کہا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی نکلے۔ آپ کا گزر ان کے اور قریظہ کے بیچ میں کئی مجالس سے ہوا، آپ نے پوچھا: کیا یہاں سے کوئی گزرا ہے؟ تو انہوں نے جواب کہ یہاں سے دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ سیاہی مائل سفید رنگ کے گھوڑے پر سوار ہو کر گزرے ہیں، جن کے نیچے ریشم کی زین تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ دحیہ کلبی نہیں تھا بلکہ وہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام تھے، ان کو بنی قریظہ کی جانب بھیجا گیا ہے۔ تاکہ ان پر زلزلہ طاری کریں اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا محاصرہ کر لیا اور اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ اپنی ڈھالوں میں چھپے رہیں یہاں تک کہ ان کو ان کی آواز سنائی دے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پکارا: اے خنزیروں اور بندروں کے بھائیو! انہوں نے جواباً کہا: اے ابوالقاسم! آپ تو بے ہودہ بولنے والے نہ تھے۔ تو آپ نے ان کا محاصرہ کر لیا۔ حتی کہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے کو نافذ فرما دیا۔ کیونکہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ ان کے حلیف تھے۔ تو ان کے بارے میں فیصلہ یہ ہوا کہ ان کے جوانوں کو قتل کر دیا جائے اور ان کے عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا جائے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4379]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4380
حدَّثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو مسلم، حدَّثنا حجَّاج بن مِنْهال، حدَّثنا حمّاد بن سَلَمة، عن عبد الملك بن عُمير قال: حدّثني عَطيّة القُرَظي، قال: عُرِضْنا على رسولِ الله ﷺ زَمَنَ قُريظةَ، فمن كان منا مُحتلِمًا أو نَبَتَت عانَتُه قُتِلَ، فنَظَروا إليَّ فلم تكُن نبتتْ عانتي، فتُرِكْتُ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وله طُرق عن عبد الملك بن عُمَير، منهم الثَّوْري وشُعْبة وزُهَير (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4333 - صحيح
سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قریظہ (کے محاصرہ) کے ایام میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا ہم میں جو بالغ ہوتا یا جس کے موئے زیر ناف اگے ہوتے اس کو قتل کر دیا جاتا۔ انہوں نے مجھے بھی دیکھا تو میرے موئے زیر ناف نہیں اگے تھے اس لئے انہوں نے مجھے چھوڑ دیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ عبدالملک بن عمیر سے اس کی متعدد سندیں ہیں۔ ان میں ثوری شعبہ اور زہیر بھی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4380]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں