المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
19. قَتْلُ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ
بنی قریظہ کی ایک عورت کا قتل
حدیث نمبر: 4381
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: حدّثني محمد بن جعفر بن الزُّبير، عن عُرْوة بن الزبير، عن عائشة أنها قالت: ما قَتَلَ رسول الله ﷺ امرأةً من بني قُريظةَ إلَّا امرأةً واحدةً، والله إنها لَعِنْدي تَضحَكُ ظَهْرًا لِبَطنٍ (3) ، وإن رسول الله ﷺ لَيقتُلُ رجالَهم بالسُّيوف، إذ يقول هاتفٌ باسمِها: أين فُلانةُ؟ فقالت: أنا واللهِ، قلت: وَيلَكِ ما لكِ؟ فقالت: أُقتَلُ والله، فقلتُ: ولِمَ؟ قالت: لحَدَثٍ أحدثْتُه، فانطُلِقَ بها فضُرِبَتْ عُنقُها، فما أَنسَى عَجَبًا منها طِيبةَ نفسِها وكثرةَ ضَحِكِها، وقد عَرَفَت أنها تُقتَلُ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4334 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4334 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کی عورتوں میں سے صرف ایک عورت کو قتل کروایا تھا، اللہ کی قسم! وہ میرے پاس بیٹھی ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہی تھی جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مردوں کو تلواروں سے قتل کروا رہے تھے، اسی دوران ایک پکارنے والے نے اس کا نام پکارا: ”فلاں عورت کہاں ہے؟“ اس نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں یہاں ہوں“، میں نے (حیرت سے) کہا: ”تجھ پر افسوس! تجھے کیا ہوا؟“ اس نے کہا: ”اللہ کی قسم! مجھے قتل کیا جائے گا“، میں نے پوچھا: ”کیوں؟“ اس نے کہا: ”ایک معاملے (جرم) کی وجہ سے جو میں نے کیا تھا“، پھر اسے لے جایا گیا اور اس کی گردن مار دی گئی، میں اس کے نفس کی اطمینان اور کثرتِ تبسم پر اس کے باوجود حیرانی نہیں بھولتی کہ اسے علم تھا کہ اسے قتل کر دیا جائے گا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4381]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4381]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل ابن إسحاق: وهو محمد بن إسحاق بن يسار.» [ترقيم الرساله 4381] [ترقيم الشركة 4358] [ترقيم العلميه 4334]
الحكم على الحديث: إسناده حسن