🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

22. لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَسَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ
دشمن سے ملاقات کی تمنا نہ کرنے اور اللہ سے عافیت مانگنے کی ہدایت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4390
حدَّثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار إملاءً، حدَّثنا زكريا بن يحيى بن مروان وإبراهيم بن إسماعيل السَّوْطي، قالا: حدَّثنا فُضَيل بن عبد الوهاب، حدَّثنا جعفر بن سليمان عن الخليل بن مُرة، عن عمرو بن دينار، عن جابر بن عبد الله، قال: لما كان يوم خيبر بعث رسول الله ﷺ رجلًا فجَبُن، فجاء محمدُ بن مَسلَمة، فقال: يا رسول الله، لم أرَ كاليومِ قَطُّ، قُتِلَ محمود بن مَسلَمة، فقال رسولُ الله:"لا تَمنَّوا لقاءَ العَدُوِّ، وسَلُوا الله العافيةَ، فإنكم لا تَدْرون ما تُبتَلُون معهم، وإذا لَقِيتُمُوهم فقولوا: اللهم أنت ربُّنا وربُّهم، ونَواصِينا ونَواصِيهم بيدِك، وإنما تَقتلُهم أنتَ، ثم الْزَمُوا الأرضَ جُلُوسًا، فإذا غَشُوكُم فانهضُوا وكَبِّروا". ثم قال رسولُ الله ﷺ:"لأبعثنَّ غدًا رجلًا يحبُّ الله ورسولَه ويُحِبّانِه، لا يُولّي الدُّبُرَ، يفتحُ الله على يَدَيهِ" فتشرَّف لها الناسُ، وعليٌّ يومئذ أَرمَدُ، فقال له رسول الله ﷺ:"سِرْ" فقال: يا رسول الله، ما أُبصِرُ مَوضعًا، فتَفَلَ في عَينَيه، وعَقَدَ له، ودفع إليه الراية، فقال عليٌّ: يا رسول الله، علامَ أقاتلُهم؟ فقال:"على أن يَشْهَدُوا أَن لا إِلهَ إِلَّا اللهُ، وأني رسولُ الله، فإذا فعلُوا ذلك فقد حَقَنُوا دماءَهم وأموالَهم إلَّا بِحقِّهما، وحسابُهم على الله ﷿"، قال: فلَقِيَهم ففتحَ الله عليه (1) . قد اتفق الشيخانِ على إخراج حديثِ الرايةِ - يعني - ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4342 - أخرجا ذكر الراية منه
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب خیبر کا دن تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو (جھنڈا دے کر) بھیجا مگر وہ بزدلی دکھا کر واپس آ گیا، پھر سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے آج جیسا (منظر) کبھی نہیں دیکھا، (ان کے بھائی) محمود بن مسلمہ شہید کر دیے گئے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دشمن سے مقابلے کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت مانگو، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ ان کے ساتھ تمہاری کیسی آزمائش ہوگی، لیکن جب تمہارا ان سے سامنا ہو جائے تو کہو: «اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّنَا وَرَبُّهمْ، وَنَوَاصِينَا وَنَوَاصِيهِمْ بِيَدِكَ، وَإِنَّمَا تَقْتُلُهُمْ أَنْتَ» اے اللہ! تو ہی ہمارا اور ان کا رب ہے، ہماری اور ان کی پیشانیاں تیرے ہی ہاتھ میں ہیں، اور انہیں تو ہی قتل کرنے والا ہے، پھر زمین پر جم کر بیٹھ جاؤ اور جب وہ تم پر چھا جائیں تو اٹھ کھڑے ہو اور اللہ اکبر پکارو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کل میں ایسے شخص کو جھنڈا عطا کروں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں، وہ پیٹھ پھیر کر نہیں بھاگے گا، اللہ اس کے ہاتھوں فتح نصیب فرمائے گا، اس اعزاز کے لیے لوگ گردنیں اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگے، جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان دنوں آنکھوں کی تکلیف میں مبتلا تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: آگے بڑھو، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے تو کچھ سجھائی نہیں دے رہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعابِ دہن ڈالا، ان کے لیے جھنڈا تیار کیا اور انہیں عطا فرمایا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں ان سے کس بات پر قتال کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بات پر کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، جب وہ یہ تسلیم کر لیں گے تو انہوں نے اپنے خون اور مال مجھ سے محفوظ کر لیے سوائے ان کے حق کے، اور ان کا حساب اللہ عزوجل کے ذمے ہے، راوی کہتے ہیں: پھر ان کا دشمن سے سامنا ہوا اور اللہ نے ان کے ہاتھوں فتح عطا فرمائی۔
شیخین نے حدیثِ رایۃ کی اصل پر اتفاق کیا ہے لیکن اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4390]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف بهذه السِّياقة لضعف الخليل بن مرّة، فهو على صلاحه ضعيف الحديث، ولكن لأجزاء هذا الحديث شواهد صحيحة.» [ترقيم الرساله 4390] [ترقيم الشركة 4367] [ترقيم العلميه 4342]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف بهذه السِّياقة لضعف الخليل بن مرّة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4391
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدَّثنا عبد الله بن أحمد بن حَنْبل، حدّثنى أبي حدَّثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدَّثنا عكرمة بن عمار، حدَّثنا إياس بن سَلَمة، قال: حدّثنى أبي، قال: شَهِدنا مع رسولِ الله ﷺ خَيبرَ حين بَصَقَ رسولُ الله ﷺ في عينَي عليٍّ فبَرَأ، فأعطاهُ الرايةَ، فبرزَ مَرحبٌ وهو يقولُ: قد عَلِمتُ خيبرُ أني مَرْحَبُ … شاكِي السلاحِ بَطَلٌ مَجرَّبُ إذا الحُروبُ أقبلتْ تَلَهَّبُ قال: فبرزَ له عليٌّ وهو يقول: أنا الذي سَمَّتني أُمِّي حَيدَرَهْ … كلَيثِ غاباتٍ كَرِيهِ المَنْظَرَهْ أُوفِيكُمُ بالصاعِ كَيْلَ السَّنْدَرَهْ قال: فضَرَبَ مَرْحَبًا، ففَلَقَ رأسَه فقَتَلَه، وكان الفتحُ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4343 - على شرط مسلم
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ہم غزوہ خیبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھے، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں اپنا لعابِ دہن ڈالا تو وہ ٹھیک ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جھنڈا عطا فرمایا، پس (دشمن کا پہلوان) مرحب یہ اشعار پڑھتا ہوا نکلا: خیبر خوب جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں، ہتھیاروں سے لیس اور آزمودہ کار بہادر ہوں، جب جنگیں بھڑک اٹھتی ہیں تو میں بھی شعلہ بن جاتا ہوں، تو اس کے مقابلے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہوئے نکلے: میں وہ ہوں جس کا نام میری ماں نے حیدر (شیر) رکھا ہے، جنگل کے اس ببر شیر کی طرح جو دیکھنے میں نہایت ہیبت ناک ہوتا ہے، میں تمہیں صاع کے بدلے بڑے پیمانے (سندرہ) سے ناپ کر پورا بدلہ دوں گا، راوی کہتے ہیں: پھر انہوں نے مرحب پر ایسی ضرب لگائی کہ اس کا سر پھاڑ دیا اور اسے قتل کر دیا، اور یوں فتح نصیب ہوئی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4391]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،وسلمة: هو ابن الأكوع.» [ترقيم الرساله 4391] [ترقيم الشركة 4368] [ترقيم العلميه 4343]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں