المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
22. لا تمنوا لقاء العدو وسلوا الله العافية
دشمن سے ملاقات کی تمنا نہ کرنے اور اللہ سے عافیت مانگنے کی ہدایت
حدیث نمبر: 4390
حدَّثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار إملاءً، حدَّثنا زكريا بن يحيى بن مروان وإبراهيم بن إسماعيل السَّوْطي، قالا: حدَّثنا فُضَيل بن عبد الوهاب، حدَّثنا جعفر بن سليمان عن الخليل بن مُرة، عن عمرو بن دينار، عن جابر بن عبد الله، قال: لما كان يوم خيبر بعث رسول الله ﷺ رجلًا فجَبُن، فجاء محمدُ بن مَسلَمة، فقال: يا رسول الله، لم أرَ كاليومِ قَطُّ، قُتِلَ محمود بن مَسلَمة، فقال رسولُ الله:"لا تَمنَّوا لقاءَ العَدُوِّ، وسَلُوا الله العافيةَ، فإنكم لا تَدْرون ما تُبتَلُون معهم، وإذا لَقِيتُمُوهم فقولوا: اللهم أنت ربُّنا وربُّهم، ونَواصِينا ونَواصِيهم بيدِك، وإنما تَقتلُهم أنتَ، ثم الْزَمُوا الأرضَ جُلُوسًا، فإذا غَشُوكُم فانهضُوا وكَبِّروا". ثم قال رسولُ الله ﷺ:"لأبعثنَّ غدًا رجلًا يحبُّ الله ورسولَه ويُحِبّانِه، لا يُولّي الدُّبُرَ، يفتحُ الله على يَدَيهِ" فتشرَّف لها الناسُ، وعليٌّ يومئذ أَرمَدُ، فقال له رسول الله ﷺ:"سِرْ" فقال: يا رسول الله، ما أُبصِرُ مَوضعًا، فتَفَلَ في عَينَيه، وعَقَدَ له، ودفع إليه الراية، فقال عليٌّ: يا رسول الله، علامَ أقاتلُهم؟ فقال:"على أن يَشْهَدُوا أَن لا إِلهَ إِلَّا اللهُ، وأني رسولُ الله، فإذا فعلُوا ذلك فقد حَقَنُوا دماءَهم وأموالَهم إلَّا بِحقِّهما، وحسابُهم على الله ﷿"، قال: فلَقِيَهم ففتحَ الله عليه (1) . قد اتفق الشيخانِ على إخراج حديثِ الرايةِ - يعني - ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4342 - أخرجا ذكر الراية منه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4342 - أخرجا ذكر الراية منه
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: خیبر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو بھیجا لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکا، محمد بن مسلمہ آئے، اور بولے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے آج جیسا دن کبھی نہیں دیکھا، محمود بن مسلمہ شہید ہو گئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دشمن سے مڈبھیڑ کی آرزو مت کیا کرو، بلکہ اللہ تعالیٰ سے سلامتی مانگو، کیونکہ تم لوگ نہیں جانتے کہ تم پر کونسی آزمائش آنے والی ہے۔ اور جب دشمن کا سامنا ہو تو یوں دعا مانگو ” اے اللہ! تو ہی ہمارا رب ہے اور ان کا رب ہے، ہماری پیشانیاں اور ان کی پیشانیاں تیرے ہی ہاتھ میں ہیں۔ ان کو تو ہی قتل کرے گا۔ پھر تم زمین کے ساتھ چپک کر بیٹھ جاؤ۔ جب وہ تمہارے اندر گھس آئیں تو نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے اٹھ کھڑے ہو، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں کل ایسے آدمی کو بھیجوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ وہ پیٹھ پھیر کر نہیں بھاگے گا، اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح دے گا۔ لوگ اس بات کو قابل فخر سمجھنے لگے۔ اس دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی آنکھیں آئی ہوئی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حملہ کرنے کا کہا: تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تو کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں پر اپنا لعاب دہن لگایا، ان کو لشکر کی سرداری اور علم عطا فرمایا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کس مطالبے پر جہاد کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس (مطالبے) پر کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں۔ اگر وہ یہ گواہی دے دیں تو انہوں نے مجھ سے اپنے مال اور اپنی جانوں کو بچا لیا سوائے ان دونوں (مال اور جان) کے اپنے حقوق کے۔ اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حملہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح عطا فرما دی۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے علم والی حدیث نقل فرمائی ہے، لیکن اس سند کے ہمراہ اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4390]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4390 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف بهذه السِّياقة لضعف الخليل بن مرّة، فهو على صلاحه ضعيف الحديث، ولكن لأجزاء هذا الحديث شواهد صحيحة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس سیاق کے ساتھ اس کی سند "ضعیف" ہے، خلیل بن مرہ کے ضعف کی وجہ سے۔ وہ اپنی نیکی (صلاح) کے باوجود حدیث میں ضعیف ہیں۔ 🧩 متابعات و شواہد: لیکن اس حدیث کے اجزاء کے لیے "صحیح شواهد" موجود ہیں۔
وأخرجه أبو القاسم البغويّ في "معجم الصحابة" 5/ 424 عن زهير بن محمد المَروَزي، والطبراني في "المعجم الصغير" (790)، وفي "الدعاء" (1072) عن محمد بن الفضل بن جابر السَّقَطي كلاهما عن فُضيل بن عبد الوهاب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو القاسم البغوی نے "معجم الصحابہ" (5/ 424) میں زہیر بن محمد المروزی سے، اور طبرانی نے "المعجم الصغیر" (790) اور "الدعاء" (1072) میں محمد بن الفضل بن جابر السقطی سے روایت کیا ہے؛ یہ دونوں فضیل بن عبدالوہاب سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
وأخرجه ابن السني في "عمل اليوم والليلة" (668) من طريق حفص بن راشد، عن جعفر بن سليمان الضُّبَعي، به. مختصرًا بقطعة عدم تمني لقاء العدو، والدعاء عند اللقاء. وقال: يوم حنين، بدل: يوم خيبر، وهو وهم. ويشهد لذكر استشهاد محمود بن مسلمة في خيبر حديثُ بريدةَ الأسلمي عند البيهقيّ في "الدلائل" 4/ 210، وابن المغازلي في "مناقب علي" (224)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 41/ 463 - 464، وابن الأثير في "أسد الغابة" 4/ 342، بسند قوي.
📖 حوالہ / مصدر: ابن السنی نے "عمل الیوم واللیلۃ" (668) میں حفص بن راشد عن جعفر بن سلیمان الضبعی کے طریق سے اسے مختصراً روایت کیا ہے (صرف دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرنے اور ملاقات کے وقت دعا کے ٹکڑے کو)۔ انہوں نے "یوم خیبر" کی جگہ "یوم حنین" کہا ہے جو کہ "وہم" ہے۔ 🧩 متابعات و شواہد: خیبر میں محمود بن مسلمہ کی شہادت کے ذکر کی تائید بریدہ الاسلمی کی حدیث سے ہوتی ہے جو بیہقی کی "الدلائل" (4/ 210)، ابن المغازلی کی "مناقب علی" (224)، ابن عساکر کی "تاریخ دمشق" (41/ 463-464) اور ابن الاثیر کی "اسد الغابہ" (4/ 342) میں "قوی سند" کے ساتھ موجود ہے۔
ويشهد لقوله ﷺ: "لا تَمنَّوا لقاء العدو وسلوا الله العافية" حديث عبد الله بن أبي أوفى عند أحمد 31 (19114)، والبخاري (2966)، ومسلم (1742)، وتقدَّم عند المصنف برقم (2444).
🧩 متابعات و شواہد: آپ ﷺ کے فرمان: "دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت مانگو" کی تائید عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ کی حدیث سے ہوتی ہے جو احمد (31/ 19114)، بخاری (2966) اور مسلم (1742) میں ہے، اور مصنف کے ہاں نمبر (2444) پر گزر چکی ہے۔
وحديث أبي هريرة عند أحمد 15/ (9196)، والبخاري تعليقًا (3026)، ومسلم (1741).
🧩 متابعات و شواہد: نیز ابو ہریرہ ؓ کی حدیث سے بھی تائید ہوتی ہے جو احمد (15/ 9196)، بخاری (تعلیقاً 3026) اور مسلم (1741) میں ہے۔
ويشهد للدعاء المذكور عند لقاء العدو، مرسلُ أبي عبد الرحمن الحُبُلي عند سعيد بن منصور (2521)، والبيهقي في "الدعوات الكبير" (478)، ورجاله ثقات.
🧩 متابعات و شواہد: دشمن سے ملاقات کے وقت مذکورہ دعا کی تائید ابو عبدالرحمن الحُبُلی کی "مرسل" روایت سے ہوتی ہے جو سعید بن منصور (2521) اور بیہقی کی "الدعوات الکبیر" (478) میں ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔
ومرسَلُ سالم أبي النضر عند عبد الرزاق (9514)، والطبراني في "الدعاء" (1069) والبيهقي في "الدعوات" (474)، وفي "السنن الكبرى" 9/ 152، ورجاله ثقات أيضًا.
🧩 متابعات و شواہد: سالم ابی النضر کی "مرسل" روایت جو عبدالرزاق (9514)، طبرانی کی "الدعاء" (1069)، بیہقی کی "الدعوات" (474) اور "السنن الکبریٰ" (9/ 152) میں موجود ہے، (اس حدیث کی شاہد ہے)، اور اس کے رجال بھی "ثقہ" ہیں۔
ومرسل يحيى بن أبي كثير عند عبد الرزاق (9513)، وسعيد بن منصور (2519)، ورجاله ثقات كذلك.
🧩 متابعات و شواہد: نیز یحییٰ بن ابی کثیر کی "مرسل" روایت جو عبدالرزاق (9513) اور سعید بن منصور (2519) میں ہے، اور اس کے رجال بھی ثقہ ہیں۔
ويشهد لقصة إعطائه ﷺ الراية لعليّ وتمام الفتح على يديه أحاديث عدّة ذكرناها عند الحديث الآتي برقم (4702).
🧩 متابعات و شواہد: نبی کریم ﷺ کا حضرت علی ؓ کو جھنڈا عطا کرنا اور ان کے ہاتھوں فتح کا مکمل ہونا، اس قصے کے لیے متعدد احادیث بطور شاہد ہیں جو ہم نے اگلی حدیث نمبر (4702) کے تحت ذکر کی ہیں۔
ويشهد لقول عليّ بن أبي طالب للنبي ﷺ آخرَ الحديث وجواب النبي ﷺ له حديثُ أبي هريرة عند أحمد 14 / (8990)، ومسلم (2405)، وإسناده صحيح.
🧩 متابعات و شواہد: حدیث کے آخر میں حضرت علی ؓ کا نبی ﷺ سے عرض کرنا اور نبی ﷺ کا انہیں جواب دینا، اس کے لیے حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث شاہد ہے جو احمد (14/ 8990) اور مسلم (2405) میں ہے، اور اس کی سند "صحیح" ہے۔
وهذا الرجل الذي أُبهم ذكرُه أولَ الحديث أن النبي ﷺ بعثَه أولًا لفتح خيبر إما أن يكون أبا بكر أو عمر، فكلاهما بعثه رسول الله ﷺ قبل عليٍّ لفتح خيبر كما يدلُّ عليه حديث بريدة الأسلمي المتقدّم برقم (4387).
🔍 فنی نکتہ / تعیینِ مبہم: حدیث کے شروع میں جس آدمی کا ذکر "مبہم" ہے کہ نبی ﷺ نے اسے خیبر کی فتح کے لیے پہلے بھیجا تھا، وہ یا تو ابوبکر ؓ ہیں یا عمر ؓ؛ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ؓ سے پہلے ان دونوں کو فتح خیبر کے لیے بھیجا تھا، جیسا کہ بریدہ الاسلمی ؓ کی حدیث اس پر دلالت کرتی ہے جو پیچھے نمبر (4387) پر گزر چکی ہے۔