المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
22. لا تمنوا لقاء العدو وسلوا الله العافية
دشمن سے ملاقات کی تمنا نہ کرنے اور اللہ سے عافیت مانگنے کی ہدایت
حدیث نمبر: 4391
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدَّثنا عبد الله بن أحمد بن حَنْبل، حدّثنى أبي حدَّثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدَّثنا عكرمة بن عمار، حدَّثنا إياس بن سَلَمة، قال: حدّثنى أبي، قال: شَهِدنا مع رسولِ الله ﷺ خَيبرَ حين بَصَقَ رسولُ الله ﷺ في عينَي عليٍّ فبَرَأ، فأعطاهُ الرايةَ، فبرزَ مَرحبٌ وهو يقولُ: قد عَلِمتُ خيبرُ أني مَرْحَبُ … شاكِي السلاحِ بَطَلٌ مَجرَّبُ إذا الحُروبُ أقبلتْ تَلَهَّبُ قال: فبرزَ له عليٌّ وهو يقول: أنا الذي سَمَّتني أُمِّي حَيدَرَهْ … كلَيثِ غاباتٍ كَرِيهِ المَنْظَرَهْ أُوفِيكُمُ بالصاعِ كَيْلَ السَّنْدَرَهْ قال: فضَرَبَ مَرْحَبًا، ففَلَقَ رأسَه فقَتَلَه، وكان الفتحُ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4343 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4343 - على شرط مسلم
سیدنا ایاس بن سلمہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ خیبر میں شرکت کی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا تو ان کی آنکھیں ٹھیک ہو گئیں۔ آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو جھنڈا عطا فرمایا، مرحب نے یوں کہتے ہوئے مبازرت طلب کی: خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں ہتھیار بند، تجربہ کار لیڈر ہوں، جب جنگ شروع ہو جائے تو یہ شعلہ زن ہوتا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یوں کہتے ہوئے اس کو جنگ کے لئے بلایا: میں وہ ہوں جس کا نام اس کی ماں نے حیدر رکھا ہے جیسا کہ جنگل کا شیر، رعب دار وجاہت والا۔ میں تم میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلا دوں گا۔ پھر آپ نے مرحب پر ایک ضرب لگائی اور اس کا سر چیر کر رکھ دیا اور اس کو قتل کر دیا تو خیبر فتح ہو گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4391]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4391 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. وسلمة: هو ابن الأكوع.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / تعیینِ راوی: "سلمہ" سے مراد سلمہ بن الاکوع ؓ ہیں۔
وهو في "مسند أحمد" 27/ (16538) لكن عن أبي النضر هاشم بن القاسم، عن عكرمة.
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت "مسند احمد" (27/ 16538) میں موجود ہے، لیکن وہاں ابو النضر ہاشم بن القاسم عن عکرمہ کے واسطے سے ہے۔
وهو عند البيهقيّ في "السنن الكبرى" 9/ 131، وفي "دلائل النبوة" 4/ 207 عن أبي عبد الله الحاكم، عن أبي الفضل بن إبراهيم، عن أحمد بن سلمة، عن محمد بن يحيى الذُّهلي، عن عبد الصمد.
📖 حوالہ / مصدر: اور بیہقی کی "السنن الکبریٰ" (9/ 131) اور "دلائل النبوۃ" (4/ 207) میں ابو عبداللہ الحاکم سے مروی ہے، انہوں نے ابو الفضل بن ابراہیم سے، انہوں نے احمد بن سلمہ سے، انہوں نے محمد بن یحییٰ الذہلی سے، انہوں نے عبدالصمد سے روایت کیا ہے۔
وهو أيضًا في زيادات إبراهيم بن محمد بن سفيان على "صحيح مسلم" بإثر الحديث (1807) عن محمد بن يحيى الذّهلي، عن عبد الصمد.
📖 حوالہ / مصدر: نیز یہ روایت ابراہیم بن محمد بن سفیان کی "صحیح مسلم" پر زیادات میں حدیث نمبر (1807) کے بعد موجود ہے، جو محمد بن یحییٰ الذہلی عن عبدالصمد کے طریق سے ہے۔
وأخرجه مسلم (1807)، وابن حبان (6935) من أربعة طرق عن عكرمة بن عمار، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مسلم (1807) اور ابن حبان (6935) نے عکرمہ بن عمار سے چار مختلف طرق سے اسی طرح روایت کیا ہے۔