🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

28. إِنْشَادُ أَبِي سُفْيَانَ فِي إِسْلَامِهِ وَاعْتِذَارُهُ مِمَّا مَضَى
حضرت ابو سفیان کا اسلام لانے کے بعد اپنا کلام پیش کرنا اور سابقہ اعمال پر معذرت کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4407
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، قال: حدّثني الزُّهري، عن عُبيد الله بن عبد الله بن عُتبة، عن ابن عبّاس، قال: مضى رسولُ الله ﷺ وأصحابه عامَ الفتح حتى نَزَلَ مَرَّ الظَّهْران في عشرة آلاف من المسلمين، فَسَبَّعتْ سُليمٌ وألَّفتْ مُزَينةُ، وفي كلِّ القبائل عددٌ وإسلامٌ، وأوعَبَ مع رسول الله ﷺ المهاجِرُون والأنصارُ، فلم يَتَخَلّف عنه منهم أحدٌ، وقد عُمِّيتَ الأخبارُ على قُريش، فلا يأتيهم خَبرُ رسولِ اللهِ ﷺ، ولا يَدْرُون ما هو صانعٌ. وكان أبو سفيان بن الحارث وعبدُ الله بن أبى أُميّة بن المغُيرة قد لَقِيا رسولَ الله ﷺ بثَنِيّةِ (1) العُقاب فيما بين مكة والمدينة، فالْتَمَسا الدخولَ عليه، فكلّمَتْه أمُّ سلمة، فقالت: يا رسول الله، ابن عَمِّك وابن عَمَّتِك وصِهْرُك، فقال:"لا حاجةُ لي فيهم، أما ابن عَمِّي فهَتَكَ عِرْضِي، وأما ابن عمّتي وصِهْري فهو الذي قال لي بمكة ما قالَ"؛ فلما خرج الخبرُ إليهما بذلك، ومع أبي سفيان بن الحارث ابنٌ له فقال: والله لَيأْذَنَنَّ رسولُ ﷺ أو لأخُذَنّ بيَدِ ابني هذا، ثم لَنَذْهَبنّ في الأرض حتى نموتَ عَطَشًا أو جُوعًا، فلما بلغ ذلك رسول الله ﷺ رقَّ لهما، فدخَلا عليه. فأنشدَه أبو سفيان قولَه في إسلامِه واعتذارِه ممّا كان مَضى منه، فقال: لَعَمرُكَ إني يومَ أحملُ رايةً … لتَغلِبَ خَيلُ اللَّاتِ خَيلَ محمدِ لَكالمُدْلِجِ الحَيرانِ أظْلَمَ لَيلُهُ … فهذا أَوانُ الحقِّ أُهدَى وأَهتَدِي فقُل لثَقِيفٍ: لا أريدُ قِتالَكم … وقُل لثَقِيفٍ: تلك عندي فأوعِدِ هدانيَ هادٍ غيرُ نفسِي ودَلَّني … إلى الله مَن طَرَّدتُ كلَّ مُطَرَّدِ أَفِرُّ سريعًا جاهدًا عن محمدٍ … وأُدعى ولو لم أَنتَسِبْ لمحمّدِ همُ عُصبةٌ مَن لم يَقُلْ بِهَواهُمُ … وإن كان ذا رأي يُلَمْ ويُفنَّدِ أريدُ لِأُرضِيهِمْ ولستُ بِلائطٍ (1) … معَ القومِ ما لم أُهدَ في كلِّ مَقعَدِ فما كنتُ في الجيش الذي نالَ عامرًا … ولا كَلَّ عن خَيرٍ لِساني ولا يَدي قَبائلُ جاءتْ من بلادٍ بعيدةٍ … تَوابِعُ جاءت من سِهامٍ وسُرْدَدِ (2) وإنَّ الذي أخرجتُمُ وشَتمتُمُ … سيَسْعى لكُم سَعْيَ امرئٍ غيرِ قُعْدُدِ قال (3) : فلما أَنشَدَ رسولَ الله ﷺ: إلى الله مَن طَرّدتُ كلَّ مُطرَّدِ، ضربَ رسولُ الله ﷺ في صَدْرِه، فقال:"أنت طَرَّدتني كلَّ مُطرَّدٍ". قال ابن إسحاق: ماتت أم رسول الله ﷺ بالأبْواء، وهي تَزُور أخوالَها من بني النَّجّار (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه. وأبو سفيان بن الحارث أخو رسول الله ﷺ من الرَّضاعة أرضَعَتْهما حليمةُ، وابنُ عمِّه، ثم عامَلَ النبيَّ ﷺ بمعامَلاتٍ قَبيحةٍ وهَجَاه غيرَ مرةٍ، حتى أجابه حسّان بن ثابت بقصيدته التي يقول فيها: هَجَوتَ محمدًا وأجَبتُ عنهُ … وعندَ اللهِ في ذاكَ الجزاءُ الحديث والقصيدة بطولهما مخرّج في الصحيح لمسلم رحمه الله تعالى (1) ، وقد كان حسانُ بن ثابت يستأذنُ رسول الله ﷺ أَن يَهجُوَه، فلا يأذنُ له (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4359 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ والے سال روانہ ہوئے اور دس ہزار مسلمانوں کی ہمراہی میں مرالظہران سے گزرے (قبیلہ بنو) سلیم اور مزینہ قبیلے کے بہت سے افراد اس میں شامل تھے۔ اور ہر قبیلے میں مسلمانوں کی ایک (اچھی خاصی) تعداد تھی۔ اس وقت تمام مہاجرین اور انصار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قافلے کے ہمراہ تھے اور ان میں سے کوئی ایک بھی پیچھے نہیں رہا تھا۔ قریش کو کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا۔ نہ ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی خبر پہنچ رہی تھی اور نہ ان کو یہ سمجھ آ رہی تھی کہ آپ ان کے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔ اور ابوسفیان اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ثنیۃ العقاب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور آپ کی خدمت میں حاضری کی خواہش ظاہر کی۔ ان کی درخواست سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے آپ تک پہنچاتے ہوئے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (ان میں ایک) آپ کا چچا زاد اور دوسرا آپ کی پھوپھی کا بیٹا اور خسر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ان دونوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ میرے چچا نے میری عزت اچھالی تھی اور میری پھوپھی کا بیٹا اور خسر یہ وہی ہے جس نے مکہ میں مجھے بہت برا بھلا کہا تھا۔ ابوسفیان بن حارث کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا۔ جب اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان تاثرات کا پتہ چلا تو بولا: خدا کی قسم! یا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دے دیں گے ورنہ میں اپنے اس بچے کو اپنے ساتھ لے کر کہیں دور نکل جاؤں گا، جہاں بھوک اور پیاس کے ساتھ ہم مر جائیں گے۔ جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے ان کے لئے نرمی اختیار فرمائی، پھر یہ دونوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ تو ابوسفیان نے اپنی گزشتہ خطاؤں کی معذرت کرتے ہوئے اسلام کے حق میں درج ذیل اشعار پڑھے۔ خدا کی قسم! وہ دن بھی تھے جب میں لات کے لشکر کو محمد کے لشکر پر غالب کرنے کے لئے علم بلند کیا کرتا تھا۔ میں اس حیران آدمی کی طرح تھا جو اندھیرے میں پھنسا ہوا ہو، لیکن یہ حق (کو تسلیم کر لینے) کا وقت ہے۔ اللہ نے مجھے ہدایت دی ہے اور میں سیدھے راستہ پر آ گیا ہوں۔ پس تم قبیلہ ثقیف کو کہہ دو کہ میں تم سے لڑنا نہیں چاہتا، اور ثقیف سے کہہ دو کہ وہ میرے پاس ہیں، تو وہ وعدہ کریں۔ ایک ہدایت دینے والے نے مجھے سیدھا راستہ دکھایا، اور میری ذات کو بدل کر رکھ دیا اور اس نے اللہ کی طرف میری راہنمائی کی جس کو میں بالکل دھتکار چکا تھا۔ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت دور بھاگتا تھا، اور لوگ مجھے محمد سے منسوب کرتے تھے اگرچہ میں ان سے منسوب ہونا نہیں چاہتا تھا۔ وہ ایسی جماعت تھی (جس میں، میں پہلے شامل تھا) کہ جو ان کی خواہش کے مطابق ان کی حمایت میں نہ بولتا اس کو ملامت کی جاتی اور اسے خطاوار ٹھہرایا جاتا اگرچہ وہ عقل مند ہی کیوں نہ ہوتا۔ میں ان کو راضی کرنا چاہتا تھا اور میں کسی قوم کے ساتھ اس وقت تک گفتگو نہیں کیا کرتا تھا جب تک وہ مجھے ہر مجلس کا ہدیہ پیش نہ کر دیتے تھے۔ میں جس لشکر میں بھی رہا تو انہوں نے جو کچھ مال پایا اور جو کھایا سب میرے ہاتھ اور میری زبان کی کمائی تھی۔ اور بے شک جس شخص کو تم نے نکالا اور برا بھلا کہا، عنقریب وہ تمام رشتہ داریوں سے بالاتر ہو کر تمہارے لئے جدوجہد کرے گا۔ (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما) فرماتے ہیں: جب اس نے کہا: الی من طردت کل مطرد تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا: انت الذی طردتنی کل مطرد (تو ہی ہے جس نے مجھے بالکل دھتکار دیا تھا) ابن اسحاق کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ اپنے ماموؤں سے ملنے بنی نجار گئی تھیں تو وہیں مقام ابواء میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رضاعی بھائی تھا دونوں کو حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا نے دودھ پلایا تھا۔ اور وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا زاد بھائی بھی تھا۔ لیکن اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ناروا سلوک کیا اور کئی مرتبہ آپ کی شان میں ہرزہ سرائی کی۔ حتی کہ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اپنے قصیدے میں اس کا جواب دیا۔ اس میں آپ فرماتے ہیں: تو نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیب جوئی کی ہے اور میں نے اس کا جواب دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کا بدلہ ملے گا۔ یہ مکمل حدیث اور پورا قصیدہ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں موجود ہے۔ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اس (ابوسفیان) کی مذمت بیان کرنے کی اجازت مانگا کرتے تھے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منع فرما دیا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4407]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں