🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. إنشاد أبى سفيان فى إسلامه واعتذاره مما مضى
حضرت ابو سفیان کا اسلام لانے کے بعد اپنا کلام پیش کرنا اور سابقہ اعمال پر معذرت کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4407
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، قال: حدّثني الزُّهري، عن عُبيد الله بن عبد الله بن عُتبة، عن ابن عبّاس، قال: مضى رسولُ الله ﷺ وأصحابه عامَ الفتح حتى نَزَلَ مَرَّ الظَّهْران في عشرة آلاف من المسلمين، فَسَبَّعتْ سُليمٌ وألَّفتْ مُزَينةُ، وفي كلِّ القبائل عددٌ وإسلامٌ، وأوعَبَ مع رسول الله ﷺ المهاجِرُون والأنصارُ، فلم يَتَخَلّف عنه منهم أحدٌ، وقد عُمِّيتَ الأخبارُ على قُريش، فلا يأتيهم خَبرُ رسولِ اللهِ ﷺ، ولا يَدْرُون ما هو صانعٌ. وكان أبو سفيان بن الحارث وعبدُ الله بن أبى أُميّة بن المغُيرة قد لَقِيا رسولَ الله ﷺ بثَنِيّةِ (1) العُقاب فيما بين مكة والمدينة، فالْتَمَسا الدخولَ عليه، فكلّمَتْه أمُّ سلمة، فقالت: يا رسول الله، ابن عَمِّك وابن عَمَّتِك وصِهْرُك، فقال:"لا حاجةُ لي فيهم، أما ابن عَمِّي فهَتَكَ عِرْضِي، وأما ابن عمّتي وصِهْري فهو الذي قال لي بمكة ما قالَ"؛ فلما خرج الخبرُ إليهما بذلك، ومع أبي سفيان بن الحارث ابنٌ له فقال: والله لَيأْذَنَنَّ رسولُ ﷺ أو لأخُذَنّ بيَدِ ابني هذا، ثم لَنَذْهَبنّ في الأرض حتى نموتَ عَطَشًا أو جُوعًا، فلما بلغ ذلك رسول الله ﷺ رقَّ لهما، فدخَلا عليه. فأنشدَه أبو سفيان قولَه في إسلامِه واعتذارِه ممّا كان مَضى منه، فقال: لَعَمرُكَ إني يومَ أحملُ رايةً … لتَغلِبَ خَيلُ اللَّاتِ خَيلَ محمدِ لَكالمُدْلِجِ الحَيرانِ أظْلَمَ لَيلُهُ … فهذا أَوانُ الحقِّ أُهدَى وأَهتَدِي فقُل لثَقِيفٍ: لا أريدُ قِتالَكم … وقُل لثَقِيفٍ: تلك عندي فأوعِدِ هدانيَ هادٍ غيرُ نفسِي ودَلَّني … إلى الله مَن طَرَّدتُ كلَّ مُطَرَّدِ أَفِرُّ سريعًا جاهدًا عن محمدٍ … وأُدعى ولو لم أَنتَسِبْ لمحمّدِ همُ عُصبةٌ مَن لم يَقُلْ بِهَواهُمُ … وإن كان ذا رأي يُلَمْ ويُفنَّدِ أريدُ لِأُرضِيهِمْ ولستُ بِلائطٍ (1) … معَ القومِ ما لم أُهدَ في كلِّ مَقعَدِ فما كنتُ في الجيش الذي نالَ عامرًا … ولا كَلَّ عن خَيرٍ لِساني ولا يَدي قَبائلُ جاءتْ من بلادٍ بعيدةٍ … تَوابِعُ جاءت من سِهامٍ وسُرْدَدِ (2) وإنَّ الذي أخرجتُمُ وشَتمتُمُ … سيَسْعى لكُم سَعْيَ امرئٍ غيرِ قُعْدُدِ قال (3) : فلما أَنشَدَ رسولَ الله ﷺ: إلى الله مَن طَرّدتُ كلَّ مُطرَّدِ، ضربَ رسولُ الله ﷺ في صَدْرِه، فقال:"أنت طَرَّدتني كلَّ مُطرَّدٍ". قال ابن إسحاق: ماتت أم رسول الله ﷺ بالأبْواء، وهي تَزُور أخوالَها من بني النَّجّار (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه. وأبو سفيان بن الحارث أخو رسول الله ﷺ من الرَّضاعة أرضَعَتْهما حليمةُ، وابنُ عمِّه، ثم عامَلَ النبيَّ ﷺ بمعامَلاتٍ قَبيحةٍ وهَجَاه غيرَ مرةٍ، حتى أجابه حسّان بن ثابت بقصيدته التي يقول فيها: هَجَوتَ محمدًا وأجَبتُ عنهُ … وعندَ اللهِ في ذاكَ الجزاءُ الحديث والقصيدة بطولهما مخرّج في الصحيح لمسلم رحمه الله تعالى (1) ، وقد كان حسانُ بن ثابت يستأذنُ رسول الله ﷺ أَن يَهجُوَه، فلا يأذنُ له (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4359 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ والے سال روانہ ہوئے اور دس ہزار مسلمانوں کی ہمراہی میں مرالظہران سے گزرے (قبیلہ بنو) سلیم اور مزینہ قبیلے کے بہت سے افراد اس میں شامل تھے۔ اور ہر قبیلے میں مسلمانوں کی ایک (اچھی خاصی) تعداد تھی۔ اس وقت تمام مہاجرین اور انصار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قافلے کے ہمراہ تھے اور ان میں سے کوئی ایک بھی پیچھے نہیں رہا تھا۔ قریش کو کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا۔ نہ ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی خبر پہنچ رہی تھی اور نہ ان کو یہ سمجھ آ رہی تھی کہ آپ ان کے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔ اور ابوسفیان اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ثنیۃ العقاب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور آپ کی خدمت میں حاضری کی خواہش ظاہر کی۔ ان کی درخواست سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے آپ تک پہنچاتے ہوئے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (ان میں ایک) آپ کا چچا زاد اور دوسرا آپ کی پھوپھی کا بیٹا اور خسر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ان دونوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ میرے چچا نے میری عزت اچھالی تھی اور میری پھوپھی کا بیٹا اور خسر یہ وہی ہے جس نے مکہ میں مجھے بہت برا بھلا کہا تھا۔ ابوسفیان بن حارث کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا۔ جب اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان تاثرات کا پتہ چلا تو بولا: خدا کی قسم! یا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دے دیں گے ورنہ میں اپنے اس بچے کو اپنے ساتھ لے کر کہیں دور نکل جاؤں گا، جہاں بھوک اور پیاس کے ساتھ ہم مر جائیں گے۔ جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے ان کے لئے نرمی اختیار فرمائی، پھر یہ دونوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ تو ابوسفیان نے اپنی گزشتہ خطاؤں کی معذرت کرتے ہوئے اسلام کے حق میں درج ذیل اشعار پڑھے۔ خدا کی قسم! وہ دن بھی تھے جب میں لات کے لشکر کو محمد کے لشکر پر غالب کرنے کے لئے علم بلند کیا کرتا تھا۔ میں اس حیران آدمی کی طرح تھا جو اندھیرے میں پھنسا ہوا ہو، لیکن یہ حق (کو تسلیم کر لینے) کا وقت ہے۔ اللہ نے مجھے ہدایت دی ہے اور میں سیدھے راستہ پر آ گیا ہوں۔ پس تم قبیلہ ثقیف کو کہہ دو کہ میں تم سے لڑنا نہیں چاہتا، اور ثقیف سے کہہ دو کہ وہ میرے پاس ہیں، تو وہ وعدہ کریں۔ ایک ہدایت دینے والے نے مجھے سیدھا راستہ دکھایا، اور میری ذات کو بدل کر رکھ دیا اور اس نے اللہ کی طرف میری راہنمائی کی جس کو میں بالکل دھتکار چکا تھا۔ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت دور بھاگتا تھا، اور لوگ مجھے محمد سے منسوب کرتے تھے اگرچہ میں ان سے منسوب ہونا نہیں چاہتا تھا۔ وہ ایسی جماعت تھی (جس میں، میں پہلے شامل تھا) کہ جو ان کی خواہش کے مطابق ان کی حمایت میں نہ بولتا اس کو ملامت کی جاتی اور اسے خطاوار ٹھہرایا جاتا اگرچہ وہ عقل مند ہی کیوں نہ ہوتا۔ میں ان کو راضی کرنا چاہتا تھا اور میں کسی قوم کے ساتھ اس وقت تک گفتگو نہیں کیا کرتا تھا جب تک وہ مجھے ہر مجلس کا ہدیہ پیش نہ کر دیتے تھے۔ میں جس لشکر میں بھی رہا تو انہوں نے جو کچھ مال پایا اور جو کھایا سب میرے ہاتھ اور میری زبان کی کمائی تھی۔ اور بے شک جس شخص کو تم نے نکالا اور برا بھلا کہا، عنقریب وہ تمام رشتہ داریوں سے بالاتر ہو کر تمہارے لئے جدوجہد کرے گا۔ (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما) فرماتے ہیں: جب اس نے کہا: الی من طردت کل مطرد تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا: انت الذی طردتنی کل مطرد (تو ہی ہے جس نے مجھے بالکل دھتکار دیا تھا) ابن اسحاق کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ اپنے ماموؤں سے ملنے بنی نجار گئی تھیں تو وہیں مقام ابواء میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رضاعی بھائی تھا دونوں کو حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا نے دودھ پلایا تھا۔ اور وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا زاد بھائی بھی تھا۔ لیکن اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ناروا سلوک کیا اور کئی مرتبہ آپ کی شان میں ہرزہ سرائی کی۔ حتی کہ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اپنے قصیدے میں اس کا جواب دیا۔ اس میں آپ فرماتے ہیں: تو نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیب جوئی کی ہے اور میں نے اس کا جواب دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کا بدلہ ملے گا۔ یہ مکمل حدیث اور پورا قصیدہ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں موجود ہے۔ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اس (ابوسفیان) کی مذمت بیان کرنے کی اجازت مانگا کرتے تھے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منع فرما دیا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4407]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4407 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) كذا جاء في رواية يونس بن بُكير هنا وفي أسد الغابة" 3/ 73 كما نبَّه على ذلك مُحقِّقه، وفي رواية غيره عن ابن إسحاق: بنيق العقاب، وهو الصحيح كما بينه محقق "أسد الغابة".
🔍 فنی نکتہ / تحقیقِ متن: یونس بن بکیر کی روایت میں یہاں اور "اسد الغابہ" (3/ 73) میں اسی طرح آیا ہے، جبکہ دوسروں کی روایت میں ابن اسحاق سے "بنیق العقاب" (مقام کا نام) آیا ہے، اور یہی صحیح ہے جیسا کہ "اسد الغابہ" کے محقق نے بیان کیا ہے۔
(1) تحرَّف في (ص) و (ع) إلى: بلافظ. واللائط: المُلصَق.
🔍 فنی نکتہ / لغوی تحقیق: نسخہ (ص) اور (ع) میں یہ لفظ تحریف ہو کر "بلافظ" بن گیا ہے۔ درست لفظ "اللائط" ہے، جس کا معنی ہے: ملا ہوا / چپکا ہوا۔
(2) تحرَّف في (ز) و (م) و (ب) إلى: سودد، بالواو، والمثبت على الصواب من (ص) و (ع)، وداله الأولى تُضم وتُفتح كما في "معجم البلدان"، وقال السُّهيلي في "الروض الأُنف" 4/ 98: سهام وسُرْدَد موضعان من أرض عَكّ. يعني في اليمن.
🔍 فنی نکتہ / تحقیقِ متن: نسخہ (ز)، (م) اور (ب) میں یہ لفظ تحریف ہو کر "سودد" (واؤ کے ساتھ) بن گیا ہے۔ ہم نے نسخہ (ص) اور (ع) سے درست لفظ ثابت کیا ہے۔ "معجم البلدان" کے مطابق اس کی پہلی دال پر پیش اور زبر دونوں پڑھے جاتے ہیں (سُردُد یا سُردَد)۔ سہیلی "الروض الانف" (4/ 98) میں کہتے ہیں: "سہام" اور "سُردَد" سرزمینِ "عک" (یمن) میں دو مقامات کے نام ہیں۔
(3) القائل هو ابن إسحاق كما تشير إليه رواية البيهقيّ في "دلائل النبوة" 5/ 28 عن أبي عبد الله الحاكم، وتوضحه الروايات الأخرى عن ابن إسحاق التي صدّرها ابن إسحاق بقوله: فزعموا أنه حين أنْشَدَ رسولَ الله … أو فذكروا أنه حين …
🔍 فنی نکتہ / قائل کی تعیین: یہ کہنے والے (قائل) "ابن اسحاق" ہیں، جیسا کہ بیہقی کی "دلائل النبوۃ" (5/ 28) میں حاکم کی روایت اشارہ کرتی ہے، اور ابن اسحاق کی دیگر روایات اس کی وضاحت کرتی ہیں جہاں انہوں نے بات شروع کرتے ہوئے کہا: "فزعموا..." (لوگوں کا گمان ہے) یا "فذکروا..." (انہوں نے ذکر کیا)۔
(1) إسناده حسن من أجل ابن إسحاق: وهو محمد بن إسحاق بن يسار. وقد صحَّحه الحافظُ ابن حجر في "المطالب العالية" (4301).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے، ابن اسحاق (محمد بن اسحاق بن یسار) کی وجہ سے۔ اور حافظ ابن حجر نے "المطالب العالیہ" (4301) میں اسے صحیح کہا ہے۔
وأخرجه البيهقيّ في دلائل النبوة 5/ 27 عن أبي عبد الله الحاكم وأبي بكر الحيري، كلاهما عن أبي العباس محمد بن يعقوب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "دلائل النبوۃ" (5/ 27) میں ابو عبداللہ الحاکم اور ابوبکر الحیری سے، ان دونوں نے ابو العباس محمد بن یعقوب سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن الأثير في أسد الغابة 3/ 73 و 5/ 145 من طريق رضوان بن أحمد الصيدلاني، عن أحمد بن عبد الجبار، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن الاثیر نے "اسد الغابہ" (3/ 73، 5/ 145) میں رضوان بن احمد الصیدلانی عن احمد بن عبدالجبار کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن هشام في "السيرة النبوية" 2/ 400 عن زياد بن عبد الله البَكّائي، والطبراني في "المعجم الكبير" 8/ (7264) من طريق محمد بن سلمة الحَرَّاني، كلاهما عن محمد بن إسحاق، به، مع زيادات ليست في رواية المصنف.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ہشام نے "السیرۃ النبویۃ" (2/ 400) میں زیاد بن عبداللہ البکائی سے، اور طبرانی نے "المعجم الکبیر" (8/ 7264) میں محمد بن سلمہ الحرانی کے طریق سے؛ یہ دونوں محمد بن اسحاق سے روایت کرتے ہیں، اور اس میں وہ زیادتیاں ہیں جو مصنف کی روایت میں نہیں ہیں۔
وأخرجه أحمد 4/ (2394)، وأبو نُعيم في معرفة الصحابة" (6231) من طريق إبراهيم بن سعد الزُّهْري، عن محمد بن إسحاق به. أما أحمد فاقتصر في روايته على ذكر نزوله ﷺ بمرِّ الظهران ومعه عشرة آلاف من المسلمين، وأما أبو نعيم فاقتصر على ذكر قصة أبي سفيان بن الحارث وعبد الله بن أبي أمية، وذكر لأبي سفيان في اعتذاره أبياتًا غير الأبيات المذكورة هنا. وعندهما زيادات ليست في رواية المصنف هنا أيضًا.
📖 حوالہ / مصدر: احمد (4/ 2394) اور ابو نعیم "معرفۃ الصحابہ" (6231) نے ابراہیم بن سعد الزہری عن محمد بن اسحاق کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: احمد نے صرف "مر الظہران" میں نزول اور دس ہزار لشکر کے ذکر پر اکتفا کیا، جبکہ ابو نعیم نے صرف ابو سفیان بن الحارث اور عبداللہ بن ابی امیہ کے قصے پر اکتفا کیا، اور ابو سفیان کے عذر میں یہاں مذکور اشعار کے علاوہ اشعار ذکر کیے۔ ان دونوں کے پاس بھی وہ زیادتیاں ہیں جو مصنف کے ہاں نہیں ہیں۔
وأخرجه الطبري 3/ 49 - 50 من طريق سلمة بن الفضل الأبرش، ومحمد بن يحيى الذُّهلي في "الزُّهْريات" كما في "إتحاف الخيرة" للبوصيري (4603)، والطحاوي في "شرح معاني الآثار" 3/ 319، والضياء المقدسي في "الأحاديث المختارة" 11/ (145) من طريق عبد الله بن إدريس، وإسحاق بن راهويه في "مسنده" كما في "إتحاف الخيرة" (4603) من طريق جَرير بن حازم، ثلاثتهم عن محمد بن إسحاق، به دون قصة إسلام أبي سفيان بن الحارث وابن أبي أمية وشِعر أبي سفيان في اعتذاره. ولهم زيادات أيضًا في قصة الفتح ليست في رواية المصنف هنا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری (3/ 49-50) نے سلمہ بن فضل کے طریق سے؛ محمد بن یحییٰ الذہلی نے "الزہریات" میں (اتحاف الخیرۃ 4603)، طحاوی نے "شرح معانی الآثار" (3/ 319) اور ضیاء المقدسی نے "المختارۃ" (11/ 145) میں عبداللہ بن ادریس کے طریق سے؛ اور اسحاق بن راہویہ نے "مسند" میں جریر بن حازم کے طریق سے؛ یہ تینوں محمد بن اسحاق سے روایت کرتے ہیں۔ 🧾 تفصیلِ روایت: ان روایات میں ابو سفیان بن الحارث اور ابن ابی امیہ کے اسلام لانے اور ابو سفیان کے اعتذاریہ اشعار کا قصہ نہیں ہے، البتہ ان میں فتح کے قصے میں دیگر زیادتیاں موجود ہیں۔
وأخرجه مختصرًا أحمد 5/ (3089)، والبخاري (4276) من طريق معمر بن راشد، عن الزُّهْري، به. بذكر خروجه ﷺ من المدينة في رمضان للفتح ومعه عشرة آلاف على رأس ثمان سنين ونصف من مَقدمِه المدينة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (5/ 3089) اور بخاری (4276) نے معمر بن راشد عن الزہری کے طریق سے "مختصراً" روایت کیا ہے، جس میں رمضان میں مدینہ سے دس ہزار کے لشکر کے ساتھ نکلنے کا ذکر ہے، اور یہ مدینہ آمد کے ساڑھے آٹھ سال بعد کا واقعہ ہے۔
وأخرج الطبري في "تاريخه" 3/ 50 قصة إسلام أبي سفيان وابن أبي أمية، من طريق سلمة بن الفضل، عن محمد بن إسحاق، عن العباس بن عبد الله بن معبد بن العباس بن عبد المطلب، عن ابن عباس. ويغلب على الظن أنه سقط من هذا الإسناد الواسطة بين ابن عباس والراوي عنه، فقد أخرج أبو داود (3022) بعض قصة الفتح عن محمد بن عمرو الرازي، عن سلمة بن الفضل، عن ابن إسحاق، عن العباس بن عبد الله، عن بعض أهله، عن ابن عبّاس. وقد اجتمع عند ابن إسحاق لهذه القصة إسنادان كل منهما ينتهي إلى ابن عبّاس.
📖 حوالہ / مصدر: طبری نے "تاریخ" (3/ 50) میں ابو سفیان اور ابن ابی امیہ کے اسلام کا قصہ سلمہ بن فضل عن ابن اسحاق عن العباس بن عبداللہ... عن ابن عباس کے طریق سے نکالا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / انقطاع: غالب گمان ہے کہ اس سند میں ابن عباس اور ان سے روایت کرنے والے کے درمیان "واسطہ" گر گیا ہے، کیونکہ ابو داؤد (3022) نے فتح کا کچھ قصہ اسی سند (ابن اسحاق عن العباس بن عبداللہ) سے روایت کیا ہے مگر وہاں "عن بعض اہلہ" (اپنے گھر کے کسی فرد سے) کا واسطہ موجود ہے، پھر ابن عباس سے۔ اس قصے کے لیے ابن اسحاق کے پاس دو اسانید جمع ہو گئی ہیں جو ابن عباس تک پہنچتی ہیں۔
ومَرُّ الظَّهْران: وادٍ من أودية الحجاز، يأخذ مياه النخلتين فيمر شمال مكة على بعد 22 كم، ويصب في البحر جنوب جدة بقرابة 20 كم.
📝 نوٹ / توضیح: "مر الظہران": حجاز کی وادیوں میں سے ایک وادی ہے، یہ "نخلتین" کا پانی لیتی ہے اور مکہ کے شمال میں 22 کلومیٹر کے فاصلے سے گزرتی ہے، اور جدہ کے جنوب میں تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر سمندر میں گرتی ہے۔
وسبَّعت سُليم وألَّفت مُزينة: كَمَلَت سُليم سبع مئة رجل وكَمَلَت مُزينة ألف رجل.
📝 نوٹ / توضیح: "سبَّعت سلیم": یعنی قبیلہ بنو سلیم کے سات سو (700) آدمی پورے ہو گئے۔ "وألَّفت مزینۃ": یعنی قبیلہ بنو مزینہ کے ایک ہزار (1000) آدمی پورے ہو گئے۔
وعُمِّيت الأخبارُ: أُخفيت.
📝 نوٹ / توضیح: "عُمِّیت الاخبار": خبریں چھپا دی گئیں۔
وهتك عرضي: يعني أنه هجا رسولَ الله ﷺ.
📝 نوٹ / توضیح: "ھتک عرضی": یعنی اس نے رسول اللہ ﷺ کی ہجو (شان میں گستاخی) کی۔
والمُدلِجُ: الذي يسير بالليل.
📝 نوٹ / توضیح: "المُدلِج": وہ شخص جو رات کے وقت سفر کرے۔
ويُفنَّد: يُلام ويكذّب.
📝 نوٹ / توضیح: "یُفنَّد": اسے ملامت کی جاتی ہے اور جھٹلایا جاتا ہے۔
وأوعِد، أي: هَدِّد.
📝 نوٹ / توضیح: "أوعِد": اسے دھمکی دی گئی۔
والقُعْدد، بضم الدال الأولى وفتحها: اللئيم في حَسَبه، القاعد عن الحرب والمكارم.
📝 نوٹ / توضیح: "القُعدَد": (پہلی دال کے پیش یا زبر کے ساتھ) وہ شخص جو حسب میں کمینہ ہو، اور جنگ و اچھے کاموں سے پیچھے بیٹھ رہے۔
وطَرَّدتُ كلَّ مُطَرَّد: أي: أبْعَدتُه وبالغتُ في إبعاده وطرده.
📝 نوٹ / توضیح: "طَرَّدتُ کل مُطَرَّد": یعنی میں نے اسے دور کر دیا اور اسے دھتکارنے میں مبالغہ کیا۔
(1) هو عند مسلم برقم (2490) من حديث عائشة أم المؤمنين ﵂.
📖 حوالہ / مصدر: یہ حدیث مسلم (2490) میں ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے۔
(2) أخرجه مسلم أيضًا (2489) من حديث عائشة كذلك.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بھی مسلم (2489) نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے۔