🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

33. ذِكْرُ الْأَنْفَالِ وَالْغَنَائِمِ
مالِ غنیمت اور انفال کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4418
حدَّثنا دَعْلَج بن أحمد السِّجْزِي، حدَّثنا عبد العزيز بن معاوية، حدَّثنا محمد بن جَهْضَم، حدَّثنا إسماعيل بن جعفر، حدّثني عبد الرحمن بن الحارث، عن سُليمان بن موسى الأشْدَق، عن مكحُول، عن أبي سَلّام، عن أبي أمامة الباهلي صاحبِ رسول الله ﷺ، عن عُبادة بن الصامِت قال: أخذَ رسولُ الله ﷺ يومَ حُنين وَبَرَة من جَنْبِ بَعير، ثم قال:"يا أيُّها الناسُ، إنه لا يَحِلُّ لي مما أفاءَ اللهُ عليكم قَدرُ هذه إِلَّا الخُمسَ، والخُمْسُ مَردُودٌ عليكم، فأدُّوا الخَيطُ والمِخْيَطَ، وإياكُم والغُلولَ، فإنه عارٌ على أهلِه يومَ القيامة، وعليكُم بالجهاد في سبيل الله فإنه بابٌ من أبواب الجنة، يُذهِبُ اللهُ به الهَمَّ والغَمَّ". قال: وكان رسولُ الله ﷺ يكرهُ الأنفالَ، ويقول:"لِيرُدَّ قويُّ المؤمنين على ضَعِيفهم" (1)
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے دن ایک اونٹ کے پہلو سے ایک بال پکڑا، پھر فرمایا: اے لوگو! اللہ نے جو مالِ غنیمت تمہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے اس بال کے برابر بھی میرے لیے حلال نہیں ہے سوائے پانچویں حصے (خمس) کے، اور وہ پانچواں حصہ بھی (مصارفِ خمس کے بعد) تمہیں ہی لوٹا دیا جاتا ہے، لہٰذا تم دھاگا اور سوئی تک (مالِ غنیمت کا) ادا کر دیا کرو، اور خیانت سے بچو کیونکہ یہ قیامت کے دن خیانت کرنے والے کے لیے باعثِ ننگ و عار ہوگی، اور اللہ کی راہ میں جہاد کو لازم پکڑو کیونکہ یہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ فکر اور غم کو دور فرما دیتا ہے۔ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زائد اموال (نفلی غنیمت) کو ناپسند فرماتے تھے اور فرماتے تھے: تاکہ مؤمنین میں سے قوی لوگ اپنے کمزوروں پر وہ مال لوٹا دیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4418]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون ذكر كراهة النبي ﷺ الأنفال، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل عبد الرحمن بن الحارث. وهو ابن عبد الله بن عيّاش المخزومي - وقد اختُلف في إسناد هذا الخبر عن أبي سلام وهو ممطور الحبشي - فبعضهم يرويه عنه عن أبي أمامة عن عبادة كما ...» [ترقيم الرساله 4418] [ترقيم الشركة 4395]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره دون ذكر كراهة النبي ﷺ الأنفال
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں