🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

32. ذِكْرُ غَزْوَةِ حُنَيْنٍ وَاجْتِمَاعِ الْأَنْصَارِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
غزوۂ حنین کا ذکر اور انصار کا رسول اللہ ﷺ کے گرد جمع ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4415
حدَّثنا أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، حدَّثنا الحسن بن مُكْرَم، حدَّثنا عثمان بن عمر، حدَّثنا عبد الله بن عامر الأَسلَمي، عن محمد بن المُنكَدِر، عن جابر، قال: نَدَبَ رسولُ الله ﷺ يوم حُنين الأنصارَ، فقال:"يا معشرَ الأنصار" فأجابُوه: لبَّيك بأبينا أنت وأُمّنا يا رسول الله، قال:"أقبِلُوا بوجُوهِكم إلى الله وإلى رسوله يُدخلْكم جناتٍ تجري من تحتِها الأنهارُ" فأقبَلُوا ولهم حَنِينٌ حتى أحدَقُوا به كَبْكبةً تَحَاكُّ مَناكِبُهم، يُقاتِلون حتى هزمَ اللهُ المشركين (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهده حديث المباركَ بن فَضَالة الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4367 - صحيح
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنگ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو پکارا تو سب نے جواباً کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں، ہم حاضر ہیں۔ آپ نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کی طرف متوجہ ہو جاؤ، وہ تمہیں ایسے باغات میں داخل کرے گا جس کے نیچے نہریں جاری ہیں تو وہ سب لوگ آوازیں لگاتے ہوئے بھاگ آئے اور ان کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا، ان کو پچھاڑا گیا، ان کی گردنیں کٹتی رہیں، لیکن وہ جہاد کرتے رہے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست دی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ مبارک بن فضالہ سے مروی درج ذیل حدیث، مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4415]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4416
حدثناه أبو بكر أحمد بن إسحاق، حدَّثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدَّثنا سليمان بن حَرْب، حدَّثنا مُبارك بن فَضَالة، حدَّثنا الحسن، عن أنس بن مالك، قال: الْتَقى يومَ حُنين أهلُ مكة وأهلُ المدينة، واشتدَّ القتالُ، فولَّوا مُدبِرين، فندَبَ رسول الله ﷺ الأنصارَ، فقال:"يا معشرَ المسلمين، أنا رسولُ الله" فقالوا: إليك والله جئنا، فنكَّسُوا رُؤوسهم، ثم قاتَلوا حتى فتحَ الله عليهم (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4368 - صحيح
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنگ حنین کے دن مکہ اور مدینہ والوں کی مشرکین سے مڈبھیڑ ہوئی، بہت گھمسان کی لڑائی ہوئی، تو مسلمان بھاگ نکلے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو آواز دے کر کہا: اے مسلمانوں! میں اللہ کا رسول ہوں، مسلمانوں نے کہا: خدا کی قسم! ہم آپ کی طرف آ گئے، چنانچہ انہوں نے تعمیل ارشاد کی اور پھر (جم کر) لڑے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے (اپنے نبی کے صدقے) فتح عطا فرما دی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4416]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4417
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: حدّثني عاصم بن عُمر بن قَتَادة، عن عبد الرحمن بن جابر، عن أبيه جابر بن عبد الله: أنَّ رسول الله ﷺ سارَ إلى حُنين لما فرَغ من فتح مكة، جمعَ مالك بن عوف النَّصْري من بني نَصْرٍ وجُشَم، ومن سعْد بن بكر وأوزاعًا من بني هِلال، وناسًا من بني عمرو بن عاصم بن عوف بن عامر، وأوعبَتْ (2) معَهم ثقيفٌ الأحلافُ، وبنو مالك، ثم سار بهم إلى رسول الله ﷺ وسار مع الأموال والنساءِ والأبناءِ، فلما سمع بهم رسولُ الله ﷺ بعث عبد الرحمن بن أبي حَدْرَد الأسلَمي، فقال:"اذهب فادخُل بالقومِ حتى تعلَمَ لنا من عِلْمِهِم"، فدخل، فمَكَثَ فيهم يومًا أو يومَين، [ثم أقبلَ فأخبرَه الخبرَ] (3) ثم قال رسولُ الله ﷺ لعمر بن الخطّاب:"ألا تسمع ما يقول ابن أبي حَدْرَدٍ؟ فقال عمرُ: كذبَ ابن أَبي حَدْرَد، فقال ابن أبي حَدْرد: إن كذَّبتني فربما كذَّبْتَ من هو خيرٌ مني، فقال عمرُ: يا رسول الله، ألا تسمعُ ما يقولُ ابن أبي حَدْرد؟ فقال رسولُ الله ﷺ:"قد كنتَ يا عمرُ ضالًّا فهَداك اللهُ ﷿" (1) ، ثم بعث رسول الله ﷺ إلى صفوان ابن أُمية، فسأله أدراعًا مئةَ دِرْعٍ وما يُصلِحُها مِن عُدّتِها، فقال: أغصْبًا يا محمدُ؟ قال: بل عارِيَّةً مضمونةً، حتى نُؤدِّيَها لك"، ثم خرجَ رسولُ الله ﷺ سائرًا (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4369 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کی طرف پیش قدمی فرمائی (اس کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ) بنو نصر میں سے مالک بن عوف نصری اور سعد بن بکر میں سے جشم اور بنی ہلال میں سے اوزاع اور بنو عمرو بن عاصم بن عوف بن عامر میں سے کچھ لوگ جمع ہوئے، اور ان کے ساتھ ساتھ ان کے حلیف قبائل بنو ثقیف اور بنو مالک کو بھی بھڑکا کر شامل کر لیا گیا۔ پھر ان تمام قبیلوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب پیش قدمی شروع کر دی اور مال کے علاوہ عورتوں اور بچوں کو ہمراہ لے چلے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی، تو آپ نے عبدالرحمن بن ابی حدرد اسلمی کو بھیجا تاکہ ان کے حالات معلوم کر کے آئیں اور ہمیں اس کی خبر دیں۔ وہ گئے اور وہاں ایک دن یا دو دن ٹھہرے اور پھر واپس آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی صورت حال سے آگاہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ابن ابی حدرد جو کچھ کہہ رہے ہیں۔ کیا تم وہ نہیں سن رہے ہو؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابن ابی حدرد جھوٹ بول رہا ہے۔ ابن ابی حدرد نے کہا: اگر تم مجھے جھٹلا رہے ہو تو (کوئی بات نہیں) کیونکہ تم اس کو بھی جھٹلا چکے ہو جو مجھ سے افضل ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابن ابی حدرد جو کہہ رہا ہے، آپ نے سنا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اے عمر رضی اللہ عنہ! بے شک میں بھی ضال تھا پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت دے دی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ سے ایک سو زرہیں بمعہ ان کے متعلقات کے منگوائیں، اس نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ ناراضگی کے ساتھ لے رہے ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ بلکہ یہ عاریتاً لے رہے ہیں۔ جو ضائع ہوں گی ان کی ضمان ادا کریں گے۔ اور تمام کی تمام تمہیں واپس کی جائیں گی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حنین کی طرف) پیش قدمی شروع کر دی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4417]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں