المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
36. ذِكْرُ وَفَاةِ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَدَفْنُهُ بِأَيْدِي رَهْطٍ مِنَ الْكُوفَةِ
حضرت ابو ذرؓ کی وفات اور کوفہ کے چند افراد کے ہاتھوں ان کی تدفین
حدیث نمبر: 4421
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، قال: حدّثني بريدة (1) بن سُفيان، عن محمد بن كعب القُرَظي، عن عبد الله بن مسعود قال: لما سارَ رسولُ الله ﷺ إلى تبوكَ جعلَ لا يزالُ يَتخلّف الرجلُ، فيقولون: يا رسول الله، تَخلَّف فلانٌ، فيقول:"دَعُوه، إن يَكُ فيه خيرٌ فسيُلْحِقُه اللهُ بكم، وإن يكُ غيرَ ذلك فقد أراحَكُم اللهُ منه" حتى قيل: يا رسول الله، تَخلّف أبو ذَرّ، وأبطأ به بَعيرُه، فقال رسولُ الله ﷺ:"دَعُوه، إن يَكُ فيه خيرٌ فسيُلْحِقُه اللهُ بكم، وإن يكُ غيرَ ذلك فقد أراحَكُم اللهُ منه"، فتَلَوَّم أبو ذرٍّ على بَعِيره فأبطأَ عليه، فلما أبطأ عليه أخذَ مَتاعَه فجعلَه على ظهرِه، فخرج يتبعُ رسولَ الله ﷺ ماشِيًا، ونزلَ رسول الله ﷺ في بعض مَنازِله، ونظر ناظِرٌ من المسلمين فقال: يا رسول الله، إنَّ هذا الرجلَ يمشي على الطريق، فقال رسولُ الله ﷺ:"كُن أبا ذَرٍّ، فلما تأمّلَه القومُ قالوا: يا رسول الله، هو واللهِ أبو ذَرٍّ! فقال رسول الله ﷺ:"رَحِمَ الله أبا ذَرٍّ، يمشي وحدَه، ويموتُ وحدَه، ويُبعَثُ وحدَه". فضرب الدهرُ من ضَرْبتِه، وسُيِّر أبو ذرٍّ إلى الرَّبَذة، فلما حضرَه الموتُ أوصى امرأتَه وغُلامَه: إذا مِتُّ اعْسِلاني وكَفِّناني، ثم احمِلاني فضَعَاني على قارِعةِ الطريق، فأولُ: رَكْبٍ يَمُرُّون بكم فقولوا: هذا أبو ذرٍّ، فلما ماتَ فعلوا به كذلك، فاطَّلع ركبٌ فما عَلِمُوا حتى كادت ركائبهم تَوَطَّأُ سَريرَه، فإذا ابن مسعودٍ في رهْطٍ من أهل الكُوفة، فقالوا: ما هذا؟ فقيل: جنازة أبي ذرٍّ، فاستهلَّ ابن مسعودٍ يبكي، فقال: صدقَ رسولُ الله ﷺ:"يَرحَمُ اللهُ أبا ذرٍّ، يمشي وحدَه، ويموتُ وحدَه، ويُبعَثُ وحدَه". فنزل فوَلِيَه بنفسِه حتى أَجَنَّه، فلما قَدِمُوا المدينةَ ذُكِر لعثمانَ قولُ عبدِ الله وما وَلِيَ منه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4373 - فيه إرسال
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4373 - فيه إرسال
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کی طرف روانہ ہوئے تو لوگ پیچھے رہنے لگے، صحابہ عرض کرتے: یا رسول اللہ! فلاں شخص پیچھے رہ گیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”اسے چھوڑ دو، اگر اس میں کوئی خیر ہوئی تو اللہ اسے تم سے لا ملائے گا، اور اگر اس کے سوا کچھ ہوا تو اللہ نے تمہیں اس سے راحت دے دی ہے“، یہاں تک کہ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! ابو ذر پیچھے رہ گئے ہیں اور ان کے اونٹ نے انہیں سست کر دیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، اگر اس میں کوئی خیر ہوئی تو اللہ اسے تم سے لا ملائے گا، اور اگر اس کے سوا کچھ ہوا تو اللہ نے تمہیں اس سے راحت دے دی ہے“، ادھر سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے اپنے اونٹ کا تھوڑی دیر انتظار کیا مگر وہ سست رہا، جب تاخیر ہونے لگی تو انہوں نے اپنا سامان اٹھا کر اپنی پیٹھ پر لاد لیا اور پیدل ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ پڑاؤ فرمایا ہوا تھا کہ ایک دیکھنے والے نے دیکھ کر کہا: یا رسول اللہ! یہ ایک شخص راستے پر پیدل چل رہا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کاش یہ ابو ذر ہو“، جب لوگوں نے غور سے دیکھا تو پکار اٹھے: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم یہ تو ابو ذر ہی ہیں! تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ابو ذر پر رحم فرمائے، وہ تنہا چلتا ہے، تنہا مرے گا اور تنہا ہی اٹھایا جائے گا“۔ پھر زمانہ گزرتا گیا اور سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کو مقامِ ربذہ کی طرف منتقل کر دیا گیا، جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے اپنی اہلیہ اور غلام کو وصیت کی: جب میں مر جاؤں تو مجھے غسل دینا، کفن پہنانا اور پھر اٹھا کر شاہراہ کے کنارے رکھ دینا، اور جو پہلا قافلہ تمہارے پاس سے گزرے تو ان سے کہنا کہ یہ ابو ذر ہیں، جب ان کا انتقال ہوا تو انہوں نے ایسا ہی کیا، اچانک ایک قافلہ سامنے آیا تو انہیں خبر نہ ہوئی یہاں تک کہ ان کی سواریاں جنازے کے قریب پہنچ گئیں، اس قافلے میں اہل کوفہ کی ایک جماعت کے ساتھ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہوں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ بتایا گیا کہ یہ ابو ذر کا جنازہ ہے، اس پر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ زار و قطار رونے لگے اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا تھا کہ ”اللہ ابو ذر پر رحم فرمائے، وہ تنہا چلتا ہے، تنہا مرے گا اور تنہا ہی اٹھایا جائے گا“۔ پھر وہ سواری سے اترے اور خود ان کی تدفین کی ذمہ داری سنبھالی یہاں تک کہ انہیں دفن کر دیا، جب وہ مدینہ پہنچے تو امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے سیدنا عبداللہ بن مسعود کا قول اور ان کی تدفین کا تذکرہ کیا گیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4421]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4421]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف بُريدة بن سفيان، ولإرساله كما سيأتي بيانه، ومع ذلك حسَّن هذا الإسناد ابن كثير في "البداية والنهاية" 7/ 159! وقد رُويَت قصة وفاة أبي ذرٍّ بسياق آخر بإسناد أحسن من هذا عن أُم ذرّ، فهو أَولى مما رواه بُريدةُ بن سفيان، ولهذا قال ابن القيم في "زاد ...» [ترقيم الرساله 4421] [ترقيم الشركة 4398] [ترقيم العلميه 4373]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف بُريدة بن سفيان