🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

37. نِدَاءُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي مَوْسِمِ الْحَجِّ بِبَرَاءَةٍ
حج کے موقع پر حضرت علیؓ کا سورۂ براءت کا اعلان کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4422
حدَّثنا أحمد بن كامل القاضي، حدَّثنا أحمد بن محمد بن عيسى البِرْتي، حدَّثنا إسحاق بن بِشْر الكاهِلي، حدَّثنا محمد بن فُضيل، عن سالم بن أبي حَفْصة، عن جُميع بن عُمير اللَّيثي، قال: أتيتُ عبد الله بن عمر فسألتُه عن عليٍّ فانتَهرَني، ثم قال: ألا أُحدِّثك عن عليّ: هذا بيتُ رسولِ الله ﷺ في المسجدِ، وهذا بيت عليٍّ، إنَّ رسولَ الله ﷺ بَعَثَ أبا بكر وعُمر ببراءةَ إلى أهلِ مكة، فانطلقا، فإذا هما براكِبٍ، فقالا: مَن هذا؟ قال: أنا عليٌّ، فقال: يا أبا بكر، هاتِ الكتابَ الذي معك، قال أبو بكر: وما لي يا عليّ؟! قال: والله ما عَلِمتُ إِلَّا خيرًا، فأخذ عليٌّ الكتابَ فذهبَ به، ورجعَ أبو بكر وعُمر إلى المدينة، فقالا: ما لنا يا رسول الله؟! قال:"ما لكما إِلَّا خيرٌ، ولكن قيل لي: إنه لا يُبلِّغُ عنك إلَّا أنت أو رجلٌ منك" (1) .
هذا حديث شاذٌّ والحَمْلُ فيه على جُميع بن عُمير، وبعده على إسحاق بن بِشْر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4374 - شاذ
جمیع بن عمیر لیثی فرماتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں سوال کیا۔ تو انہوں نے مجھے ڈانٹ دیا۔ پھر فرمایا: کیا میں تمہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟ مسجد میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حجرہ ہے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا حجرہ ہے۔ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو براءۃ کا اعلان کرنے کے لئے اہل مکہ کی طرف بھیجا۔ یہ دونوں چلے پڑے۔ تو ان کے سامنے ایک سوار آیا، انہوں نے اس سے پوچھا: تم کون ہو؟ اس نے جواباً کہا: اے ابوبکر رضی اللہ عنہ میں علی ہوں، اور وہ خط مجھے دو جو تمہارے پاس ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہ کیوں؟ انہوں نے کہا: خدا کی قسم! میں بھلائی ہی جانتا ہوں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ وہ خط لے کر آگے گئے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ واپس چلے آئے اور آ کر عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں کیا کمی تھی؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تم میں کوئی کمی نہیں تھی بلکہ) تم میں بھلائی ہی بھلائی تھی لیکن مجھے یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ یہ پیغام یا تو آپ خود دیں یا آپ کی طرف سے آپ کے خاندان کا کوئی فرد پہنچائے۔ ٭٭ یہ حدیث شاذ ہے۔ اس میں جمیع بن عمیر پر اس کے بعد اسحاق بن بشر پر حمل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4422]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4423
حدّثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدَّثنا الحسن بن علي بن شَبِيب المَعْمري، حدَّثنا إبراهيم بن زياد سَبَلان، حدَّثنا عَبّاد بن العوام، عن سفيان بن حُسين، عن الحَكَم، عن مِقسَم، عن ابن عبّاس: أنَّ رسول الله ﷺ بعثَ أبا بكر، وأمرَه أن يُنادي بهؤلاءِ الكَلِمات، فأتبَعَه عليًّا، فبَيْنا أبو بكر ببعضِ الطريق إذ سمع رُغاءَ ناقةِ رسولِ الله ﷺ، فخرج أبو بكر فَزِعًا، فظنَّ أنه رسولُ الله ﷺ، فإذا عليٌّ، فدفع إليه كتابَ رسولِ الله ﷺ قد أمَّرَه على المَوسِم، وأمَر عليًّا أن يُناديَ بهؤلاء الكَلِمات، فقام عليٌّ في أيام التَّشريق فنادَى ﴿أَنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ﴾ ﴿فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ﴾، لا يَحُجَّنَّ بعد العامِ مُشرِكٌ، ولا يَطُوفَنَّ بالبيت عُرْيانٌ، ولا يدخلُ الجنةَ إِلَّا مؤمنٌ، فكان عليٌّ يُنادي بها، فإذا بُحَّ قام أبو هُريرة فنادَى (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد صحَّتِ الروايةُ عن عَليٍّ بشَرْح هذا النِّداء:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4375 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ ان باتوں کا اعلان کر دو، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ان کے پیچھے روانہ کر دیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ابھی راستہ ہی میں تھے کہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی آواز سنائی دی۔ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ گھبرا کر اس آواز کی طرف چل پڑے وہ سمجھے کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں۔ جب پاس پہنچے تو وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ مکتوب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا جس کا حج کے موقع پر اعلان کرنے کا حکم تھا۔ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ان کلمات کا اعلان کر دینا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایام تشریق میں کھڑے ہوئے اور اعلان کر دیا کہ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں سے بیزار ہیں۔ تم زمین میں چار ماہ تک چل پھر لو اور اس سال کے بعد نہ کسی مشرک کو حج کرنے کی اجازت ہو گی اور نہ کوئی ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف کرے گا۔ اور جنت میں صرف ایمان والا ہی جائے گا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ مسلسل یہ اعلان کرتے رہے حتی کہ ان کی اونٹنی بیٹھ گئی۔ تو پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اٹھ کر کھڑے ہوئے اور انہوں نے اعلان کرنا شروع کر دیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس اعلان کی وضاحت کے ہمراہ درج ذیل صحیح حدیث بھی موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4423]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4424
حدَّثَناه أبو بكر أحمد بن إسحاق وعلي بن حَمْشَاذ، قالا: أخبرنا بِشْر بن موسى، حدَّثنا الحُميدي، حدَّثنا سفيان، حدّثني أبو إسحاق الهَمْداني، عن زيد بن يُثَيع، قال: سألْنا عليًّا: بأي شيء بُعثتَ في الحَجَّةِ؟ قال: بُعثتُ بأربعٍ: لا يَدخُلُ الجنةَ إِلَّا نفسٌ مُؤمنةٌ، ولا يَطُوفُ بالبيت عُرْيانٌ، ولا يَجتمعُ مؤمنٌ وكافرٌ في المسجدِ الحَرام بعد عامِهم هذا، ومن كان بينَه وبين النبي ﷺ عهدٌ فعهدُه إلى مُدّتِه، ومن لم يكن له عهدٌ فأجلُه أربعةُ أشهرٍ (1) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4376 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا زید بن یثیع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ کو کیا پیغام دے کر حج کے موقع پر بھیجا گیا تھا؟ انہوں نے فرمایا: چار چیزیں تھیں (1) جنت میں صرف ایمان والا ہی جا سکتا ہے۔ (2) کسی کو بیت اللہ کا طواف برہنہ حالت میں کرنے کی اجازت نہیں۔ (3) اس سال کے بعد مسجد حرام میں مومن اور کافر اکٹھے نہیں ہوں گے۔ (4) جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی مقررہ میعاد تک معاہدہ تھا اس کا معاہدہ اس کی میعاد تک پورا کیا جائے گا اور جس کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا ان کو چار ماہ کی مہلت دی جاتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4424]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں