المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
45. آخِرُ خُطْبَةِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فِي الْحَجِّ .
حج کے موقع پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا آخری خطبہ
حدیث نمبر: 4563
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حَمْشاذَ، قالا: حَدَّثَنَا بِشْر بن موسى، حَدَّثَنَا الحُميدي، حَدَّثَنَا سفيان، حَدَّثَنَا يحيى بن سعيد، أنه سمع سعيد بن المسيّب يقول: لما صَدَرَ عمرُ بن الخطاب عن مِنًى في آخر حَجّة حجَّها أناخ بالبَطْحاء، ثم كوَّم كَوْمةً ببطحاءَ، ثم طرحَ عليها صَيْفَةَ ردائِه، ثم استَلْقى ومدَّ يدَيه إلى السماء، فقال: اللهم كَبِرَ سِنّي، وضَعُفتْ قُوَّتي، وانتشرتْ رَعِيّتي، فاقبِضْني إليك غير مُضيِّع ولا مُفرِّطٍ، ثم قَدِمَ في ذي الحِجّة فخطبَ الناسَ فقال: أيها الناسُ، إنه قد سُنّت لكم السُّنن، وفُرِضَتْ لكم الفرائضُ، وتَركتُكم على الواضحة - وضَرَبَ بإحدى يديه على الأُخرى - إلَّا أن تَمِيلوا بالناس يمينًا وشمالًا. فما انسَلَختْ ذو الحِجّة حتَّى قُتل عمر (1) .
سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے آخری حج کے موقع پر منیٰ سے واپس آئے تو بطحاء کے مقام پر اونٹ بٹھایا، پھر کنکریوں کا ایک ڈھیر بنایا اور اس پر اپنی چادر کا ایک پلو ڈال کر ٹیک لگا لی، پھر اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلائے اور دعا کی: «اللَّهُمَّ كَبِرَ سِنِّي، وَضَعُفتْ قُوَّتِي، وَانْتَشَرَتْ رَعِيَّتِي، فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مُضَيِّعٍ وَلَا مُفَرِّطٍ» ”اے اللہ! میری عمر زیادہ ہو گئی ہے، میری قوت کمزور پڑ گئی ہے اور میری رعایا (کی ذمہ داریاں) پھیل گئی ہیں، لہٰذا تو مجھے اپنی طرف اٹھا لے اس حال میں کہ میں نہ (حقوق) ضائع کرنے والا ہوں اور نہ ہی کوتاہی کرنے والا۔“ پھر آپ ذوالحجہ کے مہینے میں مدینہ تشریف لائے اور لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”اے لوگو! تمہارے لیے سنتیں واضح کر دی گئی ہیں، فرائض مقرر کر دیے گئے ہیں اور میں نے تمہیں ایک روشن شاہراہ پر چھوڑا ہے“، اور آپ نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے پر مار کر (تاکیداً) فرمایا: ”خبردار! کہیں تم لوگوں کو دائیں بائیں نہ جھکا دینا۔“ پس ابھی ذوالحجہ کا مہینہ ختم نہیں ہوا تھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4563]
تخریج الحدیث: «مرسل صحيح الإسناد، ومراسيلُ سعيد بن المسيّب من أصح المراسيل وأقواها، بل أدخل أبو حاتم الرازي مراسيله عن عمر في المسند على المجاز، وذلك لجلالة سعيد. الحُميدي: هو عبد الله بن الزبير الأسدي، وسفيان: هو ابن عُيينة، ويحيى بن سعيد: هو ابن قيس الأنصاري.» [ترقيم الرساله 4563] [ترقيم الشركة 4539]
الحكم على الحديث: مرسل صحيح الإسناد
حدیث نمبر: 4564
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ الجَلّاب، حَدَّثَنَا محمد بن أحمد بن النضر، حَدَّثَنَا معاوية بن عمرو، حَدَّثَنَا زائدة، عن ليث، عن نافع، عن ابن عمر، قال: عاش عمر ثلاثًا بعد أن طُعِن، ثم مات فغُسِّل وكُفِّن (3) .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ زخمی ہونے کے بعد تین دن تک زندہ رہے، پھر ان کی وفات ہو گئی تو انہیں غسل دیا گیا اور کفن پہنایا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4564]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح دون ذكر مكث عمر بن الخطاب بعد طعنه ثلاثًا، فهو ممّا تفرَّد به ليث - وهو ابن أبي سُليم - وهو ليِّن، وقد تابعه على ذكر تغسيل عمر وتكفينه مالك بن أنس في "الموطأ" 2/ 463، وعَبْد الله بن عمر العُمري عند عبد الرزاق (9592)، وموسى بن عقبة ...» [ترقيم الرساله 4564] [ترقيم الشركة 4540]
الحكم على الحديث: خبر صحيح دون ذكر مكث عمر بن الخطاب بعد طعنه ثلاثًا