🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

81. الدَّفْعُ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ .
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا دفاع
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4651
فحدَّثَناه أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا علي بن المُنذر، حدثنا ابن فُضيل، حدثنا مُسلم المُلائي، عن خَيثمة بن عبد الرحمن، قال: سمعت سعدَ بن مالك وقال له رجلٌ: إِنَّ عليًّا يقعُ فيك أنك تخلّفتَ عنه، فقال سعدٌ: واللهِ إنه لرأيٌ رأيتُه، وأخطأَ رأبي، إنَّ عليّ بن أبي طالب أُعطيَ ثلاثًا، لأن أكونَ أُعطيتُ إحداهُنّ أحبُّ إليَّ من الدنيا وما فيها، لقد قال له رسولُ الله ﷺ يومَ غَدير خُمٍّ بعدَ حمدِ الله والثناءِ عليه:"هل تعلمون أني أَولى بالمؤمنين من أنفُسِهم؟" قلنا: نعم، قال:"اللهم مَن كنتُ مولاهُ فعليٌّ مولاه، اللهم والِ من والاهُ، وعادِ من عاداهُ". وجيءَ به يومَ خَيبَر وهو أرمَدُ ما يُبصِرُ، فقال: يا رسول الله، إني أرمَدُ، فَتَفَلَ في عينَيه ودعا له، فلم يَرمَدْ حتى قُتِل، وفُتِحَ عليه خيبرُ. وأخرج رسول الله ﷺ عمَّه العباسَ وغيرَه من المسجد، فقال له العباسُ: تُخرِجُنا ونحن عُصْبتُك وعُمومتُك وتُسكِنُ عليًا؟ فقال:"ما أنا أخرَجَكُم وأسَكَنَه، ولكنّ الله أخرجَكُم وأسكَنَه" (1) وأما ما ذُكر من اعتزال أبي مسعود الأنصاري وأبي موسى الأشعري، فإنَّ أمير المؤمنين ﵁ وَجَّهَ إلى الكوفة لأَخْذ البيعةِ له محمدًا ابنَه ومحمدَ بن أبي بكر، وكان على الكوفة أبو موسى الأشعري وأبو مسعود، فامتنع أبو موسى أن يُبايع، فرجعا إلى أمير المؤمنين، فبعث الحسنَ ابنَه ومالكَ الأشْتَر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4601 - سكت الحاكم عن تصحيحه
خثیمہ بن عبدالرحمن سے مروی ہے کہ میں نے سیدنا سعد بن مالک (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کو یہ فرماتے ہوئے سنا جبکہ ایک شخص نے ان سے کہا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ کے بارے میں یہ فرماتے ہیں کہ آپ ان کا ساتھ دینے سے پیچھے رہ گئے ہیں، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! یہ ایک رائے تھی جو میں نے قائم کی تھی اور میری وہ رائے غلط ثابت ہوئی، بے شک علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو تین ایسی خصوصیات عطا کی گئی ہیں کہ اگر ان میں سے ایک بھی مجھے مل جاتی تو وہ میرے لیے دنیا اور اس کی تمام نعمتوں سے زیادہ محبوب ہوتی۔ (پہلی یہ کہ) غدیرِ خم کے دن اللہ کی حمد و ثنا کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے متعلق فرمایا تھا: کیا تم جانتے ہو کہ میں مومنوں کی جانوں پر ان سے زیادہ حق رکھتا ہوں؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» اے اللہ! جس کا میں مولا ہوں، علی اس کا مولا ہے، اے اللہ! جو اس سے محبت رکھے تو اس سے محبت رکھ اور جو اس سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی رکھ۔ (دوسری یہ کہ) خیبر کے دن انہیں لایا گیا جبکہ ان کی آنکھیں دکھ رہی تھیں اور انہیں کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میری آنکھیں دکھ رہی ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعابِ دہن ڈالا اور ان کے لیے دعا فرمائی، پھر شہادت تک ان کی آنکھیں کبھی نہیں دکھیں اور خیبر ان کے ہاتھوں فتح ہوا۔ (تیسری یہ کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا سیدنا عباس اور دیگر لوگوں کو مسجد سے نکل جانے کا حکم دیا (ان کے دروازے بند کروا دیے)، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: (اے اللہ کے رسول!) آپ ہمیں نکال رہے ہیں حالانکہ ہم آپ کے قریبی رشتہ دار اور چچا ہیں اور علی کو مسجد میں رہنے کی اجازت دے رہے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں نہیں نکالا اور نہ ہی انہیں وہاں بسایا ہے، بلکہ اللہ نے تمہیں (مسجد سے) نکالنے اور انہیں وہاں ٹھہرانے کا حکم دیا ہے۔ رہی بات ابومسعود انصاری اور ابوموسیٰ اشعری کے الگ تھلگ رہنے کے متعلق، تو حقیقت یہ ہے کہ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے بیعت لینے کے لیے اپنے صاحبزادے محمد (بن حنفیہ) اور محمد بن ابوبکر کو کوفہ روانہ کیا تھا، اس وقت کوفہ میں ابوموسیٰ اشعری اور ابومسعود موجود تھے، تو ابوموسیٰ نے بیعت سے انکار کر دیا، پھر وہ دونوں امیر المؤمنین کے پاس واپس آگئے تو آپ نے اپنے صاحبزادے سیدنا حسن اور مالک اشتر کو روانہ فرمایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4651]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا من أجل مسلم الملائي، فإنه متروك، لكنه متابع على القصتين الأولى والثانية في هذا الخبر.» [ترقيم الرساله 4651] [ترقيم الشركة 4627] [ترقيم العلميه 4601]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا من أجل مسلم الملائي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں