المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
85. قول النبي صلى الله عليه وآله وسلم لعلي أنت مني وأنا منك والخالة أم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمانا: تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں، اور خالہ ماں کے درجے میں ہوتی ہے
حدیث نمبر: 4664
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن هُبيرة بن بَرِيم وهانئ ابن هانئ، عن عليٍّ قال: لما خرجْنا من مكةَ اتَّبعتْنا ابنةُ حمزةَ، فنادت: يا عمِّ، يا عمِّ، فأخذتُ بيدِها فناولتُها فاطمةَ، قلت: دونَكِ ابنة عمّك، فلما قَدِمْنا المدينةَ اختصمْنا فيها أنا وزيدٌ وجعفرٌ، فقلتُ: أنا أخذتُها وهي ابنةُ عمِّي، وقال: زيدٌ: ابنةُ أخي، وقال جعفرٌ: ابنةُ عمِّي وخالتُها عندي، فقال رسول الله ﷺ لجعفر:"أشبهتَ خَلْقي وخُلُقي"، وقال لزيد:"أنت أخونا ومَوْلانا"، وقال لي:"أنت منِّي وأنا منك، ادفعُوها إلى خالتِها، فإنَّ الخالةَ أمٌّ"، فقلت: ألا تَزَوَّجُها يا رسول الله؟ قال:"إنها ابنةُ أخي من الرَّضَاعة" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه الألفاظ، إنما اتفقا على حديث أبي إسحاق عن البراء مختصرًا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4614 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه الألفاظ، إنما اتفقا على حديث أبي إسحاق عن البراء مختصرًا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4614 - صحيح
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ہم مکہ سے نکلے تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ہمارے پیچھے آئیں اور پکارا: اے چچا! اے چچا! میں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور انہیں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حوالے کرتے ہوئے کہا: اپنی چچا زاد بہن کو سنبھالو۔ جب ہم مدینہ پہنچے تو ان کی پرورش کے بارے میں میرا، سیدنا زید اور سیدنا جعفر رضی اللہ عنہم کا اختلاف ہو گیا، میں نے کہا: میں نے انہیں ساتھ لیا ہے اور وہ میری چچا زاد ہیں، سیدنا زید نے کہا: وہ میرے (دینی) بھائی کی بیٹی ہیں، اور سیدنا جعفر نے کہا: وہ میری چچا زاد ہیں اور ان کی خالہ (اسماء بنت عمیس) میرے نکاح میں ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر سے فرمایا: ”تم صورت اور سیرت میں مجھ سے مشابہ ہو،“ اور زید سے فرمایا: ”تم ہمارے بھائی اور آزاد کردہ غلام ہو،“ اور مجھ سے فرمایا: ”تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں،“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: ”بچی کو اس کی خالہ کے سپرد کر دو کیونکہ خالہ ماں کے درجے میں ہوتی ہے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ ان سے نکاح نہیں فرمائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، البتہ انہوں نے براء بن عازب سے مروی ابو اسحاق کی مختصر روایت پر اتفاق کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4664]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، البتہ انہوں نے براء بن عازب سے مروی ابو اسحاق کی مختصر روایت پر اتفاق کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4664]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل هانئ بن هانئ وهُبيرة بن يَرِيم، فهما حسنا الحديث، وبمتابعة أحدهما للآخر يصح الحديث إن شاء الله، على أنَّ أبا إسحاق - وهو عمرو بن عبد الله السَّبيعي - رواه أيضًا عن البراء بن عازب، وأبو إسحاق واسع الرواية، فكلتا الروايتين عنه محفوظتان، ...» [ترقيم الرساله 4664] [ترقيم الشركة 4640] [ترقيم العلميه 4614]
الحكم على الحديث: حديث صحيح